رعایتی قرضوں کی اسکیمیں بڑے برآمد کنندگان تک محدود
ویژن 2025 گروپ اجلاس، ای ایف ایس میں ایس ایم ایزکے 15فیصدحصے کا انکشاف۔
سستی مالکاری کادائرہ بڑھانے کی تجویز،ایگزائم بینک سے فنانسنگ مسائل حل ہونگے،دستاویز فوٹو: فائل
COLOMBO:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم سمیت رعایتی قرضوں کی فراہمی کی دیگر اسکیموں کی سہولت زیادہ تر بڑے برآمد کنندگان اور ٹیکسٹائل سیکٹر تک محدود ہے جبکہ ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم (ای ایف ایس) میں اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز (ایس ایم ایز)کا حصہ صرف 15فیصد ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب ویژن 2025 کی تیاری کے لیے مقامی وسائل کو متحرک بنانے، برآمدات کے فروغ اور ویلؤ ایڈیشن کے حوالے سے قائم ورکنگ گروپ کے اجلاس کے منٹس آف میٹنگ کے مطابق اسٹیٹ بینک ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم اور مشینری و پلانٹس کے لیے طویل مدتی فنانسنگ کے ذریعے برآمد کنندگان و صنعت کاروں کو رعایتی شرح پر لیکویڈٹی فراہم کی جارہی ہے، اس کے علاوہ ماڈرنائزیشن آف ایس ایم ایز کے لیے ری فنانسنگ اسکیم، فسیلٹی برائے زرعی پیداوار اورقابل تجدید انرجی استعمال کرنے والے پاور پلانٹس کے لیے بھی قرضے فراہم کیے جارہے ہیں۔
تاہم ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم کی سہولت زیادہ تر بڑے برآمد کنندگان اور ٹیکسٹائل سیکٹر تک محدود ہے اور اس میں ایس ایم ایز کا حصہ صرف 15 فیصد ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے تجویز دی گئی ہے کہ حکومت کی طرف سے رعایتی شرح پر قرضوں کی فراہمی اور انویسٹمنٹ سپورٹ سمیت جو دیگر مراعات و رعایت ٹیکسٹائل سیکٹر کو دی جا رہی ہیں وہ دوسرے پیداواری شعبوں کو بھی دینے کی ضرورت ہے۔ دستاویز کے مطابق اجلاس کے دوران اسٹیٹ بینک حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ ایگزائم بینک کے قیام کیلیے وزارت تجارت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان مل کر کام کررہے ہیں، ایگزائم بینک کا قیام ایس ایم ایز سمیت دیگر صنعتوں و منؤفیکچررز اور برآمد کنندگان کیلیے ایکسپورٹ فنانسنگ، ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی اور انشورنس سے متعلق معاملات حل کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم سمیت رعایتی قرضوں کی فراہمی کی دیگر اسکیموں کی سہولت زیادہ تر بڑے برآمد کنندگان اور ٹیکسٹائل سیکٹر تک محدود ہے جبکہ ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم (ای ایف ایس) میں اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز (ایس ایم ایز)کا حصہ صرف 15فیصد ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب ویژن 2025 کی تیاری کے لیے مقامی وسائل کو متحرک بنانے، برآمدات کے فروغ اور ویلؤ ایڈیشن کے حوالے سے قائم ورکنگ گروپ کے اجلاس کے منٹس آف میٹنگ کے مطابق اسٹیٹ بینک ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم اور مشینری و پلانٹس کے لیے طویل مدتی فنانسنگ کے ذریعے برآمد کنندگان و صنعت کاروں کو رعایتی شرح پر لیکویڈٹی فراہم کی جارہی ہے، اس کے علاوہ ماڈرنائزیشن آف ایس ایم ایز کے لیے ری فنانسنگ اسکیم، فسیلٹی برائے زرعی پیداوار اورقابل تجدید انرجی استعمال کرنے والے پاور پلانٹس کے لیے بھی قرضے فراہم کیے جارہے ہیں۔
تاہم ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم کی سہولت زیادہ تر بڑے برآمد کنندگان اور ٹیکسٹائل سیکٹر تک محدود ہے اور اس میں ایس ایم ایز کا حصہ صرف 15 فیصد ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے تجویز دی گئی ہے کہ حکومت کی طرف سے رعایتی شرح پر قرضوں کی فراہمی اور انویسٹمنٹ سپورٹ سمیت جو دیگر مراعات و رعایت ٹیکسٹائل سیکٹر کو دی جا رہی ہیں وہ دوسرے پیداواری شعبوں کو بھی دینے کی ضرورت ہے۔ دستاویز کے مطابق اجلاس کے دوران اسٹیٹ بینک حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ ایگزائم بینک کے قیام کیلیے وزارت تجارت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان مل کر کام کررہے ہیں، ایگزائم بینک کا قیام ایس ایم ایز سمیت دیگر صنعتوں و منؤفیکچررز اور برآمد کنندگان کیلیے ایکسپورٹ فنانسنگ، ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی اور انشورنس سے متعلق معاملات حل کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔