پاک ایران گیس پائن لائن منصوبہ
لمحہ بہ لمحہ بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اور امریکا کی برسوں پرانی عداوت اب دوستی میں ۔۔۔
پاکستانی و ایرانی وزرا ئے توانائی کی پہلی ملاقات ترکی میں ہوگی:معاہدے سے ایران سے تجارتی تعلقات بہترہونگے،عہدیدار۔ فوٹو:فائل
KARACHI:
لمحہ بہ لمحہ بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اور امریکا کی برسوں پرانی عداوت اب دوستی میں بدلتی نظر آ رہی ہے، چھ عالمی طاقتوں کی ضمانت اور امداد سے اپنی اقتصادی اور معاشی حالات کو سدھارنے کا عزم لیے نئی ایرانی حکومت کا کردار آنے والے دنوں میں خطے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا، اسی پس منظر میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس تہران میں جاری ہے۔ وہی پاک ایران گیس لائن منصوبہ جو گزشتہ حکومت نے جاتے جاتے کیا تھا جس پر اندرون خانہ اپوزیشن پارٹیوں نے تنقید بھی کی تھی، اس پر طرہ یہ کہ اس منصوبے کا سب سے بڑا مخالف امریکا تھا اور پاکستان پر بہت زیادہ دبائو تھا کہ وہ اس منصوبے کو ترک کر دے، لیکن اب صورتحال نے اچانک دوسرا رخ اختیار کیا ہے، دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور ایران نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد مکمل کرنے اور باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق منگل کو تہران میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف میں ملاقات میں ہوا۔ بلاشبہ یہ منصوبہ پاکستان کے مفاد میں ہے جس کی بدولت ہمیں گیس کی کمی پر قابو پانے اور توانائی کے بحران میں مدد ملے گی، پاک ایران توانائی کمیشن میں گیس پائپ لائن پر جامع تکنیکی مسائل دور کرنے پر بات چیت سے مسائل کو حل کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے کے بعد پاک ایران گیس پائپ لائن بنانے کے عمل میں تیزی آئیگی اور ایران اور پاکستان اقتصادی تعاون بڑھنے کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں۔ اس تنظیم کی اہمیت کا اندازہ ان اعداد و شمار سے بھی لگایا جا سکتا ہے جن کے مطابق 2012ء میں اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کا بین الاقوامی تجارتی حجم 817 ارب ڈالر تھا لیکن بین العلاقائی تجارتی حجم صرف 10 فیصد یعنی 83 ارب ڈالر ہے۔ اگر رکن ممالک باہمی تجارت اور اقتصادی منصوبوں پر خلوص نیت سے عمل کریں تو عالمی طاقتوں کی معاشی محتاجی سے خطے کو نجات مل سکتی ہے۔
لمحہ بہ لمحہ بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اور امریکا کی برسوں پرانی عداوت اب دوستی میں بدلتی نظر آ رہی ہے، چھ عالمی طاقتوں کی ضمانت اور امداد سے اپنی اقتصادی اور معاشی حالات کو سدھارنے کا عزم لیے نئی ایرانی حکومت کا کردار آنے والے دنوں میں خطے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا، اسی پس منظر میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس تہران میں جاری ہے۔ وہی پاک ایران گیس لائن منصوبہ جو گزشتہ حکومت نے جاتے جاتے کیا تھا جس پر اندرون خانہ اپوزیشن پارٹیوں نے تنقید بھی کی تھی، اس پر طرہ یہ کہ اس منصوبے کا سب سے بڑا مخالف امریکا تھا اور پاکستان پر بہت زیادہ دبائو تھا کہ وہ اس منصوبے کو ترک کر دے، لیکن اب صورتحال نے اچانک دوسرا رخ اختیار کیا ہے، دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور ایران نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد مکمل کرنے اور باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق منگل کو تہران میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف میں ملاقات میں ہوا۔ بلاشبہ یہ منصوبہ پاکستان کے مفاد میں ہے جس کی بدولت ہمیں گیس کی کمی پر قابو پانے اور توانائی کے بحران میں مدد ملے گی، پاک ایران توانائی کمیشن میں گیس پائپ لائن پر جامع تکنیکی مسائل دور کرنے پر بات چیت سے مسائل کو حل کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے کے بعد پاک ایران گیس پائپ لائن بنانے کے عمل میں تیزی آئیگی اور ایران اور پاکستان اقتصادی تعاون بڑھنے کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں۔ اس تنظیم کی اہمیت کا اندازہ ان اعداد و شمار سے بھی لگایا جا سکتا ہے جن کے مطابق 2012ء میں اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کا بین الاقوامی تجارتی حجم 817 ارب ڈالر تھا لیکن بین العلاقائی تجارتی حجم صرف 10 فیصد یعنی 83 ارب ڈالر ہے۔ اگر رکن ممالک باہمی تجارت اور اقتصادی منصوبوں پر خلوص نیت سے عمل کریں تو عالمی طاقتوں کی معاشی محتاجی سے خطے کو نجات مل سکتی ہے۔