مقدمہ درج نہ کرنے پر ایس ایچ او آرام باغ کو طلب کرلیا گیا

میں نے اور دیگر افسران نے گاڑیوں کی آڑ میں اپنی جان بچائی، انسپکٹر سرفراز احمد

ڈی ایس پی مقصود افسران سے تلخ کلامی کررہے تھے اور روکنے پر اسلحہ نکال لیا،انسپکٹر سرفراز۔ فوٹو: فائل

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی شاہد حسین چانڈیو نے سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں اعلیٰ افسران کے آوٹ آف ٹرن پرموشن کیس کی پیشی کے بعد ڈی ایس پی مقصود کی ایما پر اہلکاروں کی جانب سے افسران پر قتل کرنے کی نیت سے اسلحہ تاننے پر ایس ایچ او تھانہ آرام باغ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 ستمبر کو عدالت میں طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو درخواست گزار انسپکٹر سرفراز احمد نے وکیل محمد حنیف سما ایڈووکیٹ کے توسط سے ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 22/A کے تحت دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ گذشتہ روز وہ اپنے افسر کے ہمراہ سپریم کورٹ رجسٹری کراچی پیشی کے موقع پر موجود تھا، پیشی کے بعد ڈی ایس پی مقصود سادہ لباس میں ملبوس جہاں زیب، خدا بخش و دیگر اہلکاروں کے ہمراہ پولیس کے اعلیٰ افسران سے تلخ کلامی کررہے تھے جنھیں منع کیا گیا۔


لیکن انھوں نے طیش میں آکر اپنے اہلکاروں کو حکم دیا کہ انھیں پکڑو اور قتل کی نیت سے اسلحہ تان لیا، میں نے اور دیگر افسران نے گاڑیوں کی آڑ میں اپنی جان بچائی اور چلے گئے، واقعے کی فوری رپورٹ تھانہ آرام باغ کو دی لیکن ایس ایچ او نے پولیس افسر اور دیگر کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کردیا، درخواست میں مذکورہ پولیس افسرودیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی ہے۔

علاوہ ازیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی عبداﷲ چنہ نے عدالتی حکم عدولی پر تھانہ اقبال مارکیٹ کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو فوری حراست میں لینے کا حکم دیا تھا ، عدالت کے حکم پر اے ایس آئی کو حراست میں لیا گیا تاہم جیل بھیجنے کا حکم سنتے ہی پولیس افسر نے عدالت سے تحریری معافی طلب کی فاضل عدالت نے کراچی بار کے وکلا کی استدعا پر معاف کردیا اور آئندہ سماعت پر ملزمان کی شناخت پریڈ رپورٹ مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے آخری وارننگ دی ہے۔

استغاثہ کے مطابق تھانہ اقبال مارکیٹ نے ڈکیتی کے الزام میں ملوث مسماۃ مریم ، عمر ، ذیشان ، آصف اور معین الدین کو گرفتار کیا تھا تفتیش مذکورہ پولیس افسر کو دی گئی تھی فاضل عدالت نے متعدد بار نوٹس جاری کیے اور متعدد بار طلب کیا تھا شوکاز نوٹس بھی جاری کیے۔
Load Next Story