بھارت پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات میں رکاوٹیں ہٹائےاپٹما
کپاس بیچنے کی شرائط بھی نرم کرے،یاسین صدیق،بھارتی صحافیوں کوعصرانے سے خطاب
بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں حائل غیرضروری رکاوٹیں ختم کرے۔ فوٹو: فائل
پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری لبرل ہے لیکن بھارت میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر نان ٹیرف بیریئرزاورکوٹے عائد ہیں جس کی وجہ سے بھارتی ٹیکسٹائل انڈسٹری اپنی کپاس اور کپڑا کم قیمتوں پر فروخت کر رہی ہے۔
یہ بات آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین یاسین صدیق نے پیر کو اپٹماہاؤس میں بھارتی صحافیوں کے وفد میں دیے گئے عصرانے سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر ممبئی پریس کلب کے صدر گربیرسنگھ نے بھی خطاب کیا۔ یاسین صدیق نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں حائل غیرضروری رکاوٹیں ختم کرے اور کپاس فروخت کرنے کی شرائط نرم کرے جس کے نتیجے میں بھارتی کپاس اور کپڑے کی پاکستان میں فروخت بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے بھارتی میڈیا پر زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوارتجارتی تعلقات کے لیے باہمی تجارت میں حائل رکاوٹیں ختم کرانے کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر5 تا10 فیصد کی ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے جبکہ پاکستان میں یہ ڈیوٹی صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھا معیار ہونے کے باوجود بھارتی کپاس کی قیمتیں کم ہیں۔
یہ بات آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین یاسین صدیق نے پیر کو اپٹماہاؤس میں بھارتی صحافیوں کے وفد میں دیے گئے عصرانے سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر ممبئی پریس کلب کے صدر گربیرسنگھ نے بھی خطاب کیا۔ یاسین صدیق نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں حائل غیرضروری رکاوٹیں ختم کرے اور کپاس فروخت کرنے کی شرائط نرم کرے جس کے نتیجے میں بھارتی کپاس اور کپڑے کی پاکستان میں فروخت بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے بھارتی میڈیا پر زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوارتجارتی تعلقات کے لیے باہمی تجارت میں حائل رکاوٹیں ختم کرانے کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر5 تا10 فیصد کی ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے جبکہ پاکستان میں یہ ڈیوٹی صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھا معیار ہونے کے باوجود بھارتی کپاس کی قیمتیں کم ہیں۔