افغانستان اور عراق میں تشدد اور ہلاکتیں
کیاافغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعدعراق کی ہی تاریخ دہرائی جائے گی؟ پاکستان کومنصوبہ بندی کرلینی چاہیے
عراق میں سلسلہ وار بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں فوجیوں سمیت کم از کم 30 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے، پولیس کو 19 افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں 2 مختلف مقامات پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا. فوٹو:فائل
ایک طرف امریکا آیندہ برس افغانستان سے اپنے فوجی انخلاء کے منصوبے کو آخری شکل دینے میں مصروف ہے دوسری طرف افغانستان میں امن و امان کی صورتحال بدستور قابو سے باہر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ تازہ اطلاع کے مطابق گزشتہ روز مشتبہ طالبان جنگجووں نے شمالی افغانستان کے ایک شورش زدہ علاقے میں ایک فرانسیسی امدادی گروپ کے لیے کام کرنیوالے مقامی عملے کے چھ ارکان کو گولی مارکر ہلاک کر دیا۔ یہ ہلاکتیں افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی میں ہوئیں تو ان کے جانے کے بعد وہاں کیا صورتحال ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق فریاب صوبہ کے ضلع پشتون کوٹ میں ان افراد کو ان کی کار سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا اور پھر گولی ماری گئی۔ اس صوبے کی سرحدیں ترکمانستان سے ملتی ہیں۔ پیرس میں اس ادارے کے دفتر کی طرف سے جاری بیان میں ہلاکتوں کی مذمت کی گئی ہے۔
ادھر عراق میں سلسلہ وار بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے نتیجے میں فوجیوں سمیت کم از کم تیس افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہو گئے، پولیس کو انیس افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں دو مختلف مقامات پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ رمادی میں خود کش حملہ آور نے ایک پولیس اسٹیشن کو حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار ہلاک جب کہ پندرہ زخمی ہو گئے، دارالحکومت بغداد کے شمالی علاقے میں بھی ایک اور پولیس اسٹیشن پر بھی خودکش حملہ ہوا جس میں مزید چار پولیس اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں عراق کے مختلف علاقوں میں فوجی تنصیبات پر بھی حملے ہوئے جن میں متعدد فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔ دوسری جانب عراقی پولیس کو انیس افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں بغداد میں دو مختلف مقامات پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ ان افراد کو کب ہلاک کیا گیا۔ افغانستان اورعراق میں یہ ساری تباہی امریکی مداخلت بے جا کا ہی شاخسانہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں عراق کی ہی تاریخ دہرائی جائے گی؟ پاکستان کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنا چاہیے۔
ادھر عراق میں سلسلہ وار بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے نتیجے میں فوجیوں سمیت کم از کم تیس افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہو گئے، پولیس کو انیس افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں دو مختلف مقامات پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ رمادی میں خود کش حملہ آور نے ایک پولیس اسٹیشن کو حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار ہلاک جب کہ پندرہ زخمی ہو گئے، دارالحکومت بغداد کے شمالی علاقے میں بھی ایک اور پولیس اسٹیشن پر بھی خودکش حملہ ہوا جس میں مزید چار پولیس اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں عراق کے مختلف علاقوں میں فوجی تنصیبات پر بھی حملے ہوئے جن میں متعدد فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔ دوسری جانب عراقی پولیس کو انیس افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں بغداد میں دو مختلف مقامات پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ ان افراد کو کب ہلاک کیا گیا۔ افغانستان اورعراق میں یہ ساری تباہی امریکی مداخلت بے جا کا ہی شاخسانہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں عراق کی ہی تاریخ دہرائی جائے گی؟ پاکستان کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنا چاہیے۔