صفائی کا کام بند جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگ گئے

کچرے کی بدبو اور تعفن سے شہریوں کا جینا دوبھر ہوگیا، وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ

علاقوں میں کچرے کے ڈھیر لگ جانے کے باعث بدبو اور تعفن سے شہریوں کا جینا دوبھر ہوگیا اور وبائی امراض پھوٹنے کا خد شہ ہے۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
صوبائی حکومت کی جانب سے کراچی کے بلدیاتی اداروں کو فنڈز کی مکمل فراہمی نہ ہونے کے باعث بیشتر علاقوں میں صفائی ستھرائی کا کام بند ہوگیا ۔

علاقوں سے لینڈفل سائیڈوں تک کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا کام شہرکے کئی زونز میں ٹھپ پڑا ہے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیرلگ گئے جبکہ بعض جگہوں پر جزوی طور پرصفائی ستھرائی کے کاموں پر عملدرآمد کیا جارہا ہے، علاقوں میں کچرے کے ڈھیر لگ جانے کے باعث بدبو اور تعفن سے شہریوں کا جینا دوبھر ہوگیا اور وبائی امراض پھوٹنے کا خد شہ ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے افسران فنڈز کی کمی کا رونا روتے ہیں تاہم بڑی بڑی سرکاری لگژری گاڑیاں بدستور ان کے زیر استعمال ہیں جبکہ اداروں کی اس جنگ میں عوام کاکچومر نکل گیا ہے، باخبر ذرائع کے مطابق حکومت سندھ کی عدم دلچسپی کے باعث بلدیاتی اداروں کوآکٹرائے ضلع ٹیکس کی مد میں 50فیصد کٹوتی کرکے فنڈز جاری ہورہے ہیں تاہم پراپرٹی ٹیکس کی مد میں ضلعی اداروں کا شیئر ایک سال سے بند ہے،ان وجوہات کے باعث ڈی ایم سیز کوشدید مالی بحران کا سامنا ہے۔


گذشتہ سال سے رواں مالی سال تک پراپرٹی ٹیکس اور آکٹرائے ضلع ٹیکس کی مد میں بالترتیب بلدیہ شرقی13کروڑ روپے اور7کروڑ، بلدیہ جنوبی 26کروڑ اور 13کروڑ روپے ، بلدیہ ملیر تین کروڑ روپے، بلدیہ وسطی 12 کروڑ اور 28کروڑ روپے اور بلدیہ غربی کو 16-16کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے، مالی بحران کے باعث بلدیہ شرقی میںکچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا کام دو دن سے مکمل طور پر بند ہے ،بلدیہ شرقی میں روزانہ 1200ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے۔

تاہم پیٹرولیم کمپنی نے 3کروڑ روپے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ڈیزل کی فراہمی بند کردی جبکہ ٹھیکیداروں نے 6کروڑ روپے کی عدم ادائیگی کے باعث گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن سے لینڈ فل سائٹ تک کچرا ڈمپ کرنے کا کام مکمل طور پر بند کردیا ہے،اس وقت گلشن اقبال، محمود آباد، اخترکالونی، پی ای سی ایچ ایس، کورنگی ، شاہ فیصل کالونی اور دیگر علاقوں کی سڑکوں وگلیوں میں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے،ضلع جنوبی میں صفائی ستھرائی پر جزوی طور پر عملدرآمد ہورہا ہے، مجموعی طور پر ضلع جنوبی میں 1100ٹن کچرا پیدا ہورہا ہے۔

تاہم گاڑیوں کی خرابی اور ڈیزل کی کم فراہمی کے باعث 70فیصد کچرا نہیں اٹھایا جارہا ہے،ضلع جنوبی پر پیٹرول کمپنی کے 7کروڑ روپے واجب الادا ہیں،ذرائع نے بتایا کہ ضلع غربی، وسطی اور ملیر میں بھی فنڈز کی کمی کے باعث کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا کام شدید متاثر ہے۔
Load Next Story