زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی پر صنعتی شعبے کا اظہار تشویش

وزیراعظم ڈالر کی قدر میں اضافے،سٹے بازی، پرتعیش اشیا کی درآمد پر کنٹرول کیلیے اقدامات کریں

ملک میں صرف ایک ماہ کے درآمدی بل کے برابر زرمبادلہ کے ذخائر تشویش کاباعث بن چکے ہیں۔ فوٹو فائل

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی پرصنعتی شعبے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی ڈالر کی قدر میں مستقل بنیادوں پر اضافے اور سٹے بازی پر قابو پانے کے سخت اقدامات وضح کریں۔

کورنگی ایسوسی ایشن کے ایس ایم منیر، کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین اور کاٹی کے صدرسید فرخ مظہر نے کہا ہے کہ صنعتی شعبے کوایک ماہ سے بھی کم مدت کے درآمدی بل کے حامل زرمبادلہ کے ذخائرپرتشویش لاحق ہوگئی ہے، صنعتی شعبے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ گھٹتے ہوئے زرمبادلہ ذخائرپاکستانی روپے کی قدرکو مزید تنزلی سے دوچار کررہی ہے جس کے باعث درآمدی بل میں اضافہ اورافراط زرکی شرح پرقابو پانا مشکل ہوگیا ہے جبکہ غربت کی لکیر سے نیچے کی معیار زندگی کا حجم بڑھتا جارہا ہے۔


انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف اوروفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار ڈالر پر جاری سٹہ بازی اور قیمت میں اضافے کانوٹس لیتے ہوئے روپے کی قدرکومستحکم کرنے کے اقدامات کریں جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اپنے دائرہ کار کوبڑھاتے ہوئے ڈالر گیم کوکنٹرول کرے۔



ملک میں اشیائے تعیش کی درآمدات پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ درآمد ی بل کے حجم میں کمی لائی جاسکے اورمقامی سطح پرمینوفیکچرنگ سیکٹر کوتقویت دینے کے لیے بجلی گیس کی فراہمی کویقینی بنائے۔ کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا کہ عوام اسوقت ٹماٹر،آلو اورپیاز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان ہیں۔کاٹی کے صدر سیدفرخ مظہر نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو قرض کی ادائیگی کے باعث اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 4ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے ہیں اورملک میں صرف ایک ماہ کے درآمدی بل کے برابر زرمبادلہ کے ذخائر تشویش کاباعث بن چکے ہیں جبکہ دوسری جانب ڈالر مارکیٹ میں نایاب بن چکا ہے اور دستیاب ہی نہیں ہے جبکہ قیمت خرید ڈالر کی ایک سو دس روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔
Load Next Story