پاکستان نے پروٹیز کے جبڑے سے فتح چھین لی
جنید کی3 وکٹیں، آخری اوور میں 9 رنز کا دفاع کر لیا،احمد شہزاد کی سنچری
پورٹ ایلزبتھ: دوسرے ون ڈے میں کامیابی پر پاکستانی کرکٹرز خوشی سے بے قابو، جنوبی افریقی بیٹسمین ڈیوڈ ملر اور ریان میکلرین مایوس نظر آرہے ہیں، گرین شرٹس نے سیریز بھی جیت لی۔ فوٹو: اے پی
پاکستان نے پروٹیز کے جبڑے سے فتح چھین لی، دوسرے ون ڈے میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک رن کی جیت نے جنوبی افریقہ سے سیریز میں فتوحات کا قحط بھی ختم کر دیا۔
تیسرا میچ اب رسمی کارروائی ثابت ہو گا، بدھ کو میزبان سائیڈ 263 رنزکے تعاقب میں6 وکٹ پر261 رنز تک محدود رہی، ہاشم آملا نروس نائنٹیز کاشکار ہوئے، ڈی ویلیئرز نے 74 رنز بنائے، دونوں کے وکٹ گنوانے سے میچ پروٹیز کے ہاتھ سے نکل گیا، میچ میں 3 وکٹیں لینے والے جنید خان نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے آخری اوور میں حریف کو 9رنز نہ بنانے دیے۔ اس سے قبل بارش کے باعث 45 اوورز فی اننگز تک محدود مقابلے میں پاکستانی ٹیم 262 رنز بنا کر آئوٹ ہوئی، مین آف دی میچ احمد شہزاد نے 102 جبکہ صہیب مقصود اور عمر اکمل نے 42، 42 رنز بنائے، ڈیل اسٹین نے کیریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 6 وکٹیں لیں۔
تفصیلات کے مطابق 263 کے ہدف کا تعاقب کرنے والی میزبان ٹیم کو آغاز میں ہی نقصان اٹھانا پڑا،گریم اسمتھ ایک رن بناکرآئوٹ ہوگئے، جنید کی گیند پر وکٹ کیپر عمر اکمل نے کیچ تھاما، ڈی کک نے آملا کے ساتھ دوسری وکٹ کیلیے 87 رنز کی شراکت کی، انھیں 47 رنز پر آفریدی نے قابو کیا، کیچ مصباح نے تھاما، جیک کیلس کو صرف 6 رنز پر آفریدی نے سعید اجمل کی مددسے چلتا کیا، اس موقع پر آملا نے کپتان ڈی ویلیئرز کیساتھ چوتھی وکٹ کی شراکت میں 110رنز جوڑے، ڈی ویلیئرز 74 رنز بناکر جنید کی گیند پر آفریدی کے ہاتھوں کیچ ہوگئے، ہاشم آملا ٹیم کو بھی فتح کے قریب لے گئے، مگر پھر اچانک انھوں نے سعید اجمل کی گیند کو اوپر اچھال دیا، محمد حفیظ نے مشکل کیچ تھام کر اوپنر کی اننگز کا 98 رنز پر اختتام کردیا، انھوں نے 131 بالز کا سامناکیا،جب وہ آئوٹ ہوئے تو پروٹیز کو فتح کیلیے مزید 9 رنز درکار تھے، اگلے یعنی آخری اوور کی دوسری گیند پر جنید نے انور کی مدد سے ڈومنی (15) کو قابو کیا۔
آخری بال پر ملر فتح کیلیے درکار چھکا رسید نہیں کرپائے البتہ چار رنز ضرور ملے، جنید نے 3اور شاہد آفریدی نے2 وکٹیں لیں۔ اس سے قبل پاکستان ٹیم 262 رنز پر آئوٹ ہوئی، ٹاس جیت کر ابر آلود کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے کی خاطر میزبان نے پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، پہلے ہی اوور میں ڈیل اسٹین نے آئوٹ آف فارم ناصر جمشید (2) کو بولڈ کر دیا، حفیظ نے اپنے پرانے دشمن اسٹین کے سامنے سنبھل کر کھیلنے کی کوشش کی مگر صرف 8 رنز پر انہی کا شکار بن گئے، گیند بیٹ کو چھوتی ہوئی وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں سما گئی، اس موقع پر احمد شہزاد کو صہیب مقصود نے جوائن کیا، دونوں نے احتیاط سے اسکور بورڈ کو متحرک کرنا شروع کیا، احمد شہزاد نے ریان میکلرین، جیک کیلس اور عمران طاہر کے ابتدائی اوورز میں خود کو جلد بازی سے باز رکھا جبکہ دوسرے اینڈ سے صہیب نے بھی ان کا ساتھ دیا، دونوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 124 رنز جوڑے، ڈی ویلیئرز نے اس جوڑی کو توڑنے کیلیے ڈومنی کو گیند تھمائی مگر فائدہ نہیں ہوا، ریان میکلرین نے دوسرے اسپیل کا آغاز فل ڈلیوری سے کیا جسے صہیب نے ایکسٹرا کور کی جانب اچھالا، وہاں ہاشم آملا آسان کیچ تھامنے کیلیے تیار تھے۔
انھوں نے 42 رنز بنائے، مصباح جب آئے تو پاکستان کی پوزیشن قدرے بہتر تھی، دوسرے اینڈ پر احمد شہزاد، میکلرین کو چھکا جڑ کر 90 سے آگے بڑھ چکے تھے، انھوں نے عمران کی گیند پر سنگل سے کیریئر کی تیسری ون ڈے سنچری مکمل کی اور سجدہ شکر ادا کیا،2گیندوں بعد مصباح صرف 12 رنز پرعمران طاہر کی گیند پر کاٹ بی ہائنڈ ہوگئے، احمد شہزاد بھی 102 پر رن آئوٹ ہوئے کیونکہ دوسرے اینڈ پر موجود عمر اکمل گیند کی جانب دیکھنے میں مشغول تھے، جب اوپنر واپس پلٹے تو دیر ہوچکی تھی، اس موقع پر ڈیل نے پھر اسٹین گن چلائی، شاہد آفریدی 11 رنز پر ڈی ویلیئرز کا کیچ بنے، بلاول بھٹی نے اس بار 21 رنز بنائے، انھیں اسٹین نے ڈی کک کا کیچ بنایا، انور علی 7 رنز پر فیلڈ میں رکاوٹ کے جرم میں آئوٹ قرار دیے گئے، عمر اکمل 42 رنز پر اسٹین کی گیند پر کاٹ بی ہائنڈ قرار پائے تو انھوں نے فیصلے کو چیلنج کردیا مگر تھرڈ امپائر سے بھی انھیں کوئی مدد حاصل نہیں ہوئی، آخری گیند پر سعید اجمل بغیر کوئی رن بنائے ڈیل اسٹین کی چھٹی وکٹ بن گئے، کیچ کیلس نے تھاما، پیسر نے 9 اوورز میں صرف 39 رنز دیے۔
تیسرا میچ اب رسمی کارروائی ثابت ہو گا، بدھ کو میزبان سائیڈ 263 رنزکے تعاقب میں6 وکٹ پر261 رنز تک محدود رہی، ہاشم آملا نروس نائنٹیز کاشکار ہوئے، ڈی ویلیئرز نے 74 رنز بنائے، دونوں کے وکٹ گنوانے سے میچ پروٹیز کے ہاتھ سے نکل گیا، میچ میں 3 وکٹیں لینے والے جنید خان نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے آخری اوور میں حریف کو 9رنز نہ بنانے دیے۔ اس سے قبل بارش کے باعث 45 اوورز فی اننگز تک محدود مقابلے میں پاکستانی ٹیم 262 رنز بنا کر آئوٹ ہوئی، مین آف دی میچ احمد شہزاد نے 102 جبکہ صہیب مقصود اور عمر اکمل نے 42، 42 رنز بنائے، ڈیل اسٹین نے کیریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 6 وکٹیں لیں۔
تفصیلات کے مطابق 263 کے ہدف کا تعاقب کرنے والی میزبان ٹیم کو آغاز میں ہی نقصان اٹھانا پڑا،گریم اسمتھ ایک رن بناکرآئوٹ ہوگئے، جنید کی گیند پر وکٹ کیپر عمر اکمل نے کیچ تھاما، ڈی کک نے آملا کے ساتھ دوسری وکٹ کیلیے 87 رنز کی شراکت کی، انھیں 47 رنز پر آفریدی نے قابو کیا، کیچ مصباح نے تھاما، جیک کیلس کو صرف 6 رنز پر آفریدی نے سعید اجمل کی مددسے چلتا کیا، اس موقع پر آملا نے کپتان ڈی ویلیئرز کیساتھ چوتھی وکٹ کی شراکت میں 110رنز جوڑے، ڈی ویلیئرز 74 رنز بناکر جنید کی گیند پر آفریدی کے ہاتھوں کیچ ہوگئے، ہاشم آملا ٹیم کو بھی فتح کے قریب لے گئے، مگر پھر اچانک انھوں نے سعید اجمل کی گیند کو اوپر اچھال دیا، محمد حفیظ نے مشکل کیچ تھام کر اوپنر کی اننگز کا 98 رنز پر اختتام کردیا، انھوں نے 131 بالز کا سامناکیا،جب وہ آئوٹ ہوئے تو پروٹیز کو فتح کیلیے مزید 9 رنز درکار تھے، اگلے یعنی آخری اوور کی دوسری گیند پر جنید نے انور کی مدد سے ڈومنی (15) کو قابو کیا۔
آخری بال پر ملر فتح کیلیے درکار چھکا رسید نہیں کرپائے البتہ چار رنز ضرور ملے، جنید نے 3اور شاہد آفریدی نے2 وکٹیں لیں۔ اس سے قبل پاکستان ٹیم 262 رنز پر آئوٹ ہوئی، ٹاس جیت کر ابر آلود کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے کی خاطر میزبان نے پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، پہلے ہی اوور میں ڈیل اسٹین نے آئوٹ آف فارم ناصر جمشید (2) کو بولڈ کر دیا، حفیظ نے اپنے پرانے دشمن اسٹین کے سامنے سنبھل کر کھیلنے کی کوشش کی مگر صرف 8 رنز پر انہی کا شکار بن گئے، گیند بیٹ کو چھوتی ہوئی وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں سما گئی، اس موقع پر احمد شہزاد کو صہیب مقصود نے جوائن کیا، دونوں نے احتیاط سے اسکور بورڈ کو متحرک کرنا شروع کیا، احمد شہزاد نے ریان میکلرین، جیک کیلس اور عمران طاہر کے ابتدائی اوورز میں خود کو جلد بازی سے باز رکھا جبکہ دوسرے اینڈ سے صہیب نے بھی ان کا ساتھ دیا، دونوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 124 رنز جوڑے، ڈی ویلیئرز نے اس جوڑی کو توڑنے کیلیے ڈومنی کو گیند تھمائی مگر فائدہ نہیں ہوا، ریان میکلرین نے دوسرے اسپیل کا آغاز فل ڈلیوری سے کیا جسے صہیب نے ایکسٹرا کور کی جانب اچھالا، وہاں ہاشم آملا آسان کیچ تھامنے کیلیے تیار تھے۔
انھوں نے 42 رنز بنائے، مصباح جب آئے تو پاکستان کی پوزیشن قدرے بہتر تھی، دوسرے اینڈ پر احمد شہزاد، میکلرین کو چھکا جڑ کر 90 سے آگے بڑھ چکے تھے، انھوں نے عمران کی گیند پر سنگل سے کیریئر کی تیسری ون ڈے سنچری مکمل کی اور سجدہ شکر ادا کیا،2گیندوں بعد مصباح صرف 12 رنز پرعمران طاہر کی گیند پر کاٹ بی ہائنڈ ہوگئے، احمد شہزاد بھی 102 پر رن آئوٹ ہوئے کیونکہ دوسرے اینڈ پر موجود عمر اکمل گیند کی جانب دیکھنے میں مشغول تھے، جب اوپنر واپس پلٹے تو دیر ہوچکی تھی، اس موقع پر ڈیل نے پھر اسٹین گن چلائی، شاہد آفریدی 11 رنز پر ڈی ویلیئرز کا کیچ بنے، بلاول بھٹی نے اس بار 21 رنز بنائے، انھیں اسٹین نے ڈی کک کا کیچ بنایا، انور علی 7 رنز پر فیلڈ میں رکاوٹ کے جرم میں آئوٹ قرار دیے گئے، عمر اکمل 42 رنز پر اسٹین کی گیند پر کاٹ بی ہائنڈ قرار پائے تو انھوں نے فیصلے کو چیلنج کردیا مگر تھرڈ امپائر سے بھی انھیں کوئی مدد حاصل نہیں ہوئی، آخری گیند پر سعید اجمل بغیر کوئی رن بنائے ڈیل اسٹین کی چھٹی وکٹ بن گئے، کیچ کیلس نے تھاما، پیسر نے 9 اوورز میں صرف 39 رنز دیے۔