واٹربورڈ کی تنصیبات پر لوڈشیڈنگ نہیں کرینگے کے ای ایس سی
عدالت کی جانب سے پابند کرنے کے باوجود واٹر بورڈ نے واجبات کی ادائیگی نہیں کی
واجبات 25 ارب سے بڑھ چکے ہیں، واٹر بورڈ توہین عدالت کا مرتکب ہوا، اعلامیہ ۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کے ای ایس سی آج سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی تنصیبات پر لوڈشیڈنگ نہیں کرے گی۔
کے ای ایس سی کے اعلامیے کے مطابق فروری 2013 میں سندھ ہائی کورٹ نے کراچی واٹر بورڈ کو پابند کیا تھا کہ وہ مارچ 2013 سے ماہانہ بلوں کی ادائیگی کو یقینی بنائے مگر افسوس کہ 10 ماہ گزر جانے کے باوجود کراچی واٹر بورڈ نے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی تکمیل نہیں کی جوکہ توہین عدالت ہے، کے ای ایس سی عدالت کے احکامات نہ ماننے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی، اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ محدود وسائل کے باعث کے ای ایس سی کراچی واٹر بورڈ کے تقریباً ماہانہ60 کروڑ روپے کے بل کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا جوکہ اب مجموعی طور پر 25 ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔
لہٰذا کے ای ایس سی نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپنے قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کردی ہے جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ واٹر بورڈ سے واجبات کی وصولی کے لیے کون سا اگلا قدم اٹھایا جائے۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ واجبات کی وصولی کے لیے قانونی مشاورت کے بعد عدالت عظمیٰ میں بھی درخواست دائر کی جاسکتی ہے،کے ای ایس سی نے ایک بار پھر یاد دلایاکہ فروری اور اکتوبر 2013 میں سندھ ہائی کورٹ نے کے ای ایس سی کو قانونی حق دیا تھا کہ اگر کراچی واٹر بورڈ مارچ کے مہینے سے ماہانہ بلوں کی ادائیگی نہیں کرتا تو کے ای ایس سی کراچی واٹر بورڈ کی تنصیبات پر بجلی منقطع کرنے کا حق رکھتی ہے۔
معززعدالت کے احکامات مانتے ہوئے کے ای ایس سی نے کراچی واٹر بورڈ کو کئی نوٹس بھیجے جبکہ اخبارات میں اشتہار بھی دیا جس میں کراچی واٹر بورڈ کو ادائیگی کی مد میں 18 نومبر کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی افسوس یہ کہ واٹر بورڈ نے ان تمام نوٹسز اور اشتہارات پر کوئی جواب نہ دیا،کراچی واٹر بورڈ نے صرف4 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر پورے کراچی میں پانی کے بحران کا ڈھنڈورا پیٹا جبکہ کراچی واٹر بورڈ کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کے باوجود کے ای ایس سی نے یومیہ 20 گھنٹے کی بجلی بلاتعطل فراہم کی اس بات سے یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ معزز عدالت کے احکامات نہ مان کرکے ای ایس سی نہیں بلکہ کراچی واٹر بورڈ توہین عدالت کا مرتکب ہوا ہے۔
کے ای ایس سی کے اعلامیے کے مطابق فروری 2013 میں سندھ ہائی کورٹ نے کراچی واٹر بورڈ کو پابند کیا تھا کہ وہ مارچ 2013 سے ماہانہ بلوں کی ادائیگی کو یقینی بنائے مگر افسوس کہ 10 ماہ گزر جانے کے باوجود کراچی واٹر بورڈ نے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی تکمیل نہیں کی جوکہ توہین عدالت ہے، کے ای ایس سی عدالت کے احکامات نہ ماننے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی، اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ محدود وسائل کے باعث کے ای ایس سی کراچی واٹر بورڈ کے تقریباً ماہانہ60 کروڑ روپے کے بل کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا جوکہ اب مجموعی طور پر 25 ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔
لہٰذا کے ای ایس سی نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپنے قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کردی ہے جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ واٹر بورڈ سے واجبات کی وصولی کے لیے کون سا اگلا قدم اٹھایا جائے۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ واجبات کی وصولی کے لیے قانونی مشاورت کے بعد عدالت عظمیٰ میں بھی درخواست دائر کی جاسکتی ہے،کے ای ایس سی نے ایک بار پھر یاد دلایاکہ فروری اور اکتوبر 2013 میں سندھ ہائی کورٹ نے کے ای ایس سی کو قانونی حق دیا تھا کہ اگر کراچی واٹر بورڈ مارچ کے مہینے سے ماہانہ بلوں کی ادائیگی نہیں کرتا تو کے ای ایس سی کراچی واٹر بورڈ کی تنصیبات پر بجلی منقطع کرنے کا حق رکھتی ہے۔
معززعدالت کے احکامات مانتے ہوئے کے ای ایس سی نے کراچی واٹر بورڈ کو کئی نوٹس بھیجے جبکہ اخبارات میں اشتہار بھی دیا جس میں کراچی واٹر بورڈ کو ادائیگی کی مد میں 18 نومبر کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی افسوس یہ کہ واٹر بورڈ نے ان تمام نوٹسز اور اشتہارات پر کوئی جواب نہ دیا،کراچی واٹر بورڈ نے صرف4 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر پورے کراچی میں پانی کے بحران کا ڈھنڈورا پیٹا جبکہ کراچی واٹر بورڈ کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کے باوجود کے ای ایس سی نے یومیہ 20 گھنٹے کی بجلی بلاتعطل فراہم کی اس بات سے یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ معزز عدالت کے احکامات نہ مان کرکے ای ایس سی نہیں بلکہ کراچی واٹر بورڈ توہین عدالت کا مرتکب ہوا ہے۔