سرتاج عزیز کی جواد ظریف سے ملاقات پاکستان اور ایران گیس لائن منصوبہ جلد مکمل کرنے پر متفق

تنظیم میں اصلاحات، تجارتی حجم میں اضافہ کیا جائے،ایرانی صدر کا خطاب،ای سی او2 روزہ وزرئے خارجہ اجلاس تہران میں شروع

تہران: مشیر خارجہ سرتاج عزیز وزرائے خارجہ اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ خوشگوار موڈ میں۔ فوٹو: اے ایف پی

اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے خارجہ کا 2روزہ 21واں اجلاس گزشتہ روزایران کے دارالحکومت تہران میں شروع ہوگیا ہے جس کا افتتاح ایرانی صدر حسن روحانی نے کیا۔

اجلاس میں ایران آذربائیجان سے اقتصادی وزارتی کونسل کے وزرا کی چیئرمین شپ سنبھالے گا۔ دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اورایران نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کوجلد مکمل کرنے اور باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفا ق کیاہے۔ یہ اتفاق منگل کوتہران میں مشیرخارجہ سرتاج عزیز اورایرانی وزیرخارجہ جوادظریف میں ملاقات میںہوا۔ سرتاج عزیزنے کہا دسمبرکے پہلے ہفتے میں پاک ایران توانائی کمیشن میںگیس پائپ لائن پر جامع تکنیکی مسائل دورکرنے پربات چیت کی جائیگی جبکہ پاک ایران وزارتی کمیشن کاآئندہ اجلاس ایران میں بلانے پر اتفاق کیاگیا۔ ملاقات میں دوطرفہ تعاون، علاقائی اور عالمی امور پر خصوصی بات چیت کی گئی۔پائیداراقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ای سی او کو مزید فعال کرنیکی ضرورت ہے۔




دریں اثناء مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے منگل کواجلاس میں بیان میں بتایاایران کیخلاف پابندیوں کے خاتمے کے بعدپاک ایران گیس پائپ لائن بنانے کے عمل میں تیزی آئیگی، سراوان میں دہشتگردی کے واقعے پرایران وپاکستان مشترکہ تحقیقات کررہے ہیں، دونوںملکوںکی سرحدی سیکیورٹی مستحکم بنانے کا میکنزم تیار کرنیکی کوشش کی جارہی ہے۔ سرتاج عزیزنے ایران اورپاکستان اقتصادی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اے ایف پی کے مطابق قبل ازیںایرانی صدرحسن روحانی نے اجلاس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میںعلاقائی تنظیم میں اصلاحات کی ضرورت پرزوردیا جس سے تجارتی حجم میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ تعاون کا تیسرا عشرہ شروع ہونے کیساتھ ای سی اومیں بعض اصلاحات کی ضرورت ہے، رکن ممالک تجارتی حجم بڑھانے کیلیے اقدامات کریں۔ 2012ء میں اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کا بین الاقوامی تجارتی حجم 817ارب ڈالر تھا جس میں بین العلاقائی تجارتی حجم صرف 10فیصد یعنی 83ارب ڈالر ہے۔
Load Next Story