’’اورنگی ٹاؤن‘‘کا ستارہ پہلے ہی ون ڈے میں جگمگا اٹھا
فیکٹری میں موزے پریس کرنے والے آل راؤنڈرانور علی اپنی محنت سے اسٹار بن گئے
دنیا کا ٹاپ آل راؤنڈر بننا میرا سب سے بڑا مقصد ہے۔ا نور علی ۔ فوٹو : فائل
فیکٹری میں موزے پریس کرنے والے انور علی اپنی محنت سے اسٹار بن گئے، بچپن میں ہی والد کی وفات سے گھر کا سارا بوجھ ان کے کم عمر کندھوں پر آپڑا، کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کا یہ ستارہ پہلے ہی ون ڈے میں جگمگا اٹھا، ان کا کہنا ہے کہ دنیا کا ٹاپ آل راؤنڈر بننا میرا سب سے بڑا مقصد ہے۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ون ڈے میں ڈیبیو کرنے والے انور علی نے اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، پہلے انھوں نے43 رنز بناکر پاکستان کا مجموعہ200کے پار پہنچایااور بعد میں2 اہم وکٹیں بھی حاصل کیں، جس پر انھیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ ون ڈے کرکٹ میں جگمگانے والے اس نئے ستارے کو اس مقام تک پہنچنے کیلیے کئی مشکلات اور کڑے وقت سے گزرنا پڑا مگر اپنی محنت سے وہ یہ مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ انور علی کا تعلق کراچی کے پسماندہ علاقے اورنگی ٹاؤن سے ہے، والد بچپن میں ہی انتقال کرگئے تھے ۔
جس کی وجہ سے گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ بچپن سے ہی ان کے کندھوں پر آپڑا، اس کے باوجود وہ کرکٹ کا شوق پورا کرنے کے لیے وقت نکال ہی لیا کرتے تھے۔ اپنے اس وقت کے بارے میں انور علی نے ایک انٹرویو میں کہا تھاکہ میں روزانہ 200 روپے کماتا جو میری فیملی کیلیے کافی نہیں تھے، اس وقت میری والدہ کے پاس مجھے دینے کیلیے اضافی 50 روپے بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔
انور علی کے خوابوں کو تعبیر اس وقت ملی جب انھیں زون 5 کی انڈر 19 ٹیم کے لیے ٹرائلز میں منتخب کرلیا گیا، اس بارے میں انھوں نے بتایا کہ مجھے پریکٹس کے لیے باقاعدگی سے آنے کو کہا گیا جس پر میں نے بتایا کہ میں ڈبل جاب کرتا ہوں، میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے، اس پر کوچز اعظم خان اور ظفر احمد مجھے ماہانہ 4600 روپے دینے پر راضی ہوگئے جس کے بعد میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انور علی کو زونل اور ریجنل لیول پر مستقل مزاجی سے عمدہ پرفارم کرنے پر قومی انڈر 19 ٹیم میں منتخب کیا گیا تھا، انھوں نے انڈر 19 ورلڈ کپ 2006 کے فائنل میں پانچ وکٹیں لے کر پاکستان کو چیمپئن بنایا تھا۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ون ڈے میں ڈیبیو کرنے والے انور علی نے اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، پہلے انھوں نے43 رنز بناکر پاکستان کا مجموعہ200کے پار پہنچایااور بعد میں2 اہم وکٹیں بھی حاصل کیں، جس پر انھیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ ون ڈے کرکٹ میں جگمگانے والے اس نئے ستارے کو اس مقام تک پہنچنے کیلیے کئی مشکلات اور کڑے وقت سے گزرنا پڑا مگر اپنی محنت سے وہ یہ مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ انور علی کا تعلق کراچی کے پسماندہ علاقے اورنگی ٹاؤن سے ہے، والد بچپن میں ہی انتقال کرگئے تھے ۔
جس کی وجہ سے گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ بچپن سے ہی ان کے کندھوں پر آپڑا، اس کے باوجود وہ کرکٹ کا شوق پورا کرنے کے لیے وقت نکال ہی لیا کرتے تھے۔ اپنے اس وقت کے بارے میں انور علی نے ایک انٹرویو میں کہا تھاکہ میں روزانہ 200 روپے کماتا جو میری فیملی کیلیے کافی نہیں تھے، اس وقت میری والدہ کے پاس مجھے دینے کیلیے اضافی 50 روپے بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔
انور علی کے خوابوں کو تعبیر اس وقت ملی جب انھیں زون 5 کی انڈر 19 ٹیم کے لیے ٹرائلز میں منتخب کرلیا گیا، اس بارے میں انھوں نے بتایا کہ مجھے پریکٹس کے لیے باقاعدگی سے آنے کو کہا گیا جس پر میں نے بتایا کہ میں ڈبل جاب کرتا ہوں، میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے، اس پر کوچز اعظم خان اور ظفر احمد مجھے ماہانہ 4600 روپے دینے پر راضی ہوگئے جس کے بعد میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انور علی کو زونل اور ریجنل لیول پر مستقل مزاجی سے عمدہ پرفارم کرنے پر قومی انڈر 19 ٹیم میں منتخب کیا گیا تھا، انھوں نے انڈر 19 ورلڈ کپ 2006 کے فائنل میں پانچ وکٹیں لے کر پاکستان کو چیمپئن بنایا تھا۔