تفتیشی افسر سہمے ہوئے ہیں کیوں
کراچی میں غیر قانونی اسلحہ اورمنشیات کی اسمگلنگ کا مضبوط نیٹ ورک قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف ہے
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سپریم کورٹ رجسٹری میں بدامنی کیس کی سماعت کر رہے ہیں،معاشی حب میں اسلحہ کی فراوانی، منشیات، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کی وارداتوں کے باعث حالات انتہائی تشویش ناک ہیں. فوٹو: فائل
سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران کسٹم حکام نے سہراب گوٹھ میں منشیات اور اسلحے کے اڈے کے حوالے سے جو گمبھیر صورتحال بتائی اسے دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جرائم پیشہ مافیائیں منی پاکستان میں کس دیدہ دلیری سے متوازی حکومت چلارہی ہیں۔عدالت عظمیٰ کے روبرو کہا گیا کہ طالبان کی موجودگی اور تسلط کے باعث کارروائی نہیں کر سکتے جب کہ عدالت نے ریمارکس دیے کہ 'ریاستی ادارے اسلحہ کی موجودگی کے خوف سے سہراب گوٹھ پر کارروائی نہیں کرسکتے تو اگر کل دشمن حملہ کردے تو کیا اس لیے سرنڈر کردیا جائیگا کہ اس کے پاس اسلحہ ہے ۔' یوں ثابت ہوتا ہے کہ کراچی میں دہشت گردی،غیر قانونی اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ کا مضبوط اور خوفناک نیٹ ورک قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ان سے نمٹنے کا حوصلہ نہیں۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجربنچ نے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف کلکٹر کسٹمز سے کرپشن کے بارے میں جواستفسارات کیے وہ چشم اور عبرت انگیز تھے، ایڈووکیٹ جنرل خالد جاوید نے بتایا کہ کراچی آپریشن کے دوران بڑے پیمانے پرغیرقانونی اسلحہ پکڑاگیا جب کہ 1386مقدمات درج ہوئے ہیں جن کی پراسیکیوشن میں مشکلات کا سامنا ہے، حکومت200 تفتیشی افسر بھی بھرتی کررہی ہے، مگر تفتیشی افسران سہمے ہوئے ہیں، پچھلے دنوں پبلک پراسیکیوٹر عبدالمعروف پر حملہ کیا گیا تھا ۔ملک کے معاشی حب میں اسلحہ کی فراوانی، منشیات، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کی وارداتوں کے باعث حالات انتہائی تشویش ناک ہیں، گینگ وار کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اسٹریٹ کرائم میں شہری اپنی نقدی ،زیورات،اور موبائل فونز سے محروم کیے جارہے ہیں،گاڑیوں کی چوری عروج پر ہے، سہراب گوٹھ برس ہا برس سے سماج دشمن عناصر، اسلحہ اور منشیات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے وہاں ماضی میں گرینڈ آپریشن بھی ہوا تھا تاہم اب کراچی میں کئی سہراب گوٹھ قائم ہیں جن کے خاتمہ کے لیے کسٹم، پولیس،رینجرز اور انٹیلی جنس اداروں کو مربوط کریک ڈائون کی تیاری کرنا چاہیے تاکہ مجرموں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا بھی دلائی جائے۔عدالتی حکم کے مطابق اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجربنچ نے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف کلکٹر کسٹمز سے کرپشن کے بارے میں جواستفسارات کیے وہ چشم اور عبرت انگیز تھے، ایڈووکیٹ جنرل خالد جاوید نے بتایا کہ کراچی آپریشن کے دوران بڑے پیمانے پرغیرقانونی اسلحہ پکڑاگیا جب کہ 1386مقدمات درج ہوئے ہیں جن کی پراسیکیوشن میں مشکلات کا سامنا ہے، حکومت200 تفتیشی افسر بھی بھرتی کررہی ہے، مگر تفتیشی افسران سہمے ہوئے ہیں، پچھلے دنوں پبلک پراسیکیوٹر عبدالمعروف پر حملہ کیا گیا تھا ۔ملک کے معاشی حب میں اسلحہ کی فراوانی، منشیات، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کی وارداتوں کے باعث حالات انتہائی تشویش ناک ہیں، گینگ وار کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اسٹریٹ کرائم میں شہری اپنی نقدی ،زیورات،اور موبائل فونز سے محروم کیے جارہے ہیں،گاڑیوں کی چوری عروج پر ہے، سہراب گوٹھ برس ہا برس سے سماج دشمن عناصر، اسلحہ اور منشیات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے وہاں ماضی میں گرینڈ آپریشن بھی ہوا تھا تاہم اب کراچی میں کئی سہراب گوٹھ قائم ہیں جن کے خاتمہ کے لیے کسٹم، پولیس،رینجرز اور انٹیلی جنس اداروں کو مربوط کریک ڈائون کی تیاری کرنا چاہیے تاکہ مجرموں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا بھی دلائی جائے۔عدالتی حکم کے مطابق اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔