نذیر مغل کی برطرفی کیلیے سول سوسائٹی کی ریلی و دھرنا
مظاہرین نے سپر ہائی وے ڈیڑھ گھنٹے بلاک رکھا، اندرون سندھ جانیوالی ٹرانسپورٹ معطل
حیدرآباد: ڈاکٹر نذیر مغل کیخلاف سول سوسائٹی کے ارکان سپر ہائی وے پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس
سندھ یونیورسٹی میں تعلیم کے تحفظ اور وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر اے مغل کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی اور سپر ہائی وے پر دھرنا دیا گیا ۔
سیو سندھ یونیورسٹی اینڈ ایجوکیشن کمیٹی نے علامہ آئی آئی قاضی کے مزار سے ریلی نکالی جس کے شرکاء انڈس ہائی وے سے ہوتے ہوئے سپر ہائی وے پہنچے جہاں انہوں نے دھرنا دیا۔ ریلی اور دھرنے میں ڈاکٹر نیاز کالانی، ریاض چانڈیو، ابرار قاضی، ایوب شر، مظفر کلہوڑو، سوٹا کے رہنمائوں اظہر شاہ، عرفانہ ملاح، امر سندھو سمیت سول سوسائٹی کے افراد اور اساتذہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہما ری مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر مغل کو ہٹا نہیں دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وی سی ایک ریٹائرڈ افسر ہیں، انہیں ہٹا کر کسی اہل شخص کو لایا جائے۔
کیونکہ اس وی سی کی وجہ سے یونیورسٹی میں ایک پروفیسر سمیت 7 طلب علم قتل ہوچکے ہیںاور یہاں لوٹ مار کا بازار گرم ہے، لاکھوں روپے کی کرپشن کی جا چکی ہے، من پسند افراد کو نوکریاں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر وائس چانسلر کو ہٹا کر ہزاروں طلبہ کا مستقبل بچایا جائے۔ دھرنا تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا، جس کے باعث کراچی سے اندرون سندھ چلنے والی ٹرانسپورٹ معطل ہو گئی اور سپر ہائی وے سمیت بائی پاس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
سیو سندھ یونیورسٹی اینڈ ایجوکیشن کمیٹی نے علامہ آئی آئی قاضی کے مزار سے ریلی نکالی جس کے شرکاء انڈس ہائی وے سے ہوتے ہوئے سپر ہائی وے پہنچے جہاں انہوں نے دھرنا دیا۔ ریلی اور دھرنے میں ڈاکٹر نیاز کالانی، ریاض چانڈیو، ابرار قاضی، ایوب شر، مظفر کلہوڑو، سوٹا کے رہنمائوں اظہر شاہ، عرفانہ ملاح، امر سندھو سمیت سول سوسائٹی کے افراد اور اساتذہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہما ری مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر مغل کو ہٹا نہیں دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وی سی ایک ریٹائرڈ افسر ہیں، انہیں ہٹا کر کسی اہل شخص کو لایا جائے۔
کیونکہ اس وی سی کی وجہ سے یونیورسٹی میں ایک پروفیسر سمیت 7 طلب علم قتل ہوچکے ہیںاور یہاں لوٹ مار کا بازار گرم ہے، لاکھوں روپے کی کرپشن کی جا چکی ہے، من پسند افراد کو نوکریاں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر وائس چانسلر کو ہٹا کر ہزاروں طلبہ کا مستقبل بچایا جائے۔ دھرنا تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا، جس کے باعث کراچی سے اندرون سندھ چلنے والی ٹرانسپورٹ معطل ہو گئی اور سپر ہائی وے سمیت بائی پاس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔