11ماہ سے لاپتہ قوم پرست رہنمامرتضیٰ چانڈیوجھڈو سے بازیاب
نا معلوم افراد لاغر حالت میں تھانے کے قریب پھینک گئے، مرتضیٰ کو جامشورو سے اغوا کیا گیا.
نا معلوم افراد لاغر حالت میں تھانے کے قریب پھینک گئے، مرتضیٰ کو جامشورو سے اغوا کیا گیا
11ماہ قبل جامشورو پٹارو سے پُراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے جیے سندھ متحدہ محاذ کے رہنما غلام مرتضیٰ چانڈیو میرپورخاص ضلع کے شہر جھڈو سے بازیاب ہو گئے۔
مرتضیٰ چانڈیو گزشتہ سال اپنے خاندان کے ہمراہ لاڑکانہ سے کوچ کے ذریعہ حیدرآباد آ رہے تھے کہ جامشوروکے قریب سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد انہیں زبردستی ڈبل کیبن گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے۔ ان کی بازیابی کے لیے اہل خانہ مسلسل احتجاج کر رہے تھے۔
منگل کی صبح نا معلوم افراد میر مرتضیٰ چانڈیو کو جھڈو تھانے کی حد ود میں پھینک کر فرار ہو گئے۔ قوم پرست رہنما کے شدید لاغر حالت میں ہونے کی اطلاع علاقے کے لوگوں نے پولیس کو دی جس پر پولیس نے ان کے اہل خانہ کو اطلاع دیا۔ مرتضیٰ چانڈیو کی والدہ رشیدہ چانڈیو نے ان کی بازیابی کی اطلاع میڈیا کو دی۔
مرتضیٰ چانڈیو نے حیدرآبادمیں اپنی رہائشگاہ پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں نا معلوم مقام پر مسلسل آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر رکھا گیا اور ذہنی وجسمانی تشدد بھی کیا گیا اور جسمم کے دیگر رہنمائوں کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات کی جاتی رہیں۔
مرتضیٰ چانڈیو گزشتہ سال اپنے خاندان کے ہمراہ لاڑکانہ سے کوچ کے ذریعہ حیدرآباد آ رہے تھے کہ جامشوروکے قریب سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد انہیں زبردستی ڈبل کیبن گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے۔ ان کی بازیابی کے لیے اہل خانہ مسلسل احتجاج کر رہے تھے۔
منگل کی صبح نا معلوم افراد میر مرتضیٰ چانڈیو کو جھڈو تھانے کی حد ود میں پھینک کر فرار ہو گئے۔ قوم پرست رہنما کے شدید لاغر حالت میں ہونے کی اطلاع علاقے کے لوگوں نے پولیس کو دی جس پر پولیس نے ان کے اہل خانہ کو اطلاع دیا۔ مرتضیٰ چانڈیو کی والدہ رشیدہ چانڈیو نے ان کی بازیابی کی اطلاع میڈیا کو دی۔
مرتضیٰ چانڈیو نے حیدرآبادمیں اپنی رہائشگاہ پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں نا معلوم مقام پر مسلسل آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر رکھا گیا اور ذہنی وجسمانی تشدد بھی کیا گیا اور جسمم کے دیگر رہنمائوں کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات کی جاتی رہیں۔