پورٹ ایلزبتھ میں بارش سے پاکستان اورجنوبی افریقا کے درمیان دوسرا ون ڈے متاثر
آج دوسرے ون ڈے میں جیت جنوبی افریقہ کیخلاف تاریخ کی اولین سیریز کا فاتح بنا دے گی
کھلاڑیوں کے حوصلے بلند اورمیچ کیلیے پوری طرح تیار ہیں، بیٹسمینوں کو ذمہ داری محسوس کرنا ہو گی(مصباح) پروٹیز500 ویں میچ کو یادگار بنانے کے خواہاں۔گیٹی امیجز/فائل
ٹرافی دسترس میں دیکھ کرپاکستان کا دل مچلنے لگا، بدھ کو دوسرے ون ڈے میں جیت جنوبی افریقہ کیخلاف تاریخ کی اولین سیریز کا فاتح بنا دے گی، میچ پورٹ ایلزبتھ میں کھیلا جائے گا۔
پہلے معرکے کی فاتح الیون میں چھیڑ چھاڑ کا امکان نہیں ہے، سینٹ جارجز پارک کی سلو وکٹ نے پاکستانی اسپنرز کی دھڑکنیں تیز کردیں، موسم کی دخل اندازی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اس بار سیریز جیتنے کا موقع نہیں گنوائیں گے، کھلاڑیوں کے حوصلے پہلی فتح سے بلند اور وہ دوسرے میچ کیلیے پوری طرح تیار ہیں، بیٹسمینوں کو ذمہ داری محسوس کرنا ہو گی۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ اپنے 500 ویں ون ڈے کو یادگار بنانے کا خواہاں ہے، ریان میکلرین کیلیے ڈیوڈ ملر کو جگہ خالی کرنا پڑسکتی ہے،کپتان ابراہم ڈی ویلیئرز نے کہاکہ ہم پر گرین شرٹس سے سیریز نہ ہارنے کی روایت برقرار رکھنے کا دباؤ ہے، اپنا ریکارڈ برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان جنوبی افریقہ کے خلاف کبھی ون ڈے سیریز نہیں جیت پایا، رواں برس اسے تیسری مرتبہ اس منفی روایت کا خاتمہ کرنے کا موقع میسر آرہا ہے، اس بار امکانات بھی زیادہ ہیں کیونکہ یہ صرف تین میچز کی سیریز اور پہلے میں فتح کی بدولت ٹیم1-0 کی برتری حاصل کرچکی ہے، اس لیے آج کھیلے جانے والے میچ میں فتح سے سیریز اپنے نام کرنے کے ساتھ تاریخ بھی بدل دیں گے۔ جنوبی افریقہ نے22 برس16روز قبل اپنا پہلا ون ڈے کھیلا تھا، اب ٹیم500 ویں میچ میں حصہ لینے والی ہے، یہ سینٹ جارجز پر کھیلا جارہا ہے جہاں پروٹیز نے کئی دہائیاں قبل اپنے پہلے ٹیسٹ میں شرکت کی تھی۔ پاکستان جنوبی افریقہ کے خلاف سب سے زیادہ ون ڈے میچز کھیلنے والی دوسری ٹیم ہے، دونوں کے درمیان اب تک 69 میچز ہوچکے جبکہ سب سے زیادہ 80 ون ڈے پروٹیز نے آسٹریلیا سے کھیلے ہیں۔ رواں برس جنوبی افریقہ اور پاکستان آپس میں ہی زیادہ تر ون ڈے میچز کھیلتے رہے، اب تک دونوں12 بار اس فارمیٹ میں میدان سنبھال چکے اور ہفتے کے روز تک یہ تعداد 14ہوجائے گی،اس طرح پاکستان ایک کیلنڈر ایئر میں پروٹیز سے سب سے زیادہ ایک روزہ میچز کھیلنے والا ملک بن جائے گا۔
مہمان ٹیم کی جانب سے ایک بار پھر انور علی اور بلاول بھٹی توجہ کا مرکز ہوں گے جنہوں نے اپنے پہلے ہی ون ڈے انٹرنیشنل میں شاندار کھیل پیش کرکے کامیابی دلائی تھی۔ فاتح پلیئنگ الیون میں تبدیلی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے تاہم ناصر جمشید کی مسلسل خراب کارکردگی ٹیم مینجمنٹ کو منطقی فیصلے پر مجبور بھی کرسکتی ہے۔
پہلے معرکے کی فاتح الیون میں چھیڑ چھاڑ کا امکان نہیں ہے، سینٹ جارجز پارک کی سلو وکٹ نے پاکستانی اسپنرز کی دھڑکنیں تیز کردیں، موسم کی دخل اندازی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اس بار سیریز جیتنے کا موقع نہیں گنوائیں گے، کھلاڑیوں کے حوصلے پہلی فتح سے بلند اور وہ دوسرے میچ کیلیے پوری طرح تیار ہیں، بیٹسمینوں کو ذمہ داری محسوس کرنا ہو گی۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ اپنے 500 ویں ون ڈے کو یادگار بنانے کا خواہاں ہے، ریان میکلرین کیلیے ڈیوڈ ملر کو جگہ خالی کرنا پڑسکتی ہے،کپتان ابراہم ڈی ویلیئرز نے کہاکہ ہم پر گرین شرٹس سے سیریز نہ ہارنے کی روایت برقرار رکھنے کا دباؤ ہے، اپنا ریکارڈ برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان جنوبی افریقہ کے خلاف کبھی ون ڈے سیریز نہیں جیت پایا، رواں برس اسے تیسری مرتبہ اس منفی روایت کا خاتمہ کرنے کا موقع میسر آرہا ہے، اس بار امکانات بھی زیادہ ہیں کیونکہ یہ صرف تین میچز کی سیریز اور پہلے میں فتح کی بدولت ٹیم1-0 کی برتری حاصل کرچکی ہے، اس لیے آج کھیلے جانے والے میچ میں فتح سے سیریز اپنے نام کرنے کے ساتھ تاریخ بھی بدل دیں گے۔ جنوبی افریقہ نے22 برس16روز قبل اپنا پہلا ون ڈے کھیلا تھا، اب ٹیم500 ویں میچ میں حصہ لینے والی ہے، یہ سینٹ جارجز پر کھیلا جارہا ہے جہاں پروٹیز نے کئی دہائیاں قبل اپنے پہلے ٹیسٹ میں شرکت کی تھی۔ پاکستان جنوبی افریقہ کے خلاف سب سے زیادہ ون ڈے میچز کھیلنے والی دوسری ٹیم ہے، دونوں کے درمیان اب تک 69 میچز ہوچکے جبکہ سب سے زیادہ 80 ون ڈے پروٹیز نے آسٹریلیا سے کھیلے ہیں۔ رواں برس جنوبی افریقہ اور پاکستان آپس میں ہی زیادہ تر ون ڈے میچز کھیلتے رہے، اب تک دونوں12 بار اس فارمیٹ میں میدان سنبھال چکے اور ہفتے کے روز تک یہ تعداد 14ہوجائے گی،اس طرح پاکستان ایک کیلنڈر ایئر میں پروٹیز سے سب سے زیادہ ایک روزہ میچز کھیلنے والا ملک بن جائے گا۔
مہمان ٹیم کی جانب سے ایک بار پھر انور علی اور بلاول بھٹی توجہ کا مرکز ہوں گے جنہوں نے اپنے پہلے ہی ون ڈے انٹرنیشنل میں شاندار کھیل پیش کرکے کامیابی دلائی تھی۔ فاتح پلیئنگ الیون میں تبدیلی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے تاہم ناصر جمشید کی مسلسل خراب کارکردگی ٹیم مینجمنٹ کو منطقی فیصلے پر مجبور بھی کرسکتی ہے۔