نئے صوبوں کامعاملہ موخرکرنے کے قطعی حامی نہیںاحسن اقبال
طریقہ کارپرتحفظات ہیں،پارلیمانی کمیشن کی تشکیل نو،سربراہ سابق جج کوبنایاجائے
طریقہ کارپرتحفظات ہیں،پارلیمانی کمیشن کی تشکیل نو،سربراہ سابق جج کوبنایاجائے. فوٹو: این این آئی/فائل
مسلم لیگ (ن)کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ نئے صوبوںکے قیام کیلیے قائم کردہ پارلیمانی کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ کے سابق جج کو دی جائے۔
جس میںسیاسی ومعاشی اورآئینی ماہرین کوشامل کیاجائے ،کسی ہائوسنگ سوسائٹی کے پلاٹ کی تقسیم اورصوبے کی تقسیم میںبہت فرق ہوتاہے یہ ایک حساس معاملہ ہے، (ن) لیگ کا قطعی یہ موقف نہیںکہ نئے صوبوںکے قیام کامعاملہ موخر کیاجائے ہمیںحکومتی طریقہ کار پرتحفظات ہیںکمیشن کی تشکیل نوکی جائے، (ن) لیگ پھر اس کمیشن کا خوشی سے حصہ بنے گی۔
''ایکسپریس'' سے خصوصی گفتگو میں انھوںنے کہاکہ (ن) لیگ بہاولپوراورسرائیکی صوبے کے قیام کی حمایت کرتی ہے حکومت صوبائی خودمختاری کی نفی کررہی ہے ایک ایسا مسئلہ جس پراتفاق رائے ہوسکتا ہے اسے جان بوجھ کر انتخابی سیاست کیلیے متنازع بنا دیا ہے۔
انھوں نے کہاکہ کمیشن کی سربراہی سابق جج کو دینے کا مطلب یہ ہے کہ کمیشن سیاسی مصلحتوں سے بالاترہوکر قومی مفاد میں فیصلے کرے نئے صوبے کے قیام کیلیے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حالیہ بجٹ میں حکومت نے نئے صوبے کے قیام کیلیے ایک ارب روپے کی گرانٹ بھی مختص نہیںکی ہے ہم چاہتے ہیںکہ ہزارہ اور فاٹا کے عوام کیلیے الگ صوبے بنائے جائیں اورکمیشن کا دائرہ کار بڑھایا جائے۔
انھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی دانستہ یہ تاثر دے رہی ہے کہ (ن) لیگ نئے صوبوں کے خلاف ہے لیکن حکومت نے دانستہ (ن) لیگ اور حکومت پنجاب کواعتماد میںنہیں لیا اوراس مسئلہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے سے گریزاں ہے۔
جس میںسیاسی ومعاشی اورآئینی ماہرین کوشامل کیاجائے ،کسی ہائوسنگ سوسائٹی کے پلاٹ کی تقسیم اورصوبے کی تقسیم میںبہت فرق ہوتاہے یہ ایک حساس معاملہ ہے، (ن) لیگ کا قطعی یہ موقف نہیںکہ نئے صوبوںکے قیام کامعاملہ موخر کیاجائے ہمیںحکومتی طریقہ کار پرتحفظات ہیںکمیشن کی تشکیل نوکی جائے، (ن) لیگ پھر اس کمیشن کا خوشی سے حصہ بنے گی۔
''ایکسپریس'' سے خصوصی گفتگو میں انھوںنے کہاکہ (ن) لیگ بہاولپوراورسرائیکی صوبے کے قیام کی حمایت کرتی ہے حکومت صوبائی خودمختاری کی نفی کررہی ہے ایک ایسا مسئلہ جس پراتفاق رائے ہوسکتا ہے اسے جان بوجھ کر انتخابی سیاست کیلیے متنازع بنا دیا ہے۔
انھوں نے کہاکہ کمیشن کی سربراہی سابق جج کو دینے کا مطلب یہ ہے کہ کمیشن سیاسی مصلحتوں سے بالاترہوکر قومی مفاد میں فیصلے کرے نئے صوبے کے قیام کیلیے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حالیہ بجٹ میں حکومت نے نئے صوبے کے قیام کیلیے ایک ارب روپے کی گرانٹ بھی مختص نہیںکی ہے ہم چاہتے ہیںکہ ہزارہ اور فاٹا کے عوام کیلیے الگ صوبے بنائے جائیں اورکمیشن کا دائرہ کار بڑھایا جائے۔
انھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی دانستہ یہ تاثر دے رہی ہے کہ (ن) لیگ نئے صوبوں کے خلاف ہے لیکن حکومت نے دانستہ (ن) لیگ اور حکومت پنجاب کواعتماد میںنہیں لیا اوراس مسئلہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے سے گریزاں ہے۔