دکانیں جلد کھولنا کیوں ضروری ہے

دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں صبح سویرے بازار کھلتے ہیں اور سرشام بند ہوجاتے ہیں

دکانیں جلد کھولنے سے کاروبار میں بھی برکت ہوگی۔ (فوٹو: فائل)

کراچی کی بولٹن مارکیٹ بازی لے گئی۔ اب وہاں ساڑھے آٹھ بجے دکانیں کھلیں گی اور شام ساڑھے چھ بجے بند ہوجائیں گی۔ بولٹن مارکیٹ کی دیکھا دیکھی صدر اور دیگر علاقوں کی مارکیٹوں نے بھی دکانیں جلد کھولنے اور جلد بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ آج سے پہلے کراچی کے تمام مرکزی بازار دن ایک بجے کے بعد کھلتے تھے اور رات ایک بجے تک کھلے رہتے تھے۔ خریدار بھی شام ڈھلے گھر سے نکلتے اور رات گئے واپس لوٹتے۔ عید، شب برات اور چاند رات کا تو پوچھیے ہی مت۔ جو دکان دار رات ایک بجے کے بعد گھر لوٹے گا، اس کے بعد سوئے گا، وہ فجر کی نماز میں کہاں اٹھ پائے گا؟ اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ تجارت میں بے برکتی ڈیرے ڈال لیتی۔ دن رات کولہو کے بیل کی طرح کام کرنے کے باوصف سکون اور برکت روٹھے رہتے۔

ڈینیل پنک ایک مشہور امریکی مصنف ہیں۔ ان کی کتاب When کو 2018 میں بیسٹ سیلر کا ایوارڈ مل چکا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے تحقیق سے یہ بات ثابت کی ہے کہ کام کرنے کا بہترین وقت صبح کا ہوتا ہے اور انسانی ذہنی صلاحیت نیند سے بیدار ہونے کے بعد ابتدائی وقت میں اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ تمام تخلیقی کام اسی وقت سرانجام دیے جاسکتے ہیں۔

سائنسدانوں نے 24 لاکھ لوگوں کے 50 کروڑ ٹویٹ پڑھے۔ ان کا سائنسی مطالعہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ ہر شخص کا موڈ اس کی جسمانی گھڑی یعنی Body Clock کے تابع ہوتا ہے۔ جبکہ جسمانی گھڑی میں صبح کے اوقات کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ جو شخص جسمانی گھڑی کو سمجھ جاتا ہے، اس کےلیے کامیابی کا حصول آسان ہوجاتا ہے۔ جب ہمارا بزنس مین صبح کا وقت سو کر گزارے گا تو اس کی زندگی میں تخلیقی صلاحیتیں کہاں سے آئیں گی؟ وہ اپنے بزنس کو ترقی کیسے دے سکے گا؟ وہ کامیاب کیسے ہوسکے گا؟

حدیث شریف میں ہے کہ صبح کا وقت برکت والا ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا بھی ہے: اے اللہ! میری امت کےلیے صبح کا وقت برکت والا بنادے۔ فقہائے کرام نے بھی صبح کے وقت سونے کو مکروہ قرار دیا ہے، قال فی الہندیۃ: ویکرہ فی أول النہار وفیما بین ا لمغرب والعشاء (فتاوی عالمگیری 5/376، دارالکتاب دیوبند) ایک حدیث میں ہے کہ صبح کے وقت سونا رزق میں بے برکتی کا باعث ہے۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: الصبحۃ تمنع الرزق (مسند احمد 5290، شعب الایمان 4402) (شعب الإیمان، 4405، فصل فی النوم الذی نعمۃ اللہ الخ) دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں یہی روش ہے۔ آپ جرمنی، امریکا اور برطانیہ میں چلے جائیں، آپ کو صبح سویرے سڑکیں مصروف ملیں گی۔ لوگ بیدار اور ورزش کرتے یا دفتروں کو جاتے دکھائی دیں گے۔ ہمارے ہاں صبح فجر کے بعد ہو کا عالم ہوتا ہے۔ سڑکیں سنسان، پارک خالی اور لوگ سوتے ہوئے ملیں گے۔ ہمارے تاجر دن دو بجے ناشتہ کرتے ہیں۔ تین بجے دفتر پہنچتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جلد ہی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انسانی جسم جب رات کو جاگتا اور دن میں سوتا ہے، بروقت کھانا نہیں کھائے گا تو بیماریوں کی آماجگاہ بنے گا۔


اللہ تعالیٰ نے رات کا وقت آرام کےلیے بنایا ہے اور دن کام کےلیے۔ وجعلنا النہار معاشا۔ آج ڈاکٹرز کہتے ہیں: شوگر کا ایک اہم سبب رات دیر سے سونا بھی ہے۔

اس کا معاشی نقصان بھی بے تحاشا ہے۔ دن میں اللہ تعالیٰ ہمیں سورج کی روشنی عطا کرتا ہے۔ ہم اسے سوکر ضائع کرتے ہیں اور رات کو بجلی کے قمقمے روشن کرتے ہیں۔ پھر اس کا سارا خرچ گاہک کی جیب سے نکالتے ہیں۔ ہماری تاجر برادری یہ شکوہ کرتی ہے کہ لوگ جب دفتروں سے نکلتے ہیں تو پھر ہی بازار میں آتے ہیں۔ انہیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں صبح سویرے بازار کھلتے ہیں اور سرشام بند ہوجاتے ہیں۔ اصل بات رواج ڈالنے اور عادت بنانے کی ہے۔ برسوں کی عادت رفتہ رفتہ ختم ہوگی۔ جب گاہک کو سات بجے کے بعد مارکیٹ بند ملے گی، وہ خودبخود وقت پر پہنچے گا۔ صرف چند دن کی بات ہے، خریداروں کا مزاج بدل جائے گا۔

کراچی کے تاجروں کا یہ اقدام قابل تحسین بھی ہے اور قابل داد بھی۔ پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی یہی روش شروع ہوجائے تو کمال ہوجائے گا۔ تو شروع کیجیے، اپنی دکان سے، اپنی مارکیٹ سے اور اپنے شہرسے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
Load Next Story