جے ایس ایم یونیورسٹی میں سینڈیکٹ کی عدم تشکیل مسائل بڑھ گئے

بھرتیاں اورملازمین کی ترقیاں متاثر ، سینڈیکٹ کیلیے حکومت سندھ نے ابھی تک اپنے نمائندوں کے نام یونیورسٹی کو نہیں دیے

کسی بھی یونیورسٹی کے معاملات کوچلانے کیلیے سینڈیکٹ سے منظوری لی جاتی ہے ، فوٹو: فائل

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں سینڈیکٹ کی تشکیل نہ ہونے سے یونیورسٹی کے تمام منصوبے التوا کا شکار ہیں جبکہ یونیورسٹی کو مختلف امور کو چلانے کیلیے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

کسی بھی یونیورسٹی کے معاملات کوچلانے کیلیے سینڈیکٹ سے منظوری لی جاتی ہے لیکن جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کے ایک سال بعد بھی یونیورسٹی میں سینڈیکٹ کی تشکیل نہیں کی جا سکی جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے بیشتر منصوبے سردخانے کی نذر ہوگئے، معلوم ہوا ہے کہ یونیورسٹی کے سینڈیکٹ کی تشکیل میں حکومت سندھ بھی سست روی کامظاہرہ کررہی ہے اور وزیرا علیٰ سندھ نے یونیورسٹی کے سینڈیکٹ میں تاحال 3نمائندوں کی نامزدگی بھی نہیں کی، یونیورسٹی کا سینڈیکٹ 17مختلف ماہرین پر مشتمل ہوتا ہے جس میں حکومت سندھ کے 3نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔




جبکہ سینڈیکٹ میں 4پروفیسرز ،ایک وائس چانسلر، ایک سیکریٹری صحت، ایک ڈین یونیورسٹی ، ایک سندھ ہائیکورٹ کے جج،ایک رکن صوبائی اسمبلی اور ایک سینٹ کا نمائندہ شامل ہوتا ہے لیکن جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے سینڈیکٹ میں حکومت سندھ نے ابھی تک اپنے نمائندوں کے نام یونیورسٹی کونہیں دیے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے سینڈیکٹ کی تشکیل نہیں کی جاسکی دوسری جانب یونیورسٹی کا سینڈیکٹ نہ ہونے سے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی مختلف مسائل کا شکار ہورہی ہے یونیورسٹی میں ترقیاتی کام التوا کا شکار ہیں، ڈاکٹروں اور ٹیچینگ کیڈرکے عملے کی بھرتیوں، ترقیوں اورسلیکشن بورڈ سمیت دیگرمعاملات سردخانے کی نذر ہوگئے ، یونیورسٹی کے ملازمین نے وزیر اعلیٰ سے درخواست کی ہے کہ یونیورسٹی کے سینڈیکٹ کو مکمل کرنے کیلیے حکومت سندھ اپنے نمائندوںکی نامزدگیاں کرائے تاکہ سینڈیکٹ میں ارکان کی تعداد مکمل کی جاسکے۔
Load Next Story