ٹی ڈیپ کیوآرسی کو بندکرنے پرغور کے لیے آمادہ

چاول کی نئی منڈیاں تلاش کرنے میں مددکرینگے،سیکریٹری،رائس ایکسپورٹرز سے گفتگو

چاول کے برآمدکنندگان شدید مشکلات سے دوچارہیں اور گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث متعدد معاہدے منسوخ ہوچکے ہیں۔ فوٹو: فائل

ٹریڈڈیولپمنٹ اتھارٹی کی سیکریٹری رابعہ جویری نے کہا ہے کہ چاول کے برآمدکنندگان کودرپیش مسائل کو حل کرنے کے ہرممکن اقدامات کیے جائینگے۔

رائس ایکسپورٹرزایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطالبے پر کیوآرسی کوختم کیے جانے پر غورکیا جائیگا اور چاول کی نئی منڈیوں کی تلاش کے لیے ٹی ڈی اے پی بھرپورتعاون کرے گی۔ یہ بات انہوں نے پیر کو رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سینئر وائس چیئرمین چیلا رام کی سربراہی میں ملنے والے وفد سے کہی، اس موقع پر سابق چیئرمین جاوید علی غوری، سابق وائس چیئرمین رفیق سلیمان، فواد غریب، صفدر میکری، خالد پراچہ، فیصل چوہدری بھی موجودتھے۔

چیلا رام نے سیکریٹری ٹی ڈی اے پی رابعہ جویر ی کو رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے کردار اور چاول کی برآمدات میں کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ کیوآر سی غیر فعال ادارہ ہے اور رائس انڈسٹری میں کیوآرسی کاکوئی کردار نہیں ہے لہذا کیوآر سی کو فوری طورپرختم کردیا جائے ۔




انہوں نے کہا کہ چاول کے برآمدکنندگان شدید مشکلات سے دوچارہیں اور گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث متعدد معاہدے منسوخ ہوچکے ہیں۔

جبکہ شپنگ کمپنیوں کی من مانیاں بڑھتی جارہی ہیں اورکراچی سمیت دیگرپورٹ پر کنٹینرز کاہجوم لگ چکا ہے جس کی وجہ سے فریٹ چارجز میں اضافے اورکنٹینرز کی عدم دستیابی کا سامنا بھی ہے ۔ سابق چیئرمین جاوید علی غوری نے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے چاول کے برآمدکنندگان کے 600سے زائد کنٹینرز کی برآمدات متاثر ہوئی اور کروڑوں روپے نقصان کاسامنا کرناپڑا۔ سابق وائس چیئرمین رفیق سلیمان نے کہا کہ بجلی اور گیس کی عدم دستیابی سمیت سائٹ ہاکس بے میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث چاول کی برآمدی سرگرمیاں شدید خطرات سے دوچارہوگئی ہیں۔
Load Next Story