بھارت پر پاکستان کیساتھ معاشی تعلقات بہتر بنانے پر زور
پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں بھارت کے ساتھ بہتر معاشی روابط کی خواہشمند ہیں،عشرت حسین
دونوں ممالک معاہدے کرنے اور پالیسیاں مرتب کرنے میں ماہر ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کیلیے اقدامات کا فقدان ہے،عشرت حسین
ماہر معاشیات، سابق گورنر اسٹیٹ بینک اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے ڈین ڈاکٹرعشرت حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ معاشی روابط بہتر بنانے کیلیے بھارت کی سیاسی قیادت کو اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔
پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں بھارت کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر بہتر معاشی روابط کی خواہش مند ہیں تاہم بھارت میں اس طرح کے سیاسی اتفاق رائے کا فقدان ہے، یہ بات انہوں نے گزشتہ روز آئی بی اے اور بھارت کی کونسل فار ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز کے اشتراک سے پاک انڈیا تجارتی تعلقات کی بہتری کے موضوع پر ایک روزہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکاری سطح پر بات چیت کے ایجنڈے میں سیاسی مسائل کو معاشی روابط پر زیادہ اہمیت دی گئی سیاسی مسائل اپنی جگہ اہم اور حل طلب ہیں لیکن معاشی روابط کو فروغ دے کر سیاسی مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہونے کے باوجود دونوں ملکوں میں 400ملین سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں، اس کے برعکس چین نے معاشی پالیسیوں اور تجارت بڑھا کر غربت کی شرح پر کافی حدتک قابو پالیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت میں ایشیا کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، مغرب کا سورج غروب ہورہا ہے جبکہ عالمی معاشی افق پر چین ایک بڑی طاقت بن کر ابھر چکا ہے، پاکستان کے دو بڑے پڑوسی ملک پاکستانی مصنوعات کی وسیع منڈیاں بن سکتے ہیں، پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے چین کے علاقوں میں پاکستانی سرمایہ کاری سے پاکستان کیلیے زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹے جاسکتے ہیں 2008 سے دنیا کساد بازاری کی لپیٹ میں ہے لیکن ایشیائی خطہ گروتھ انجن کا کردار ادا کررہا ہے۔
ایسٹ ایشیا اور آسیان کے خطے کی باہمی تجارت 56فیصد سے زائد ہے تاہم پاکستان اور بھارت کے مابین حقیقی معاشی پوٹینشل سے فائدہ نہ اٹھائے جانے کے سبب سارک ریجن (بشمول افغانستان) کی باہمی تجارت 5 فیصد سے بھی کم ہے جس سے نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ خطے کے دیگر ملکوں کے عوام بھی متاثر ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ دونوں ممالک معاہدے کرنے اور پالیسیاں مرتب کرنے میں ماہر ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کیلیے اقدامات کا فقدان ہے، دونوں ملکوں کو تجارت نارمل بنانے کیلیے افسر شاہی رکاوٹوں کے خاتمے، ویزا کے حصول میں آسانی، کسٹم اور ٹیکسوں کے مسائل، بینکاری روابط اور تجارتی سہولتوں پر کافی کام کرنا ہوگا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی سی آر آئی ای آر نئی دہلی کی ڈاکٹر نشا تنیجا نے کہا کہ دونوں ملکوں کے معاشی روابط مستحکم بنانے کیلیے ایم ایف این کے بعد بھی کڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا، دونوں ملکوں کیلیے تیسرے ملک کے ذریعے کی جانیوالی تجارت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ آئی سی آر آئی ای آرکے ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر راجت کتھوریانے کہا کہ ان کا انسٹی ٹیوٹ پاک بھارت تجارت کو نارمل بنانے کے پراجیکٹ پر اپنے بہترین وسائل اور صلاحیتیں صرف کررہا ہے، پاکستانی پالیسی ساز اور نجی شعبے آئی سی آر آئی ای آرکی ریسرچ سے استفادہ کرسکتا ہے ۔ کانفرنس سے ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک، انڈوپاک چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم منیر نے بھی خطاب کیا۔
پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں بھارت کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر بہتر معاشی روابط کی خواہش مند ہیں تاہم بھارت میں اس طرح کے سیاسی اتفاق رائے کا فقدان ہے، یہ بات انہوں نے گزشتہ روز آئی بی اے اور بھارت کی کونسل فار ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز کے اشتراک سے پاک انڈیا تجارتی تعلقات کی بہتری کے موضوع پر ایک روزہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکاری سطح پر بات چیت کے ایجنڈے میں سیاسی مسائل کو معاشی روابط پر زیادہ اہمیت دی گئی سیاسی مسائل اپنی جگہ اہم اور حل طلب ہیں لیکن معاشی روابط کو فروغ دے کر سیاسی مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہونے کے باوجود دونوں ملکوں میں 400ملین سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں، اس کے برعکس چین نے معاشی پالیسیوں اور تجارت بڑھا کر غربت کی شرح پر کافی حدتک قابو پالیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت میں ایشیا کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، مغرب کا سورج غروب ہورہا ہے جبکہ عالمی معاشی افق پر چین ایک بڑی طاقت بن کر ابھر چکا ہے، پاکستان کے دو بڑے پڑوسی ملک پاکستانی مصنوعات کی وسیع منڈیاں بن سکتے ہیں، پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے چین کے علاقوں میں پاکستانی سرمایہ کاری سے پاکستان کیلیے زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹے جاسکتے ہیں 2008 سے دنیا کساد بازاری کی لپیٹ میں ہے لیکن ایشیائی خطہ گروتھ انجن کا کردار ادا کررہا ہے۔
ایسٹ ایشیا اور آسیان کے خطے کی باہمی تجارت 56فیصد سے زائد ہے تاہم پاکستان اور بھارت کے مابین حقیقی معاشی پوٹینشل سے فائدہ نہ اٹھائے جانے کے سبب سارک ریجن (بشمول افغانستان) کی باہمی تجارت 5 فیصد سے بھی کم ہے جس سے نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ خطے کے دیگر ملکوں کے عوام بھی متاثر ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ دونوں ممالک معاہدے کرنے اور پالیسیاں مرتب کرنے میں ماہر ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کیلیے اقدامات کا فقدان ہے، دونوں ملکوں کو تجارت نارمل بنانے کیلیے افسر شاہی رکاوٹوں کے خاتمے، ویزا کے حصول میں آسانی، کسٹم اور ٹیکسوں کے مسائل، بینکاری روابط اور تجارتی سہولتوں پر کافی کام کرنا ہوگا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی سی آر آئی ای آر نئی دہلی کی ڈاکٹر نشا تنیجا نے کہا کہ دونوں ملکوں کے معاشی روابط مستحکم بنانے کیلیے ایم ایف این کے بعد بھی کڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا، دونوں ملکوں کیلیے تیسرے ملک کے ذریعے کی جانیوالی تجارت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ آئی سی آر آئی ای آرکے ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر راجت کتھوریانے کہا کہ ان کا انسٹی ٹیوٹ پاک بھارت تجارت کو نارمل بنانے کے پراجیکٹ پر اپنے بہترین وسائل اور صلاحیتیں صرف کررہا ہے، پاکستانی پالیسی ساز اور نجی شعبے آئی سی آر آئی ای آرکی ریسرچ سے استفادہ کرسکتا ہے ۔ کانفرنس سے ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک، انڈوپاک چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم منیر نے بھی خطاب کیا۔