مصباح الحق بھی نوجوان پلیئرز کی پرفارمنس پر جھوم اٹھے

ٹیل اینڈرز نے 200 کے پار لگایا، بولرز نے بھی عمدگی سے کمزور ہدف کا دفاع کیا، کپتان

پہلے ون ڈے میں کامیابی پر میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے،کپتان۔ فوٹو: فائل

کپتان مصباح الحق بھی نوجوان پلیئرز کی پرفارمنس پر جھوم اٹھے، ان کا کہنا ہے کہ پہلے ون ڈے میں کامیابی پر میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے، انور علی اور بلاول بھٹی نے شاندار کھیل پیش کیا۔

مین آف دی میچ انور کا کہنا ہے کہ ہم نے پورے پچاس اوورز کھیلنے کو اپنا ہدف بنایا تھا۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ پر پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں 23 رنز کی فتح پر مصباح الحق کا کہنا ہے کہ کوئی بھی میری خوشی کا اندازہ نہیں لگا سکتا، خاص طور پر یہ ہمیں نئے کھلاڑیوں کی مدد سے حاصل ہوئی ہے، ہمارا پلان نئی گیند کو احتیاط سے کھیلتے ہوئے رن ریٹ کو 4، 4.25 کے قریب رکھنا اور آخر میں رنز کی رفتار تیز کرنا تھی مگر بدقسمتی سے بیٹسمین اچھے آغاز کے بعد وکٹیں گنواتے رہے مگر انور علی اور بلاول بھٹی نے اسکور کو 200 کے پار پہنچایا اور بولرز نے بھی عمدہ پرفارمنس سے قدرے کمزور ہدف کا کامیابی سے دفاع کیا، بلاول بھٹی پاکستان میں کافی اچھی بولنگ کرتے رہے ہیں، انھیں اپنی لائن اور لینتھ پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، انھیں یہاں پر بھی بہتر پرفارم کرتے ہوئے دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔




مین آف دی میچ انور علی کا کہنا ہے کہ میں وکٹ پر اپنی بیٹنگ سے لطف اندوز ہونا اور نیچرل کھیل پیش کرنا چاہتا تھا، میری بلاول بھٹی سے یہی بات ہوئی کہ ہمیں پورے 50 اوورز تک کھیلنا اور اسکور کو 250 تک لے جانا ہے، ہم ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی ایک ساتھ بہت سی کرکٹ کھیل چکے جس کی وجہ سے ہمارے درمیان انڈر اسٹینڈنگ تھی، آغاز میں میں تھوڑا نروس تھا مگر وکٹ پر زیادہ وقت گزارنے سے میرااعتماد بحال ہوتا چلا گیا۔جنوبی افریقی کپتان ابراہم ڈی ویلیئرز کا کہنا تھا کہ ہمارے بولرز نے شروع میں گرین شرٹس پر اچھا حملہ کیا اور ان کی سات وکٹیں گرادیں مگر پھر ڈھیلے پڑگئے پھر بھی ہمیں پاکستان کے ٹوٹل سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا لیکن بدقسمتی سے ہمارے بیٹسمین بہتر کھیل نہیں پائے اور پریشر بڑھنے لگا، پارٹنرشپس کی عدم موجودگی بھی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے، وکٹ بیٹنگ کے لیے موزوں نہیں تھی، ہمیں امید ہے کہ اگلے میچز میں جیک کیلس جیسے تجربہ کار کھلاڑی ہمیں فتوحات دلائیں گے۔
Load Next Story