اشیاوخدمات کی تجارت میں جولائی تااکتوبر68ارب ڈالرخسارہ
گزشتہ مالی سال سے 1.3ارب زائد،صرف اکتوبرمیں1.64ارب ڈالرخسارہ ہوا، اسٹیٹ بینک
پہلی سہ ماہی کے دوران اشیا و خدمات کی تجارت کا خسارہ5.133 ارب ڈالر تھا, اسٹیٹ بینک فوٹو: فائل
اشیا و خدمات کی تجارت کا خسارہ ایک ماہ کے دوران 1.646 ارب ڈالر بڑھ کر 6.779ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران اشیا و خدمات کی تجارت کا خسارہ5.133 ارب ڈالر تھا جس میں اکتوبر کے مہینے میں 1.646ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،گزشتہ مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے مقابلے میںرواں مالی سال درپیش اشیا وخدمات کی تجارت کا خسارہ 1.319ارب ڈالر زائد ہے، 4 ماہ کے دوران سروسز سیکٹر کی ایکسپورٹ 1.827ارب ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے سے 83 کروڑ 70لاکھ ڈالر کم ہے۔
گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں سروسز ایکسپورٹ 2.664 ارب ڈالر تھی، اکتوبر 2013کے دوران سروس سیکٹر کی ایکسپورٹ 72 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہی، 4 ماہ کے دوران خدمات کی درآمدات 2.582ارب ڈالر رہیں جس میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 29کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، اکتوبر کے دوران سروسز سیکٹر کی درآمدات 73 کروڑ ڈالر رہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران اشیا و خدمات کی تجارت کا خسارہ5.133 ارب ڈالر تھا جس میں اکتوبر کے مہینے میں 1.646ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،گزشتہ مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے مقابلے میںرواں مالی سال درپیش اشیا وخدمات کی تجارت کا خسارہ 1.319ارب ڈالر زائد ہے، 4 ماہ کے دوران سروسز سیکٹر کی ایکسپورٹ 1.827ارب ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے سے 83 کروڑ 70لاکھ ڈالر کم ہے۔
گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں سروسز ایکسپورٹ 2.664 ارب ڈالر تھی، اکتوبر 2013کے دوران سروس سیکٹر کی ایکسپورٹ 72 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہی، 4 ماہ کے دوران خدمات کی درآمدات 2.582ارب ڈالر رہیں جس میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 29کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، اکتوبر کے دوران سروسز سیکٹر کی درآمدات 73 کروڑ ڈالر رہیں۔