شام میں شدید جھڑپیں 2 دن کے دوران فوجیوں اور باغیوں سمیت 160 افراد ہلاک
سرکاری فورسز اور باغیوں میں دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں شدید لڑائی جاری
لڑائی جمعے کو شروع ہوئی جب باغیوں نے غوطہ میں سرکاری فوج کی چیک پوسٹوں پر حملے شروع کیے۔ فوٹو؛فائل
شام میں 2 دنوں کے دوران جھڑپوں میں سرکاری فوجیوں اور باغیوں سمیت 160افراد ہلاک ہوگئے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں شدید لڑائی جاری ہے جس میں 160 فوجی اور باغی مارے گئے، ہلاک ہونے والوں میں 55 باغی اور 41 القاعدہ کے جنگجو شامل ہیں جبکہ 36 سرکاری فوجی بھی مارے گئے۔ مرنے والوں میں عراقی شیعہ گروپ کے 20 ارکان بھی شامل ہیں جو سرکاری فوج کا ساتھ دے رہے ہیں۔ حزب اللہ بھی سرکاری فوج کے ساتھ باغیوں کیخلاف لڑ رہی ہے۔ تازہ جھڑپیں اس لیے ہورہی ہیں کہ سرکاری فوج کی صوبہ دمشق میں پیش قدمی جاری ہے جس کے باعث باغیوں کی دارالحکومت دمشق اور جنوبی اضلاع میں سپلائی لائن کٹ گئی ہے۔ لڑائی جمعے کو شروع ہوئی جب باغیوں نے غوطہ میں سرکاری فوج کی چیک پوسٹوں پر حملے شروع کیے۔
باغی سرکاری فوج کا علاقے میں محاصرہ توڑنا چاہتے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق شام میں 3سالہ خانہ جنگی میں 11ہزار سے زائد بچے ہلاک ہو گئے ہیں جن میں سے سیکڑوں کو دور مار بندوقوں سے مارا گیا۔ مرنے والوں میں 128 بچے وہ بھی شامل ہیں جو کیمیائی ہتھیاروں کی وجہ سے مارے گئے۔ برطانوی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ قتل ہونے والے بچوں میں 2 سالہ بچے بھی شامل ہیں۔ لندن میں واقع آکسفورڈ ریسرچ گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر بچوں کی اموات بموں یا شیلنگ میں ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شام میں 2011ء سے لے کر اکتوبر 2013ء تک 11ہزار 420بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ہلاک ہونے والے تمام بچوں کی عمریں 17سال یا اس سے کم ہیں۔100بچے تشدد سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک یا 2 سال کی عمر کے بچوں میں اکثریت لڑکوں کی ہے۔ بچوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں حلب میں ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں کیونکہ کئی علاقوں تک ریسرچ گروپ کو رسائی نہیں مل سکی، مارے گئے بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں شدید لڑائی جاری ہے جس میں 160 فوجی اور باغی مارے گئے، ہلاک ہونے والوں میں 55 باغی اور 41 القاعدہ کے جنگجو شامل ہیں جبکہ 36 سرکاری فوجی بھی مارے گئے۔ مرنے والوں میں عراقی شیعہ گروپ کے 20 ارکان بھی شامل ہیں جو سرکاری فوج کا ساتھ دے رہے ہیں۔ حزب اللہ بھی سرکاری فوج کے ساتھ باغیوں کیخلاف لڑ رہی ہے۔ تازہ جھڑپیں اس لیے ہورہی ہیں کہ سرکاری فوج کی صوبہ دمشق میں پیش قدمی جاری ہے جس کے باعث باغیوں کی دارالحکومت دمشق اور جنوبی اضلاع میں سپلائی لائن کٹ گئی ہے۔ لڑائی جمعے کو شروع ہوئی جب باغیوں نے غوطہ میں سرکاری فوج کی چیک پوسٹوں پر حملے شروع کیے۔
باغی سرکاری فوج کا علاقے میں محاصرہ توڑنا چاہتے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق شام میں 3سالہ خانہ جنگی میں 11ہزار سے زائد بچے ہلاک ہو گئے ہیں جن میں سے سیکڑوں کو دور مار بندوقوں سے مارا گیا۔ مرنے والوں میں 128 بچے وہ بھی شامل ہیں جو کیمیائی ہتھیاروں کی وجہ سے مارے گئے۔ برطانوی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ قتل ہونے والے بچوں میں 2 سالہ بچے بھی شامل ہیں۔ لندن میں واقع آکسفورڈ ریسرچ گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر بچوں کی اموات بموں یا شیلنگ میں ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شام میں 2011ء سے لے کر اکتوبر 2013ء تک 11ہزار 420بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ہلاک ہونے والے تمام بچوں کی عمریں 17سال یا اس سے کم ہیں۔100بچے تشدد سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک یا 2 سال کی عمر کے بچوں میں اکثریت لڑکوں کی ہے۔ بچوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں حلب میں ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں کیونکہ کئی علاقوں تک ریسرچ گروپ کو رسائی نہیں مل سکی، مارے گئے بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔