گوانتاناموبے متعدد قیدیوں کو سی آئی اے کا ایجنٹ بننے پر رہائی ملی
قیدیوں کی نشاندہی سے کیے گئے ڈرون حملوں میں کئی اہم القاعدہ لیڈر مارے گئے، امریکی میڈیا
کچھ ڈبل ایجنٹ اپنے ملکوں میں جا کر غائب ہوگئے جن سے سی آئی اے کا رابطہ نہیں رہا۔فوٹو:فائل
ISLAMABAD:
امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ گوانتاناموبے کے متعدد قیدیوں کو سی آئی اے کا ایجنٹ بنا کر واپس ان کے ملکوں میں بھیجا گیا تھا۔
ان ایجنٹوں کی مدد سے کئی اہم مقامات پر ڈرون حملے کیے گئے اور القاعدہ کے کئی اہم رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کیلیے کام کرنے پر آمادہ قیدیوں کو بھاری رقم، آزادی اور فیملی کے تحفظ کا وعدہ کیا جاتا تھا۔ ان قیدیوں کو گوانتا نامو بے ہی میں واقع ٹریننگ سینٹر میں تربیت دی جاتی تھی۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق اس پروگرام کا آغاز جنوری2003ء میں کیا گیا تھا۔ کئی قیدی سی آئی اے کا ایجنٹ بننے پر آمادہ ہوئے جنھیں خفیہ فنڈ سے لاکھوں ڈالر ادا کیے گئے۔ ان قیدیوں کو رہا کر کے واپس ان کے ملکوں کو بھجوایا گیا۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان ڈبل ایجنٹوں کی نشاندہی پر ڈرون حملے کیے جاتے تھے جن میں القاعدہ کے کئی اہم رہنما مارے گئے۔
امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ گوانتاناموبے کے متعدد قیدیوں کو سی آئی اے کا ایجنٹ بنا کر واپس ان کے ملکوں میں بھیجا گیا تھا۔
ان ایجنٹوں کی مدد سے کئی اہم مقامات پر ڈرون حملے کیے گئے اور القاعدہ کے کئی اہم رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کیلیے کام کرنے پر آمادہ قیدیوں کو بھاری رقم، آزادی اور فیملی کے تحفظ کا وعدہ کیا جاتا تھا۔ ان قیدیوں کو گوانتا نامو بے ہی میں واقع ٹریننگ سینٹر میں تربیت دی جاتی تھی۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق اس پروگرام کا آغاز جنوری2003ء میں کیا گیا تھا۔ کئی قیدی سی آئی اے کا ایجنٹ بننے پر آمادہ ہوئے جنھیں خفیہ فنڈ سے لاکھوں ڈالر ادا کیے گئے۔ ان قیدیوں کو رہا کر کے واپس ان کے ملکوں کو بھجوایا گیا۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان ڈبل ایجنٹوں کی نشاندہی پر ڈرون حملے کیے جاتے تھے جن میں القاعدہ کے کئی اہم رہنما مارے گئے۔