ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئر مین کا تبادلہ تاحال کسی کو چارج نہیں دیا گیا
نصاب کی تبدیلی اور چھپائی کی تیاریوں کے دوران تبادلہ حیران کن ہے، چندروزمیں کتب چھپائی کے ٹینڈرکھولے جائینگے
تبادلے کے بعد سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین کاعہدہ خالی ہوگیا. فوٹو: فائل
حکومت سندھ نے صوبائی محکمہ تعلیم کے اہم ترین ونگ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین کا تبادلہ کردیا ہے۔
یہ تبادلہ نئے تعلیمی سال کے لیے درسی کتابوں کی چھپائی کی تیاریوں اورنصاب کی تبدیلی کے سلسلے میں جاری امورکے دوران ہی کردیا گیا ہے، تبادلے کے بعد سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین کاعہدہ خالی ہوگیا اور اس اہم ترین عہدے پراب تک کسی دوسرے افسرکی تقرری عمل میں نہ آسکی،تبادلہ کیے گئے چیئرمین کی جگہ محکمہ تعلیم یاسندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے کسی دوسرے افسرکوچیئرمین کے عہدے کاعارضی چارج بھی نہیں دیاجاسکا، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین رفیق احمد کا تبادلہ ایسے وقت میں کیاگیا ہے جب سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے صوبے میں اسکولوں کی سطح پر نصاب کی تبدیلی پرکام جاری تھا۔
اس سلسلے میں قائم کمیٹیوں کے کئی اجلاس ہوچکے ہیں، کمیٹیاں اپنی سفارشات مرتب کرچکی ہیں اور پہلی سے چھٹی جماعت تک کے نصاب میں بڑے پیمانے پرتبدیلیاں بھی متوقع تھیں، دوسری جانب صوبائی محکمہ تعلیم کے احکام پرسندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے نئے تعلیمی سال پر درسی کتب کی چھپائی کی تیاریاں شروع کی جاچکی ہیں اور4روزقبل ہی درسی کتب کی چھپائی کے لیے پبلشرزکے لیے ٹیکنیکل ٹینڈر کھولے گئے ہیں جس کی منظوری کے فوری بعد آئندہ چندروزمیں فنانشل ٹینڈرکھولے جائینگے ۔
چیئرمین سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی اچانک تبدیلی کے سبب نصاب کی تبدیلی اورکتب کی چھپائی کاکام متاثرہونے کا اندیشہ پیداہوگیا ہے، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ذرائع کاکہناہے کہ بورڈ کے چیئرمین کے تبادلے کی کوئی بھی وجہ ہو اس تبادلے سے پبلشرزاور بورڈ کے افسران و ملازمین میں خوشی کی ایک لہرضرورپائی جاتی ہے کیونکہ تبادلہ کیے گئے چیئرمین اپنے سخت گیررویے کے سبب پبلشرز اورسندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے افسران و ملازمین کے درمیان غیرمقبول شخصیت تھے۔
یہ تبادلہ نئے تعلیمی سال کے لیے درسی کتابوں کی چھپائی کی تیاریوں اورنصاب کی تبدیلی کے سلسلے میں جاری امورکے دوران ہی کردیا گیا ہے، تبادلے کے بعد سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین کاعہدہ خالی ہوگیا اور اس اہم ترین عہدے پراب تک کسی دوسرے افسرکی تقرری عمل میں نہ آسکی،تبادلہ کیے گئے چیئرمین کی جگہ محکمہ تعلیم یاسندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے کسی دوسرے افسرکوچیئرمین کے عہدے کاعارضی چارج بھی نہیں دیاجاسکا، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین رفیق احمد کا تبادلہ ایسے وقت میں کیاگیا ہے جب سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے صوبے میں اسکولوں کی سطح پر نصاب کی تبدیلی پرکام جاری تھا۔
اس سلسلے میں قائم کمیٹیوں کے کئی اجلاس ہوچکے ہیں، کمیٹیاں اپنی سفارشات مرتب کرچکی ہیں اور پہلی سے چھٹی جماعت تک کے نصاب میں بڑے پیمانے پرتبدیلیاں بھی متوقع تھیں، دوسری جانب صوبائی محکمہ تعلیم کے احکام پرسندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے نئے تعلیمی سال پر درسی کتب کی چھپائی کی تیاریاں شروع کی جاچکی ہیں اور4روزقبل ہی درسی کتب کی چھپائی کے لیے پبلشرزکے لیے ٹیکنیکل ٹینڈر کھولے گئے ہیں جس کی منظوری کے فوری بعد آئندہ چندروزمیں فنانشل ٹینڈرکھولے جائینگے ۔
چیئرمین سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی اچانک تبدیلی کے سبب نصاب کی تبدیلی اورکتب کی چھپائی کاکام متاثرہونے کا اندیشہ پیداہوگیا ہے، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ذرائع کاکہناہے کہ بورڈ کے چیئرمین کے تبادلے کی کوئی بھی وجہ ہو اس تبادلے سے پبلشرزاور بورڈ کے افسران و ملازمین میں خوشی کی ایک لہرضرورپائی جاتی ہے کیونکہ تبادلہ کیے گئے چیئرمین اپنے سخت گیررویے کے سبب پبلشرز اورسندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے افسران و ملازمین کے درمیان غیرمقبول شخصیت تھے۔