بالآخر مخمصہ ختم ہوا

لوگ کہتے تھے کہ ہمارا آیندہ سپہ سالار اعظم کون ہو گا اس کی تقرری کا اختیار محترم وزیراعظم میاں نواز شریف ...

Abdulqhasan@hotmail.com

لوگ کہتے تھے کہ ہمارا آیندہ سپہ سالار اعظم کون ہو گا اس کی تقرری کا اختیار محترم وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب کے پاس ہے لیکن وہ صرف چھاچھ کو پھونکیں مارے جا رہے تھے، دودھ کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے تھے اور اس میں ان کا کوئی قصور بھی نہیں ہے کہ وہ ایسے دودھ جلے ہیں کہ برسوں تک دیار غیر میں اس جلن میں جلتے رہے اس لیے اگر وہ اب بہت محتاط ہیں تو یہ اچھی بات ہے کیونکہ میاں صاحب بذات خود اس بے احتیاطی کے شکار ہو چکے ہیں اور ان سے پہلے وطن عزیز میں اس کی ایک سے زیادہ مثالیں موجود ہیں۔ جنرل ایوب خان کو وفاقی کابینہ میں بطور وزیر دفاع مقرر کیا گیا جنہوں نے بعد میں خود کو صدر مملکت مقرر کر دیا اور اپنے وزیر دفاع بنانے والوں کو ملک بدر کر دیا جو اسی ملک بدری میں فوت بھی ہو گئے۔ بعد میں ایک وزیراعظم نے اپنے اختیارات میں سرشار ہو کر اپنے سپہ سالار کو اپنی پسند کے مطابق مقرر کیا لیکن اس جرنیل کی اپنی پسند کچھ اور تھی، اتنی اور تھی کہ اس نے اپنے سابقہ باس کو ملک بدر ہی نہیں دنیا بدر کر دیا۔

ان دو مثالوں کے بعد خود میاں صاحب بھی ایک مثال تو بن گئے لیکن جان بچانے میں کامیاب ہو گئے یہ ان کے سپہ سالار کی ناقص حکمت عملی تھی یا کوئی زعم تھا کہ وہ راستے میں رک گئے یا ان کو روک دیا گیا۔ بہر حال آج میاں صاحب ماشاء اللہ پھر اس ملک کے وزیراعظم ہیں جس کے اقتدار سے وہ برطرف ہی نہیں ملک بدر بھی کر دیے گئے تھے۔ حالات پھر پرانی ڈگر پر چلنا شروع ہوئے اور دودھ کے جلے میاں صاحب چھاچھ کو پھونکیں مارتے رہے۔ میاں صاحب نے یہ مشکل فیصلہ کر لیا اور بالاخر مخمصہ ختم ہو ہی گیا ۔ جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو یہ موجودہ سپہ سالار کی ملازمت کا آخری دن ہو گا اور یاد رکھئے کہ یہ دن بھی اس سپہ سالار نے رضا کارانہ طور پر مقرر کیا ہے ورنہ یہ دن برسوں تک طویل بھی ہو سکتا تھا ۔

اس دوران انھوں نے بہت طعنے سنے ہمارے کئی دوستوں کو مایوس بھی کیا لیکن نہ جانے کیا بات ہوئی کہ وہ چپ چاپ سگریٹ پر سگریٹ پھونکتے اور الوداعی ملاقاتیں کرتے کرتے گھر چلے گئے اور میرے عزیز ہموطنو کا مرغوب فوجی جملہ ان کی زباں پر ہی کہیں اٹک گیا۔ اگرچہ میرے جیسے وہمی آدمی کو آج آخری دن تک شک تھا کہ انھیں کہیں اپنے ہموطن یاد نہ آ جائیں لیکن بطور صحافی کے مجھے کوئی پریشانی نہیں۔ ہماری صحافت نے پہلے مارشل لاء کے زمانہ طفلی میں آنکھ کھولی اور پھر یہ بار بار کھلتی اور بند ہوتی رہی اس لیے ہم اب مکمل تربیت یافتہ ہیں کہ کسی مارشل لاء میں قلم کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہیے۔ خدانخواستہ اگر موقع مل جاتا تو میں مارشل لاء اور صحافت پر لیکچر بھی دیتا تاکہ نئے صحافی اپنے فرائض سے آگاہ ہو سکیں اور کسی میجر کے ہاتھوں مارے نہ جائیں۔


یہ ایسا موقع تھا کہ جس میں کوئی صاحب کشف ہی قوم کو اس مخمصے سے نکال سکتا تھا۔ میرے علم کے مطابق ایسے ایک صاحب گوجر خان میں ہیں تو دوسرے ان دنوں لندن میں ہیں۔ دونوں میری دسترس سے باہر ہیں اور ہم میاں صاحب کے رحم و کرم پر۔ محترم میاں صاحب بھی نہ جانے کن وسوسوں میں رہے ہوں گے اور چونکہ بریلوی مزاج کے ہیں اس لیے انھوں نے کوئی پیر فقیر تلاش کر رکھا ہو گا۔ ایک پیر صاحب محترمہ بے نظیر اور میاں صاحب کو ڈنڈے مارا کرتے تھے لیکن وہ فوت ہو چکے ہیں میاں صاحب نے ضرور کوئی متبادل تلاش کر لیا ہو گا۔ وہ اپنے خاندان پر نظر ڈالیں جہاں سے انھیں ہر فن مولا کوئی وزیر مل سکتا ہے تو کوئی پیر بھی مل سکتا ہے لیکن ایسے خانگی معاملات سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہے سوائے اس خواہش کے کہ میاں صاحب پر نازک گھڑیاں خیریت سے گزر جائیں( جو بالٓاخر گزر گئیں) اور وہ ادھر سے مطمئن ہو کر کوئی وزارت عظمیٰ والا کام بھی کریں۔

جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے میاں صاحب نے کئی وزارتیں اپنے دراز میں بند کر رکھی ہیں اور ان کے پاس محفوظ کسی ایک وزارت کو جب ان کے پاس محفوظ کسی دوسری وزارت سے کام پڑ جاتا ہے تو میاں صاحب خود ہی اپنے گھر میں یہ مسئلہ حل کر دیتے ہیں۔ ہمارے ایک بہت بڑے آدمی پطرس بخاری تھے جو گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل تھے۔ انھیں کچھ وقت کے لیے ایک ایسی جگہ کا ایڈیشنل چارج لینا پڑا جو کالج کے پرنسپل کے منصب سے بڑی تھی چنانچہ انھیں کبھی کبھار بطور پرنسپل جب اپنے اس 'افسر' سے کوئی کام پڑتا تو وہ اس کے نام خط لکھ دیتے اور پھر اس خط کو خود ہی وصول کرکے ظاہر ہے کہ اس کا جواب بھی دے دیتے لیکن دونوں کاغذات وہ اپنے پاس ہی سنبھال کر رکھ لیتے۔ مزاح نگار بخاری صاحب کا یہ دلچسپ واقعہ مجھے میاں صاحب کے پاس موجود ایک سے زیادہ وزارتوں کی وجہ سے یاد آیا۔

ان دنوں سپریم کورٹ نے وزیر دفاع کو کسی مقدمے میں پیشی کے لیے طلب کر رکھا ہے چنانچہ عدالت کو بتایا گیا کہ وزیر دفاع تو خود وزیراعظم ہیں لیکن عدالت میں جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری بیٹھے ہیں جن کے لیے سب برابر ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ کون سا 'وزیر دفاع' عدالت میں پیش ہوتا ہے۔ میاں صاحب نے اس مخمصے کا حل بھی نکال لیا ہے اور وزیر بجلی و پانی خواجہ آصف کو وزارت دفاع کا اضافی چارج دے دیا ہے۔ وزیراعظم میاں صاحب نے مرحوم پطرس بخاری کی طرح راستہ خود ہی نکال لیا ہے ورنہ یہ کام عدالت کو کرنا پڑتا اور آج کی سپریم کورٹ سے خدا کی پناہ۔ تفصیلات میں جانے کی جرات نہیں۔

جناب میاں صاحب نے ایک بڑے ہی مشکل وقت میں ملک کا چارج سنبھالا ہے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ بیس کروڑ آبادی سے بڑھ گئے ہیں۔ نرم سرخ ٹماٹر ہی کسی کے بس میں نہیں رہے اور سمجھ میں نہیں آتا کہ دال سے لے کر سبزی اور کسی سبزی سے لے کر گوشت تک کیا کھائیں بلکہ کیا نہ کھائیں۔ وہ لطیفہ اب تو سچ نظر آتا ہے جو کسی نے نئے ملازم سے کہا کہ تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ ہر روز دونوں وقت داتا صاحب کے مزار پر جائو خود کھا کر آئو اور میرے لیے لیتے آئو لیکن اربوں کھربوں پتی میاں صاحب کی سمجھ میں یہ لطیفہ نہیں آ سکتا حالانکہ ان کی خوش مزاجی بہت مشہور ہے۔
Load Next Story