آٹوسیکٹرنے پرانی گاڑیوں کی درآمدپرفوری پابندی کامطالبہ کردیا

درآمدکنندگان پرجعلسازی،ٹیکس چوری،قومی خزانے کونقصان پہنچانے اور دھوکادہی کاالزام

حکومت ڈیلر مافیا کیخلاف سخت کارروائی اورمقامی انڈسٹری کاتحفظ کرے، عبدالوحید/عثمان ملک فوٹو: فائل

حکومت کو پرانی گاڑیوں کی درآمد پر فوری پابندی لگانی چاہیے اور ملکی قوانین اور قومی مفاد کے خلاف کام کرنے والے امپورٹرز کو سزا دینی چاہیے۔

اس بات کا مطالبہ ڈائریکٹر جنرل پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) عبدالوحید اور چیئرمین پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو پارٹس ایسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) عثمان ملک نے مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرانی گاڑیاں درآمد کرنے والے جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہیں، ٹیکس چوری کرتے ہوئے پرانی گاڑیاں مقامی طور پر نئی تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمت پر فروخت کرتے ہیں، اس کے علاوہ دیگر کئی تراکیب کے ذریعے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچاتے ہیں اور صارفین سے دھوکا دہی کرتے ہیں۔ عبدالوحید نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیلر مافیا کے خلاف سخت اقدام کیے جائیں۔

یہ مافیا پرانی گاڑیاں غلط طریقے سے درآمد کرکے ملک میں ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے والی صنعتی اساس کو نقصان پہنچا رہی ہے۔




حکومت کو مقامی انڈسٹری کی سرپرستی کرنی چاہیے کیونکہ مقامی انڈسٹری حکومتی پالیسیوں کے تحت کام کررہی ہے اور قومی مفاد کو مقدم رکھتی ہے، ان عوامل سے ملکی معیشت کو فروغ، صارفین کو فائدہ، ملک میں روزگار کے مواقع، ذیلی صنعت کی ترقی اور بالواسطہ ملازمت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت پاکستان فیول کی بچت کیلیے ہائبرڈ گاڑیوں کو فروغ دے رہی ہے تاکہ سی این جی کا متبادل تلاش کیا جاسکے اور اس کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکسز میں بھی چھوٹ دی گئی ہے تو دوسری طرف انتہائی زیادہ پٹرول استعمال کرنے والی 5 سال تک پرانی لگژری گاڑیوں جیسے ایس یو ویز کی اجازت بھی دی جارہی ہے، ان گاڑیوں کی درآمد پر انہیں فرسودگی الاؤنس کی وجہ سے 50 فیصد چھوٹ بھی حاصل ہے۔ عثمان ملک نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مقامی انڈسٹری کا تحفظ اور اس کی حوصلہ افزائی کرے، اس سے ملک کی معیشت کو فروغ ملے گا۔
Load Next Story