ایرانی قیادت کا دانشمندانہ فیصلہ

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری چپقلش کا باعث بننے والا ایٹمی پروگرام کا...

ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے،جوہری پروگرام کی پاسداری کریں گے لیکن جوہری پروگرام بنیادی حق ہے، ایرانی وزیر خارجہ

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری چپقلش کا باعث بننے والا ایٹمی پروگرام کا تنازعہ بالآخر طے پا گیا اور ایران اپنا ایٹمی پروگرام محدود کرنے پر رضا مند ہو گیا جس کے بعد اب وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔ سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں امریکا' روس' چین' فرانس' انگلینڈ اور جرمنی کے اعلیٰ حکام کے درمیان 5 روز تک ہونے والے مذاکرات کے بعد ایرانی متنازعہ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے چھ ماہ کا ابتدائی ایٹمی معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت ایران یورینیم افزودگی پانچ فیصد تک محدود کر دے گا ، 6 ماہ میں یورینیم کے 20 فیصد ذخیرے کو ناکارہ بنائے گا' آراک کے مقام پر بھاری پانی کے جوہری منصوبے پر کام روک دیا جائے گا،نئی سینٹری فیوجز بھی نصب نہیں کی جائیں گی اورعالمی معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات تک روزانہ کی بنیاد پر رسائی دی جائے گی۔

ایٹمی سرگرمیاں محدودکرنے کے بدلے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی بدولت 7 ارب ڈالر حاصل ہو سکیں گے، چھ ماہ تک ایران پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائی جائے گی' قیمتی دھاتوں اور فضائی کمپنیوں کے سلسلے میں پہلے سے عائد کچھ پابندیاں معطل کر دی جائیں گی' ایرانی تیل کے منجمد اثاثے جو تقریباً 4 ارب 20 کروڑ ڈالر ہیں' جاری کردیے جائیں گے اور ایران موجودہ حد کے مطابق تیل کی فروخت جاری رکھ سکے گا۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ مستقبل کی انٹرنیشنل جیو پالیٹکس میں بڑی معنی خیز تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو گا' اس کے اثرات بحیرہ روم سے لے کر بحیرہ کیسپیئن تک کے خطے پر مرتب ہوں گے اور اس وسیع و عریض خطے میں نئے تعلقات اور ترجیحات طے پائیں گی۔ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے امریکا' یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے 2010ء سے عائد سخت معاشی پابندیوں کے باعث تقریباً 120 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ یہ معاہدہ کرکے ایرانی قیادت نے انتہائی تدبر اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا اور ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل حالات سے بھی نکلنے کا فن بخوبی جانتی ہے۔

ایٹمی پروگرام کے باعث امریکا اور عالمی طاقتیں ایک عرصے سے ایران پر حملے کی دھمکیاں دے رہی تھیں اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یہ دھمکیاں شدت اختیار کر گئیں اور یوں محسوس ہونے لگا کہ ایران پر جلد ہی حملہ ہو جائے گا اور خطے میں نئی جنگ چھڑ جائے گی۔ عالمی طاقتوں کا بااثر گروہ ایٹمی پروگرام کی آڑ میں ایران کو تباہ کرنے پر تلا ہوا تھا۔ اس سلسلے میں امریکا کا جارحیت پسند گروہ نیو کانز اور اسرائیل پیش پیش تھے۔ اسرائیل کی تو شدید خواہش تھی کہ عراق کے بعد ایران کو بھی سبق سکھایا جائے اور خطے میں اسے چیلنج کرنے والی کوئی قوت باقی نہ رہے۔


یہی وجہ ہے کہ جنیوا معاہدے پر دنیا بھر میں صرف اسرائیل نے اعتراض کرتے ہوئے اسے ایران کی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں اس معاہدے کو دنیا کی تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل اسے ماننے کا پابند نہیں' یہ جوہری معاہدہ ''برا'' ہے۔ امریکا سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے معاہدے کو پہلا اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا محفوظ ہو جائے گی۔ یورپی یونین' چین' روس اور اقوام متحدہ نے بھی اس معاہدے کو خوش آیند قرار دیا ۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جنیوا معاہدے سے ایران امریکا جنگ کے خدشات ممکنہ حد تک ختم ہو گئے ہیں جس کا خطرہ ایک عرصے سے محسوس کیا جا رہا تھا۔

اب ترقی کا نیا دور شروع ہونے سے پورے خطے میں استحکام آئے گا۔جنیوا معاہدے کے بعد ایران کے خلاف عالمی طاقتوں کی مخالفت کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے، آنے والے وقت میں اس خطے میں ایرانی اثرونفوذ میں اضافہ ہو گا اور وہ ایک بار پھر سے اہم علاقائی کھلاڑی کے طور پر ابھرے گا۔ ایران کے حالیہ انتخابات میں سخت گیر طبقے کو شکست ہوئی اور احمدی نژاد کی جگہ حسن روحانی اقتدار میں آئے' وہ ایک جید عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ جدیدیت پسند بھی ہیں۔ اس لیے ان کے صدر بننے سے قبل ہی یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ان کے برسراقتدار آنے سے ایران کے امریکا اور یورپی ممالک سے تعلقات میں بہتری کا آغاز ہو گا اور جوہری تنازعہ حل ہو جائے گا۔ اسی سوچ کے تناظر میں ایران کے بائیں بازو نے انتخابات میں انھیں ووٹ دیا۔

ایران کے لیے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ کرنا آسان امر نہ تھا کیونکہ اسے اندرون ملک انتہا پسند طبقے کی مخالفت کا شدید سامنا تھا جس کی رہنمائی سابق صدر احمدی نژاد کر رہے تھے۔ اگر عراق اور لیبیا کے حکمران بھی اپنے تنازعات اسی طرح پر امن طریقے سے حل کر لیتے تو شاید وہ اپنے ملک کو تباہی سے بچا سکتے تھے۔ چھ ماہ کے اس ابتدائی معاہدے کا مرکزی نکتہ ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنا ہے مگر ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ ایران اپنا پرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھے گا۔ امریکی صدر بارک اوباما کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کے دوران اگر ایران نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو پابندیوں میں دی جانے والی چھوٹ ختم کر دی جائے گی۔

بہر حال ایرانی قیادت نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اس معاہدے کے ذریعے دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ جنیوا معاہدے سے پاک ایران گیس منصوبے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے اور ایران سے گیس اور تیل کی درآمد سے پاکستان کو توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کافی حد تک مدد ملے گی۔ جنیوا میں ہونے والا عبوری معاہدہ جامع حل کی جانب پہلا قدم ہے جس سے مستقبل میں پورے خطے میں بہتری کے لیے حالات ساز گار ہوں گے۔
Load Next Story