ایران عالمی طاقتوں کا معاہدہ اور اسرائیل
دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی تخفیف اور اتلاف کے ساتھ عالمی امن کی خاطرایٹمی اسلحے کی تجارت کی حوصلہ
ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے،جوہری پروگرام کی پاسداری کریں گے لیکن جوہری پروگرام بنیادی حق ہے، ایرانی وزیر خارجہ
دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی تخفیف اور اتلاف کے ساتھ عالمی امن کی خاطرایٹمی اسلحے کی تجارت کی حوصلہ شکنی کے لیے کوششوں کا سلسلہ برس ہا برس سے جاری ہے تاہم اسرائیل پر مشرق وسطیٰ میں عسکری،تزویراتی اور علاقائی بالادستی کا جو خناس سوار رہا، وہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین حالیہ جنیوا اہم معاہدے کے بعد دو چند ہوگیا ہے اور اس نے اس معاہدے کو اپنے خبث سیاست اورصیہونی باطن کے باعث تاریخی غلطی کہا ہے اور اس پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔اسرائیل نے ایران اور 6 عالمی قوتوں کے مابین ہونے والے معاہدے کے حوالہ سے میڈیا میں جو تاثر ظاہر کیا ہے وہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے کسی روڈ میپ کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں اور اس کی طرف سے بجائے ایران کے اپنے جوہری پروگرام پر مصالحت اور نظر ثانی کے خوش گوار خیر سگالی طرز عمل کی ستائش کے جو تبدیل شدہ عالمی صورتحال کے پیش نظر ایک اہم بریک تھرو ہے اس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مزید 829 یہودی بستیوں کی منظوری دیدی ہے جوغزہ اورمقبوضہ بیت المقدس میں قائم کی جائیں گی۔
یہ فساد برپا کرنے کی کوشش ہے اور مذکورہ معاہدہ کے خلاف برہمی بھی ، جب کہ اسرائیلی اخبارڈیلی ہیریٹزنے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے گزشتہ ماہ یہودیوںکی آبادکاری کے منصوبے کوامریکی اپیل پر ملتوی کردیا تھا مگر جنیوامیں ایرانی جوہری پروگرام پرایران اورعالمی قوتوں میں مذاکرات کی کامیابی کے بعد موخر شدہ منصوبے کودوبارہ شروع کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا بھی اپنی گن بوٹ پالیسی کے بجائے ڈپلومیسی کو امریکی خارجہ پالیسی کا نیا پیراڈائم بنانے کی طرف رجوع کررہا ہے اور اوباما انتظامیہ نائن الیون کے دیے گئے جنگی ورثہ سے پیچھا چھڑانے کے لیے افغانستان سے بھی انخلا کا فیصلہ کرچکا ہے۔ اسرائیل کو اپنی من مانی اور ایٹمی رعونت کی پالیسی سے پیچھے ہٹنا ہوگا،وقت اب اس کی توسیع پسندی،جارحیت اور ظلم و بربریت کے خلاف کے نئی سیاسی حقیقتوں کو اجاگر کرے گا۔ دوسری طرف صدرمحمود عباس نے کہاکہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کا مستقل بنیادوںپر بڑھتے رہناخطرناک عمل ہے۔ مبصرین کے مطابق نئی آبادکاری ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کانتیجہ ہوسکتا ہے۔بہرکیف پر امن دنیا کے امکانات کے حوالے سے ایران سے ہونے والا معاہدہ تاریخی ہے۔
یہ فساد برپا کرنے کی کوشش ہے اور مذکورہ معاہدہ کے خلاف برہمی بھی ، جب کہ اسرائیلی اخبارڈیلی ہیریٹزنے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے گزشتہ ماہ یہودیوںکی آبادکاری کے منصوبے کوامریکی اپیل پر ملتوی کردیا تھا مگر جنیوامیں ایرانی جوہری پروگرام پرایران اورعالمی قوتوں میں مذاکرات کی کامیابی کے بعد موخر شدہ منصوبے کودوبارہ شروع کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا بھی اپنی گن بوٹ پالیسی کے بجائے ڈپلومیسی کو امریکی خارجہ پالیسی کا نیا پیراڈائم بنانے کی طرف رجوع کررہا ہے اور اوباما انتظامیہ نائن الیون کے دیے گئے جنگی ورثہ سے پیچھا چھڑانے کے لیے افغانستان سے بھی انخلا کا فیصلہ کرچکا ہے۔ اسرائیل کو اپنی من مانی اور ایٹمی رعونت کی پالیسی سے پیچھے ہٹنا ہوگا،وقت اب اس کی توسیع پسندی،جارحیت اور ظلم و بربریت کے خلاف کے نئی سیاسی حقیقتوں کو اجاگر کرے گا۔ دوسری طرف صدرمحمود عباس نے کہاکہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کا مستقل بنیادوںپر بڑھتے رہناخطرناک عمل ہے۔ مبصرین کے مطابق نئی آبادکاری ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کانتیجہ ہوسکتا ہے۔بہرکیف پر امن دنیا کے امکانات کے حوالے سے ایران سے ہونے والا معاہدہ تاریخی ہے۔