پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں اضافہ

چین کااپنے قومی ذخائرسے روئی فروخت نہ کرنا، روئی ودھاگے کی درآمدات برقرار رکھنا موجب بنا

کاٹن ایکس چینج میں روئی کی قیمت گزشتہ10 ماہ کی کم ترین سطح پرآگئی۔ فوٹو: فائل

چین کی جانب سے اپنے قومی ذخائر سے روئی فروخت نہ کرنے، روئی اورسوتی دھاگے کی درآمدات برقرار رکھنے کے علاوہ ڈبلیو ٹی اومنسٹریل کانفرنس میں امریکا پراپنے کاشتکاروں کی زرتلافی روکنے کے دبائو جیسے عوامل دنیا بھر میں کپاس کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن گئی ہیں۔

مذکورہ عوامل کے سبب پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان غالب ہوگیا اورروئی کی قیمتوں میں 10فیصد تک اضافے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن ( پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ بین الاقوامی سٹہ بازوں کی جانب سے گزشتہ دو ہفتوں سے چین کی جانب سے اپنے قومی ذخائرسے روئی فروخت کرنے کے بارے میں افواہیں پھیلائی جارہی تھیں جس کے باعث نیویارک کاٹن ایکس چینج میں روئی کی قیمت گزشتہ10 ماہ کی کم ترین سطح پرآگئی تھیں لیکن گزشتہ روز چینی حکام کی جانب سے روئی کے قومی ذخائر سے فروخت نہ کرنے کی اطلاعات کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان غالب ہوگیا ۔




نتیجتا نیویارک کاٹن ایکس چینج میں پیر اورمنگل کی درمیانی شب مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 1.23 سینٹ فی پائونڈ اضافے سے 78.40سینٹ فی پائونڈ، پاکستان میں روئی کی قیمت 100روپے فی من اضافے سے 6 ہزار 600 روپے اور بھارت میں روئی کی قیمت 151 روپے فی کینڈی اضافے سے 39 ہزار 770 روپے کی سطح تک پہنچ گئیں، انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ چند روز کے دوران روئی کی قیمتوں میں مزید تیزی کا رجحان سامنے آئے گا، انہوں نے بتایا کہ 3سے 6 دسمبر 2013 تک بالی انڈونیشیا میں منعقدہ ڈبلیوٹی او منسٹریل کانفرنس میں توقع ہے کہ امریکا پر اپنے کپاس کے کاشتکاروں کو دی جانے والی زرتلافی پر پابندی عائد کردی جائے جس کے بعد امریکا میں کپاس کی قیمت میں تیزی کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھرکی کاٹن مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
Load Next Story