بھارت اور لورگاٹ کے تنازع کی کئی وجوہات سامنے آ گئیں

وولف کمیٹی تشکیل دے کربی سی سی آئی کو ناراض کیا،مخالفانہ بیانات بھی دیے، رپورٹ

لورگارٹ کے دور میں بی سی سی آئی مضبوط ہوا تاہم کئی ایسے مواقع آئے جب بھارت کو لورگاٹ کا طریقہ کار پسند نہیں آیا۔ فوٹو: فائل

بھارتی کرکٹ بورڈ اور ہارون لورگاٹ کے درمیان تنازع کی وجوہات سامنے آگئیں، جنوبی افریقی بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ماضی میں آئی سی سی کے بھی اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق انہی کے دور میں بی سی سی آئی مضبوط ہوا تاہم کئی ایسے مواقع آئے جب بھارت کو لورگاٹ کا طریقہ کار پسند نہیں آیا، سب سے بڑا تنازع اس وقت سامنے آیا جب انھوں نے لارڈ وولف کمیٹی تشکیل دے کرتمام بورڈز کے لیے ضابطہ اخلاق بنانے اور انتظامیہ کا ایک معیار قائم کرنے کی کوشش کی، اس کی سفارشات بھی بھارتی بورڈ کو ناگوار گزریں، وولف کمیٹی نے بی سی سی آئی کو اپنی انتظامیہ کے طرز عمل میں تبدیلی لانے کی نصیحت کے ساتھ کام کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے۔ بھارت نے شروع میں ہی اس کمیٹی کی تشکیل پر مخالفت ظاہر کی تھی لیکن اس کے باوجود نہ صرف وہ بنی بلکہ رپورٹ بھی عام ہوئی۔ ہریانہ اور پنجاب کے ریٹائرڈ چیف جسٹس مکل مدگل بھی اس کمیٹی کے رکن تھے۔




اگر اس کمیٹی کی تجاویز نافذ ہوتیں تو بی سی سی آئی سمیت کئی ممالک کے کرکٹ بورڈز کا بنیادی ڈھانچہ ہی بدل جاتا۔ اس کی سفارشات میں ایک تجویز سیاستدانوں کو کرکٹ بورڈ سے دور رکھنے کی بھی تھی، لورگاٹ کے آئی سی سی کے عہدے سے ہٹتے ہی اس کمیٹی کی رپورٹ سرد خانے میں ڈال دی گئی۔ اسی طرح بی سی سی آئی کی پسندیدگی کے برخلاف ڈی آر ایس کو کرکٹ میں نافذ کیا گیا، بھارت نے اسے نافذ کرنے سے صاف انکار کردیا، لورگاٹ کونسل میں اپنی مدت ملازمت میں توسیع بھی چاہتے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا، مبصرین کا خیال ہے کہ انھوں نے کئی بار علامتی طور پر بی سی سی آئی کو پشیمان کیا تھا۔2011 میں جب بھارت میں ورلڈ کپ کا انعقاد ہوا تب بھی لورگاٹ کے کئی تبصرے بی سی سی آئی کو گراں گذرے ،آئی سی سی چیف ایگزیکٹیو کے عہدے سے ہٹنے کے بعد لورگاٹ سری لنکن کرکٹ بورڈ سے بھی منسلک ہونا چاہتے تھے، قلیل مدت کے لیے وہ اس کے مشیر بھی رہے۔

میڈیا میں اس وقت یہ خبریں آئی تھیں کہ بی سی سی آئی کی ناپسندیدگی کی وجہ سے انھیں اس عہدے سے ہٹنا پڑا۔ کرکٹ جنوبی افریقہ میں سی ای او بننے سے پہلے بھی بی سی سی آئی نے ان کے نام پر ناراضی ظاہر کی تھی لیکن بورڈ نے اسے اہمیت نہیں دی، سی ای او بننے کے بعد لورگاٹ نے کئی بار بی سی سی آئی سے اختلافات دور کرنے کی کوشش کی لیکن بات نہ بن پائی، نتیجتاً بی سی سی آئی نے ٹیم کے دورئہ جنوبی افریقہ کو ختم کرنے کا ارادہ کر لیا،اب مختصر سیریز اس شرط پر ہو رہی ہے کہ لورگاٹ ٹور سے نہ صرف الگ رہیں گے بلکہ بی سی سی آئی کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں انھیں شامل نہیں کیا جائے گا۔لورگاٹ نسلی طور پر ہندوستانی مسلمان ہیں، ان کا خاندان کافی پہلے گجرات سے جنوبی افریقہ چلا گیا تھا، انھوں نے وہیں تعلیم حاصل کی اور فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی، وہ اس وقت ملک میں جاری نسل پرستانہ پالیسیزکی وجہ سے قومی ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے تھے۔
Load Next Story