کرزئی کا معاہدے پر فوری دستخط سے پھر انکار امریکا نے افغانستان سے فوج نکالنے کی دھمکی دیدی ڈرون حملوں می
بروقت دستخط نہ ہوئے توافغانستان سے نیٹو فورسز واپس چلی جائیں گی، امریکی مشیر سوزن رائس کی صدر کرزئی سے گفتگو
معاہدہ افغانستان میں پائیدار امن فراہم نہیں کرسکتا، اقوام متحدہ، ڈرون حملے صوبہ نورستان اور ننگرہار میں ہوئے فوٹو: فائل
امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے افغان صدر کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ سکیورٹی معاہدے کے لیے اگلے سال کا انتظار نہیں کر سکتے، ایسا نہ ہو کہ 2014ء کے بعد افغانستان میں کوئی امریکی فوجی نہ رکے۔
دوسری طرف صدر کرزئی نے ان کا یہ مطالبہ رد کر دیا ہے۔ وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات میں سوزن رائس کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے انخلا اور افغان سیکیورٹی امور سے متعلق اہم معاہدے پر دستخط کے لیے افغانستان کے صدارتی انتخابات کاانتظار نہیں کیا جا سکتا۔ سوزن رائس کا کہنا تھا کہ اگر اس معاہدے پر بر وقت دستخط نہ ہوئے توافغانستان سے نیٹو اور امریکا کی تمام افواج واپس چلی جائیں گی۔ وائٹ ہائوس کے مطابق حامد کرزئی نے امریکی مطالبہ رد کر دیا اور کہا کہ فوری طور پر معاہدے پر دستخط نہیں کیے جا سکتے۔ افغان صدر نے امریکا کے سامنے مزید شرائط بھی رکھ دیں۔ کرزئی نے مطالبہ کیا کہ امریکی افواج عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ نہ بنائے اورگوانتا نامو بے میں قید افغان شہریوں کو رہا کیا جائے تا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔
صدر کرزئی کے دفتر کا کہنا ہے کہ صدر نے امریکی مندوب سے مزید یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فوجی افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپے نہیں ماریں گے۔ خصوصی نمائندہ برائے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نکولس ہائیسوم نے کہا سیکیورٹی معاہدہ افغانستان میں پائیدار امن فراہم نہیں کرسکتا۔ وہ تہران میں نیشنل سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے چیئرمین علائوالدین بروجردی سے ملاقات کے د وران گفتگو کررہے تھے۔ اے پی پی کے مطابق افغانستان میں 2 امریکی ڈرون حملوں میں خواتین سمیت 8 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک امریکی ہیلی کاپٹرکے گرنے کی اطلاعات ہیں۔ مشرقی صوبے نورستان میں امریکی ڈرون کے ذریعے ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ دریں اثناء صوبے وردک میں ایک اور ڈرون حملے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ صوبہ ننگرہار میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا،جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیںآسکیں۔ مقامی پولیس نے ہیلی کاپٹر حادثے کی تصدیق کی ہے۔
دوسری طرف صدر کرزئی نے ان کا یہ مطالبہ رد کر دیا ہے۔ وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات میں سوزن رائس کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے انخلا اور افغان سیکیورٹی امور سے متعلق اہم معاہدے پر دستخط کے لیے افغانستان کے صدارتی انتخابات کاانتظار نہیں کیا جا سکتا۔ سوزن رائس کا کہنا تھا کہ اگر اس معاہدے پر بر وقت دستخط نہ ہوئے توافغانستان سے نیٹو اور امریکا کی تمام افواج واپس چلی جائیں گی۔ وائٹ ہائوس کے مطابق حامد کرزئی نے امریکی مطالبہ رد کر دیا اور کہا کہ فوری طور پر معاہدے پر دستخط نہیں کیے جا سکتے۔ افغان صدر نے امریکا کے سامنے مزید شرائط بھی رکھ دیں۔ کرزئی نے مطالبہ کیا کہ امریکی افواج عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ نہ بنائے اورگوانتا نامو بے میں قید افغان شہریوں کو رہا کیا جائے تا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔
صدر کرزئی کے دفتر کا کہنا ہے کہ صدر نے امریکی مندوب سے مزید یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فوجی افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپے نہیں ماریں گے۔ خصوصی نمائندہ برائے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نکولس ہائیسوم نے کہا سیکیورٹی معاہدہ افغانستان میں پائیدار امن فراہم نہیں کرسکتا۔ وہ تہران میں نیشنل سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے چیئرمین علائوالدین بروجردی سے ملاقات کے د وران گفتگو کررہے تھے۔ اے پی پی کے مطابق افغانستان میں 2 امریکی ڈرون حملوں میں خواتین سمیت 8 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک امریکی ہیلی کاپٹرکے گرنے کی اطلاعات ہیں۔ مشرقی صوبے نورستان میں امریکی ڈرون کے ذریعے ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ دریں اثناء صوبے وردک میں ایک اور ڈرون حملے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ صوبہ ننگرہار میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا،جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیںآسکیں۔ مقامی پولیس نے ہیلی کاپٹر حادثے کی تصدیق کی ہے۔