اقوام متحدہ کی روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے مالی امداد کی اپیل

یہ اچھا اقدام ہے کہ اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کی طرف توجہ دی۔

یہ اچھا اقدام ہے کہ اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کی طرف توجہ دی۔ فوٹو : فائل

اقوام متحدہ نے لاکھوں پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں کی بحالی کے لیے تقریباً 900 ملین ڈالر کے لگ بھگ کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے برما (میانمار) کے علاقے راخائن میں صدیوں سے آباد روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہونے والے روہنگیا مسلمان جان بچانے کی خاطر بپھرے ہوئے سمندروں میں کودنے کے لیے مجبور ہو گئے اور ہزاروں کی تعداد میں قاتل لہروں کی نذر ہو گئے جب کہ کچھ لوگ قریبی پڑوسی ممالک جیسے بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ وغیرہ میں امان کی تلاش میں چلے گئے لیکن ان کی اکثریت کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور شکر ہے کہ بالآخر اقوام متحدہ کو ان آفت کے ماروں کا کچھ خیال آ گیا اور عالمی قوتوں سے اس انسانی مسئلہ سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تقریباً نوے کروڑ ڈالر کے لگ بھگ عطیات طلب کر لیے ہیں۔

اس سے قبل میانمار کی حکومت اور امن کا نوبل انعام جیتنے والی آنگ سان سوچی سے بھی رحمدلی کی اپیل کی گئی مگر لگتا ہے کہ بہتر طریقہ یہی ہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعے اس افسوسناک مسئلہ کا حل تلاش کریں جو دیرپا حل ثابت ہو۔


اقوام متحدہ نے جس رقم کی اپیل کی ہے وہ بنگلہ دیش میں لاکھوں روہنگیا باشندوں کے لیے استعمال کی جائے گی جو اتنے پناہ گزینوں کو اپنے یہاں رکھنے کا بوجھ برداشت کر رہاہے ۔ بتایا گیا ہے کہ موصول ہونے والا فنڈ پناہ گزینوں کی خوراک و رہائش اور صحت کی ضروریات کے لیے استعمال ہو گا۔ پناہ گزینوں کے بچوں کو مناسب تعلیم بھی فراہم کی جائے گی۔ اس حوالے سے بنگلہ دیش اور میانمار میں پہلے ہی ایک سمجھوتہ ہو چکا ہے جس کے مطابق ان بے گھروں کو واپس ان کے گھروں میں بھیجا جائے گا۔

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ شہریار عالم نے جنیوا میں بتایا کہ بین الاقوامی برادری کو بڑی سرعت کے ساتھ ان بے چاروں کی امداد و بحالی کے لیے آگے آنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز ان کی شہریت کی بحالی ہے جو میانمار نے بھی منسوخ کر رکھی ہے جب کہ بنگلہ دیش بھی اپنی طرف سے شہریت دینے پر تیار نہیں۔

یہ اچھا اقدام ہے کہ اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کی طرف توجہ دی۔اقوام متحدہ کا یہ فرض ہے کہ وہ میانمارکی حکومت پر دباؤڈال کر روہنگیا مسلمانوں کو ان کے وطن واپس بھجوانے کا انتظام کرے۔
Load Next Story