بھارت سے گاندھی کا وژن رخصت

مودی کے اقتدار نے جمہوریت اور سیکولر ازم کے چراغ ایک ایک کرکے گل کرنے کی جو فسطائی روش اپنائی ہے۔

مودی کے اقتدار نے جمہوریت اور سیکولر ازم کے چراغ ایک ایک کرکے گل کرنے کی جو فسطائی روش اپنائی ہے۔ فوٹو: فائل

بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور برہمی اب ہندوستانی حدود سے نکل کر آفاقی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ مودی کے اقتدار نے جمہوریت اور سیکولر ازم کے چراغ ایک ایک کرکے گل کرنے کی جو فسطائی روش اپنائی ہے، اس کے رد عمل کے لیے عالمی برادری کی ایک توانا صدا بھی عدلیہ میں گونجی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشل بیشلٹ نے بھارتی حکومت کی مخالفت کے باوجود متنازع شہریت قانون میں مداخلت کے لیے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے جس پر بھارت آگ بگولہ ہوگیا۔ مودی حکومت کی طرف سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ شہریت قانون اندرونی معاملہ ہے،کسی غیر ملکی ادارے کو بھارت کی خود مختاری سے متعلق امور عدالت لے جانے کاکوئی حق نہیں۔

یہی رعونت آمیز فسطائیت مودی حکومت نے جموں وکشمیر پر غاصبانہ قبضے کے وقت بھی دکھائی، بظاہر بھارت نے آئینی ، پارلیمانی اور جمہوری چہرہ دکھا کر عالمگیر جعل سازی اور مکر و فریب سے کام لیا، اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں قانون سازی کی آڑ لی مگر اپنی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے کشمیری عوام پر ظلم و بربریت اور جارحیت کے لیے ایک شرمناک حکمت عملی تیارکی اورکشمیرکی تاریخی اور قانونی حیثیت کو طاقت کے ذریعے بدل ڈالا، یہ جدید نوآبادیاتی اور استعمارپسندانہ پالیسی کی وہ چنگاری تھی جس نے جنت نظیر وادی کو انگار وادی اور دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا کر رکھ دیا جس میں بھارتی جمہوریت اور سیکولر ازم کی اجتماعی موت واقع ہوگئی۔

مودی کی ظلم پرستی کشمیری عوام کو لاک ڈاؤن کرنے کے ساتھ ہی بے قابو ہوگئی ، بھارتی حکمران دیدہ دلیر ہوگئے اور رفتہ رفتہ گجرات جیسے اندوہ ناک سانحے کا ری پلے ہندوستانی سیاست کے نئے مکروہ روپ میں ظاہر ہوگیا اور آج کا بھارت خود ان کے سابق رہنماؤں، مفکروں ، دانشوروں ، ججوں اورسابق فوجی سربراہوں کے بیانات کے مطابق تقسیم ہوتا نظر آرہا ہے جس کی ابتدا دلی کے خونی واقعات سے ہوئی ہے ، اسے با ضمیر بھارتی ادیب ، فنکار اور اپوزیشن سیاسی رہنما ''خاتمہ کی شروعات '' کا نام دیتے ہیں، جن لوگوں نے فرانسس فوکویاما کی کتاب '' ڈیتھ آف ہسٹری '' پڑھی ہے وہ اب بھارتی جمہوریت کی موت کا پرو فارما بھی دیکھنے کو بیتاب ہوں گے۔

ہندوستان ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمارنے بتایاکہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے جنیوا میں بھارت کے مستقل مشن کومتنازعہ شہریت ایکٹ پربھارتی سپریم کورٹ میں مداخلت کی درخواست دائرکرنے کے حوالے سے پیر کی شام آگاہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ مشل بیشلٹ نے گزشتہ ہفتے متنازع شہریت قانون ، عوامی مظاہروں اور دہلی فسادات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تشدد کے واقعات کو رکوائے۔ مودی حکومت نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے '' مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد '' کے بیان اور بھارت پر تنقیدکے خلاف ایرانی سفیر علی چیگنی کو طلب کر کے سخت احتجاج کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کو ایران کی جانب سے کسی ایسے تبصرے کی امید نہیں تھی۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کانگریس کے سینئر رہنما چدم برم نے بھارتی وزیرداخلہ امیت شا کے بیان ''متنازعہ قانون سے اقلیتی برادری کا کوئی فرد متاثر نہیں ہوگا '' کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ اقلیتوں کو فائدہ پہنچانا مقصدہے تو پھرقانون میں اقلیتوں کی فہرست سے مسلمانوں کوکیوں خارج کیا گیا؟

بھارتی این ڈی ٹی وی کے مطابق عوامی جلسے سے خطاب میں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش سے آنے والے وہ تمام لوگ جو الیکشنز میں ووٹ کاسٹ کررہے ہیں وہ بھارتی شہری ہیں انھیں دوبارہ شہریت حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔کسی ایک شخص کو بھی ریاست سے نکالنے کی اجازت نہیں دیں گی۔


انھوں نے مودی حکومت پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مغربی بنگال کو دوسرا دہلی نہیں بننے دینگی۔اُدھرہیوسٹن میں مقامی ہوٹل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سنیٹر کرسٹوفرہولن نے کہا کہ سیکولر بھارت میں آج مودی دور حکومت میں گاندھی کا ویژن رخصت ہورہا ہے۔

ٹرمپ دورہ بھارت کے موقعے پر ایک حصے میں مودی سے مل رہے تھے تو دوسرے حصے میں دلی کے اندر مسلمانوں پر مسلح حملے ہورہے تھے۔ انھوں نے کہاکہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش سے بھارت کو آگاہ کرنے کے لیے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیوکو خط لکھا تھا جواب کا انتظار ہے جس کے بعد ہم خیال سینٹرزکے باہمی مشورے سے بھارت کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

دوسری جانب دہلی مسلم کش فسادات میں50 افرادہلاک اور سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دہلی انتظامیہ نے فسادات پر عبوری رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق انتہا پسندوں نے122گھر322 دکانوں اور300 سے زائدگاڑیوںکوجلاکر راکھ کر دیا۔ تشدد کے کیس میں اب تک 1300 لوگوں کی گرفتاری ہو چکی ہے۔

اسی سیاق وسباق میں اگلے روز بھارت کے ممتاز اردو روزنامے '' سیاست '' نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران قومی یکجہتی ، باہمی بھائی چارہ اور انسانیت کی جو تصویر سامنے آئی اس سے فرقہ پرستوں، بلوائیوں اور حملہ آوروں کے حوصلے پست ہوگئے، ملک کے دانشوروں اور علماء نے یک زبان ہوکر کہا کہ یہ ملکی جمہوریت پر حملہ ہے۔

یہ حملے ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی اتحاد کو توڑنے کے لیے کرائے گئے، اور اس کے لیے باہر سے لوگ بلوائے گئے، لیکن شرپسند عناصر کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اخبار کے مطابق صدر جمعیت علمائے ہندکے رہنما مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ گزشتہ 70 سالوں سے ہندو مسلم اتحاد کی اتنی اعلیٰ مثال کبھی اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئی، انھوں نے کہا کہ ان فسادات کے دوران ہندو مسلم ایک دوسرے کی مدد اور حفاظت کرتے ہوئے ملے، مولانا نے کہا کہ یہ کپل مشرا کی اشتعال انگیزی تھی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان فسادات میں بی جے پی کا ہاتھ ہے۔

جسٹس سہیل صدیقی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال نے اپنے تقاریر میں باربار اس امر کی نشاندہی کی کہ یہ نئی سیاست کا آغاز ہے۔ ان کا بھی یہی انداز نظر تھا کہ مودی کی حکومت صورتحال کو بگاڑنے کے لیے باہر سے افرادی طاقت منگوا رہی ہے۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بھارتی سیاست اس وقت زوال اور ظلم وستم کی تمام حدیں عبور کرچکی ہے، مودی اور اس کے حواری بھارتی جمہوریہ کی ارتھی اٹھانے کی تیاریوں میں ہیں ، بھارت میں عقل وخرد اور ہوش مندی و انسانیت کی قدریں انحطاط پذیر ہیں، کشمیر سمیت بھارتی مسلمانوں اور اقلیتوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں ، بھارتی شیرازہ بکھرنے کو ہے۔

المیہ یہ ہے کہ آج سے ایک صدی قبل ہندوستان کے سابق صدر اور فلسفی رادھا کرشنن نے اپنی کتاب میں کہا تھا کہ '' نوع انسانی کے لیے یہ فیصلہ کن لمحہ ہے، ہم آج ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس میں المیے عالمگیر شکل اختیارکرچکے ہیں، انسانیت متحد ہونے کی بجائے تقسیم ہوتی نظرآرہی ہے'' آج بھارت کی مودی کی بدولت ویسی ہی حالت ہوگئی ہے۔ بھارت گاندھی کے وژن سے منحرف ہوگیا ہے۔
Load Next Story