’’فیشن پریڈ‘‘
پاکستانی ڈیزائنرز کے ملبوسات لندن میں بسنے والی خواتین کی توجہ کا مرکز بن گئے
پاکستانی ڈیزائنرز کے ملبوسات لندن میں بسنے والی خواتین کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ فوٹو : فائل
KARACHI:
فیشن کے رنگوں نے تمام عمر کے لوگوں کواپنا متوالا بنارکھا ہے۔ آئے دن معروف ڈیزائنرزاپنی خداداد صلاحیتوں کے بل پرایسے ملبوسات تیارکررہے ہیں جولوگوں کی شخصیت کو پرکشش بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس سلسلہ میں پاکستان فیشن انڈسٹری سے وابستہ معروف ڈیزائنر بھی پاک وطن کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کیلئے کوشاں ہیں۔ موجودہ دور میں فیشن انڈسٹری بہت سے سنگ میل پارکرتی ہوئی اب مغربی دنیا تک پہنچ رہی ہے۔ ہمارے کلچر کی عکاسی کرتے ملبوسات مغربی ممالک میں بسنے والوں کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ ایک طرف تو خوبصورت رنگوں میں تیار کردہ ملبوسات ہیں اور پھر ان کو جس مہارت کے ساتھ سجایا، سنوارا جاتا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات اب لندن میں بسنے والی خواتین بھی استعمال کرنے لگی ہیں۔
بلکہ دیارغیر میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی تو شادی بیاہ اور اسی طرح کی دیگر رسومات پر پاکستانی ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات کو ہی ترجیح دیتی ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور اس کی ایک مثال ہمیں چند روز قبل لندن کے مقامی ہال میں ہونے والی ''فیشن پریڈ'' میں دیکھنے کو ملی جب پاکستانی ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات زیب تن کرکے معروف برطانوی ماڈلز ریمپ پر جلوہ گر ہوئیں تو حاضرین داد دیئے بغیر نہ رہے سکے۔
واضح رہے کہ ''فیشن پریڈ'' کاانعقاد پاکستان کی معروف پی آر کمپنی 'انسائیکلومیڈیا' نے کیا تھا جبکہ لندن میں دیگرانتظامات برطانوی ادارے ''مستنگ پروڈکشنز'' نے سنبھال رکھے تھے۔
برطانیہ کے شہرلندن میں ہونیوالی ''فیشن پریڈ'' میں پاکستان سے معروف ڈریس ڈیزائنرماہین خان، نومی انصاری، ثانیہ مسکاٹیا، مشعال معظم، لیلیٰ چتر، سارہ روحیل اصغر اور نازنین طارق کے ملبوسات تھے جبکہ بھارت سے ستیاپال اورترن تیلانی نے بھی شومیں اپنے ڈریسز متعارف کروائے۔ شومیں برطانیہ کی ٹاپ ماڈلز ریمپ پرجلوہ گرہوئیں جنہوں نے ملبوسات کے ساتھ جیولری، ہیئر سٹائلنگ اور دیگر اشیاء کو متعارف کروایا۔ ریمپ پر چلتی معروف ماڈلز فیشن کی جدت اورپاکستانی ثقافت کی عکاسی کررہی تھیں جبکہ بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات میں مغرب کی جھلک نمایاں تھیں۔ اس طرح سے ''فیشن پریڈ'' مشرق اور مغرب کا خوبصورت ' فیوژن ' محسوس ہورہی تھی۔ اس موقع پر لندن میں بسنے والی پاکستانی اور ہندوستانی کمیونٹی کے علاوہ فیشن ورلڈ کی معروف شخصیات بھی موجود تھیں جنہوں نے ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات کو دیکھا اور ان کے کام کو بے حد سراہا۔
لندن میں '' فیشن پریڈ '' کے کامیاب انعقاد پر انسائیکلو میڈیا کی روح رواں عمارہ حکمت نے ''ایکسپریس'' کو وطن واپسی پر انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ دیارغیر میں پاکستانی کلچر کی عکاسی کرنے کا تجربہ بہت کامیاب رہا۔ ہمارے ملک کے معروف ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات کو بہت پسند کیا گیا۔ خاص طور پر نوجوان لڑکیاں جن کی پرورش برطانیہ میں ہوئی ہے اور وہ زیادہ تر اپنے پہناوے میں ترجیح جینز، ٹی شرٹس کو دیتی ہیں، وہ بھی ہمارے ملبوسات کو پسند کررہی تھیں۔
یہی نہیں برطانیہ کی معروف ماڈلز بھی ہمارے ڈیزائنرز کے ملبوسات سے بہت متاثر ہوئیں اوراس کا اظہارانہوں نے بھارتی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی کیا۔ یہ پاکستان اوربھارت کے معروف ڈیزائنرز کے موسم سرما کی مناسبت سے تیارکردہ ملبوسات کے نئے ڈیزائنوں پرمشتمل شو تھا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہماری پارٹنر 'مستنگ پروڈکشنز' کی سی ای او سعدیہ صدیقی تھیں۔ جنہوں نے لندن میں ہال کی بکنگ ، ڈیزائنرز کا ہوٹل میں قیام اوردیگر اہم کاموں کو لندن میں حتمی شکل دی۔ ان کی شب وروز محنت کی وجہ سے ہمیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ دوسری جانب معروف ڈیزائنر نومی انصاری کا کہنا تھا کہ پاکستان فیشن انڈسٹری اب دنیا کے بیشترممالک میں اپنی پہچان بنارہی ہے۔ ہمارے ملبوسات اوران کاانداز مغربی دنیا میں بہت مقبول ہورہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مغرب اور مشرق کے کلچر کی عکاسی کرتے ملبوسات بھی تیار کریں جس کا اچھا رسپانس ملتا ہے۔ '' فیشن پریڈ'' میں لندن میں بسنے والی اہم شخصیات کے ساتھ معروف فیشن ہاؤسز کے لوگوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی، جنہوں نے شو میں ہمارے ملبوسات دیکھ کر مستقبل میں مل کرکام کرنے کی پیشکش کی۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ پاکستان سے ' فیشن پریڈ' کا حصہ بننے والے تمام ڈیزائنرز نے برطانیہ کے رہن، سہن اور کلچر کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے ڈریسز بھی تیارکررکھے تھے جو فیشن کی بین الاقوامی مارکیٹ کے عین مطابق تھے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتے تھے کہ ہم کسی سے کم نہیں ہیں۔ جہاں تک بات ''انسائیکلو میڈیا'' کی ہے تویہ ان کی عمدہ کاوش تھی جس کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے۔
لندن میں 'مستنگ پروڈکشنز' نے بھی ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا اوراسی لئے یہ شو بہت سپیشل رہا۔ 'مستنگ پروڈکشنز' کی چیف ایگزیکٹوسعدیہ صدیقی نے لندن سے فون پربات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی ڈیزائنرز بہت تیزی کے ساتھ فیشن ورلڈ میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان میں فیشن کے بدلتے رجحانات کی پسندیدگی اور پڑھے لکھے نوجوانوں کا فیشن انڈسٹری میں آنا ہے۔ فرانس ، اٹلی اوردیگریورپی ممالک میں پاکستانی ڈیزائنرز کے ملبوسات کوبہت پسند کیا جاتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب یورپ کے معروف فیشن ہاؤسز میں پاکستانی ڈیزائنرز کے تیارکردہ ملبوسات بھی موجود ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا جو بہت کامیاب رہا ہے اور اب ہم آئندہ برس بھی بہت بڑے پیمانے پر فیشن شو کا انعقاد کریں گے جس میں مغربی ممالک کے معروف ڈیزائنر بھی پاکستانی ڈیزائنرز کے ساتھ مل کر اپنے ملبوسات متعارف کروائیں گے۔
فیشن کے رنگوں نے تمام عمر کے لوگوں کواپنا متوالا بنارکھا ہے۔ آئے دن معروف ڈیزائنرزاپنی خداداد صلاحیتوں کے بل پرایسے ملبوسات تیارکررہے ہیں جولوگوں کی شخصیت کو پرکشش بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس سلسلہ میں پاکستان فیشن انڈسٹری سے وابستہ معروف ڈیزائنر بھی پاک وطن کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کیلئے کوشاں ہیں۔ موجودہ دور میں فیشن انڈسٹری بہت سے سنگ میل پارکرتی ہوئی اب مغربی دنیا تک پہنچ رہی ہے۔ ہمارے کلچر کی عکاسی کرتے ملبوسات مغربی ممالک میں بسنے والوں کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ ایک طرف تو خوبصورت رنگوں میں تیار کردہ ملبوسات ہیں اور پھر ان کو جس مہارت کے ساتھ سجایا، سنوارا جاتا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات اب لندن میں بسنے والی خواتین بھی استعمال کرنے لگی ہیں۔
بلکہ دیارغیر میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی تو شادی بیاہ اور اسی طرح کی دیگر رسومات پر پاکستانی ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات کو ہی ترجیح دیتی ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور اس کی ایک مثال ہمیں چند روز قبل لندن کے مقامی ہال میں ہونے والی ''فیشن پریڈ'' میں دیکھنے کو ملی جب پاکستانی ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات زیب تن کرکے معروف برطانوی ماڈلز ریمپ پر جلوہ گر ہوئیں تو حاضرین داد دیئے بغیر نہ رہے سکے۔
واضح رہے کہ ''فیشن پریڈ'' کاانعقاد پاکستان کی معروف پی آر کمپنی 'انسائیکلومیڈیا' نے کیا تھا جبکہ لندن میں دیگرانتظامات برطانوی ادارے ''مستنگ پروڈکشنز'' نے سنبھال رکھے تھے۔
برطانیہ کے شہرلندن میں ہونیوالی ''فیشن پریڈ'' میں پاکستان سے معروف ڈریس ڈیزائنرماہین خان، نومی انصاری، ثانیہ مسکاٹیا، مشعال معظم، لیلیٰ چتر، سارہ روحیل اصغر اور نازنین طارق کے ملبوسات تھے جبکہ بھارت سے ستیاپال اورترن تیلانی نے بھی شومیں اپنے ڈریسز متعارف کروائے۔ شومیں برطانیہ کی ٹاپ ماڈلز ریمپ پرجلوہ گرہوئیں جنہوں نے ملبوسات کے ساتھ جیولری، ہیئر سٹائلنگ اور دیگر اشیاء کو متعارف کروایا۔ ریمپ پر چلتی معروف ماڈلز فیشن کی جدت اورپاکستانی ثقافت کی عکاسی کررہی تھیں جبکہ بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات میں مغرب کی جھلک نمایاں تھیں۔ اس طرح سے ''فیشن پریڈ'' مشرق اور مغرب کا خوبصورت ' فیوژن ' محسوس ہورہی تھی۔ اس موقع پر لندن میں بسنے والی پاکستانی اور ہندوستانی کمیونٹی کے علاوہ فیشن ورلڈ کی معروف شخصیات بھی موجود تھیں جنہوں نے ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات کو دیکھا اور ان کے کام کو بے حد سراہا۔
لندن میں '' فیشن پریڈ '' کے کامیاب انعقاد پر انسائیکلو میڈیا کی روح رواں عمارہ حکمت نے ''ایکسپریس'' کو وطن واپسی پر انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ دیارغیر میں پاکستانی کلچر کی عکاسی کرنے کا تجربہ بہت کامیاب رہا۔ ہمارے ملک کے معروف ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات کو بہت پسند کیا گیا۔ خاص طور پر نوجوان لڑکیاں جن کی پرورش برطانیہ میں ہوئی ہے اور وہ زیادہ تر اپنے پہناوے میں ترجیح جینز، ٹی شرٹس کو دیتی ہیں، وہ بھی ہمارے ملبوسات کو پسند کررہی تھیں۔
یہی نہیں برطانیہ کی معروف ماڈلز بھی ہمارے ڈیزائنرز کے ملبوسات سے بہت متاثر ہوئیں اوراس کا اظہارانہوں نے بھارتی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی کیا۔ یہ پاکستان اوربھارت کے معروف ڈیزائنرز کے موسم سرما کی مناسبت سے تیارکردہ ملبوسات کے نئے ڈیزائنوں پرمشتمل شو تھا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہماری پارٹنر 'مستنگ پروڈکشنز' کی سی ای او سعدیہ صدیقی تھیں۔ جنہوں نے لندن میں ہال کی بکنگ ، ڈیزائنرز کا ہوٹل میں قیام اوردیگر اہم کاموں کو لندن میں حتمی شکل دی۔ ان کی شب وروز محنت کی وجہ سے ہمیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ دوسری جانب معروف ڈیزائنر نومی انصاری کا کہنا تھا کہ پاکستان فیشن انڈسٹری اب دنیا کے بیشترممالک میں اپنی پہچان بنارہی ہے۔ ہمارے ملبوسات اوران کاانداز مغربی دنیا میں بہت مقبول ہورہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مغرب اور مشرق کے کلچر کی عکاسی کرتے ملبوسات بھی تیار کریں جس کا اچھا رسپانس ملتا ہے۔ '' فیشن پریڈ'' میں لندن میں بسنے والی اہم شخصیات کے ساتھ معروف فیشن ہاؤسز کے لوگوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی، جنہوں نے شو میں ہمارے ملبوسات دیکھ کر مستقبل میں مل کرکام کرنے کی پیشکش کی۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ پاکستان سے ' فیشن پریڈ' کا حصہ بننے والے تمام ڈیزائنرز نے برطانیہ کے رہن، سہن اور کلچر کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے ڈریسز بھی تیارکررکھے تھے جو فیشن کی بین الاقوامی مارکیٹ کے عین مطابق تھے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتے تھے کہ ہم کسی سے کم نہیں ہیں۔ جہاں تک بات ''انسائیکلو میڈیا'' کی ہے تویہ ان کی عمدہ کاوش تھی جس کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے۔
لندن میں 'مستنگ پروڈکشنز' نے بھی ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا اوراسی لئے یہ شو بہت سپیشل رہا۔ 'مستنگ پروڈکشنز' کی چیف ایگزیکٹوسعدیہ صدیقی نے لندن سے فون پربات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی ڈیزائنرز بہت تیزی کے ساتھ فیشن ورلڈ میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان میں فیشن کے بدلتے رجحانات کی پسندیدگی اور پڑھے لکھے نوجوانوں کا فیشن انڈسٹری میں آنا ہے۔ فرانس ، اٹلی اوردیگریورپی ممالک میں پاکستانی ڈیزائنرز کے ملبوسات کوبہت پسند کیا جاتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب یورپ کے معروف فیشن ہاؤسز میں پاکستانی ڈیزائنرز کے تیارکردہ ملبوسات بھی موجود ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا جو بہت کامیاب رہا ہے اور اب ہم آئندہ برس بھی بہت بڑے پیمانے پر فیشن شو کا انعقاد کریں گے جس میں مغربی ممالک کے معروف ڈیزائنر بھی پاکستانی ڈیزائنرز کے ساتھ مل کر اپنے ملبوسات متعارف کروائیں گے۔