نظام قانون کو نصاب میں تبدیلی لا کر بہتر کیا جا سکتا ہے گورنر سندھ
سرکاری لا کالجز مینجمنٹ،ایڈمنسٹریشن اور سپروائزری سمیت شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا سے منسلک ہوجائیں، گورنر
قانون کی حکمرانی کیلیے قانون کی تعلیم ضروری ہے،چیف جسٹس مقبول باقر،گورنرکی یونیورسٹی آف لا کیلیے رقم جاری کرنیکی یقین دہانی ۔ فوٹو : ایکسپریس
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ یہ موضوع ترین وقت ہے کہ نصاب میں انقلابی تبدیلیاں لاکر نظام قانون کو بہتر بنا سکیں گورنر ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان میں قائم ہونے والی پہلی قانون کی جامعہ سندھ میں موجود تمام لا کالجز کی نمائندہ جامعہ ہوگی۔
''نیشنل لیگل ایجوکیشن کانفرنس '' سے خطاب میں گورنر سندھ نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ سرکاری شعبے سے وابستہ تمام لا کالجز اپنے مینجمنٹ، ایڈمنسٹریشن ، سپر وائزری او ر فنانشل کنٹرول سمیت اس جامعہ سے منسلک ہوجائیں، کانفرنس میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مقبو ل باقر ، شہید ذولفقار علی بھٹو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قاضی خالد علی، سینیٹر فروغ نسیم ، سابق نگراں وزیر اعلیٰ سندھ قربان علوی، جرمنی کے قونصل جنرل سمیت حاضر اور سابق ججز سمیت دیگر افراد بھی شریک تھے، گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ قانونی درسگاہوں میں انقلابی تبدیلیاں لانا ضروری ہے تاکہ اس کی سطح تعلیم کو بلند ی تک پہنچایا جاسکے ۔
انھوں نے کہا کہ میں بحیثیت ڈاکٹر یہ جانتا ہوں کہ حکمت اور قانون 2 ایسے شعبے ہیں جس سے وابستہ افراد اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہیں اور جن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ غریبوں کو بہتر انداز میں اپنی خدمات پیش کرسکیں اسی طرح وکیل ، قانون دان اور اساتذہ اپنے علم کے ذریعے پیشہ ورانہ طور پر مشکلات کا حل دیتے ہیں، گورنر نے کراچی میں امن و امان کے حوالے سے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کی کوششوں کو سراہا، تعلیمی پھیلاؤ کے لیے مالی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے میں یقین دلاتا ہوں کہ میں سفارش کروں گا کہ ایک خطیر رقم شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کے قیام کے لیے مختص کی جائے انھوں نے یونیورسٹی کے لیے مختص 100 ملین روپے جلد جاری کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کے لیے قانون کی تعلیم بنیادی ضرورت ہے مجھے امید ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا قانون کی تعلیم میں اپنا منفرد کردار ادا کرے گی۔
''نیشنل لیگل ایجوکیشن کانفرنس '' سے خطاب میں گورنر سندھ نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ سرکاری شعبے سے وابستہ تمام لا کالجز اپنے مینجمنٹ، ایڈمنسٹریشن ، سپر وائزری او ر فنانشل کنٹرول سمیت اس جامعہ سے منسلک ہوجائیں، کانفرنس میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مقبو ل باقر ، شہید ذولفقار علی بھٹو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قاضی خالد علی، سینیٹر فروغ نسیم ، سابق نگراں وزیر اعلیٰ سندھ قربان علوی، جرمنی کے قونصل جنرل سمیت حاضر اور سابق ججز سمیت دیگر افراد بھی شریک تھے، گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ قانونی درسگاہوں میں انقلابی تبدیلیاں لانا ضروری ہے تاکہ اس کی سطح تعلیم کو بلند ی تک پہنچایا جاسکے ۔
انھوں نے کہا کہ میں بحیثیت ڈاکٹر یہ جانتا ہوں کہ حکمت اور قانون 2 ایسے شعبے ہیں جس سے وابستہ افراد اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہیں اور جن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ غریبوں کو بہتر انداز میں اپنی خدمات پیش کرسکیں اسی طرح وکیل ، قانون دان اور اساتذہ اپنے علم کے ذریعے پیشہ ورانہ طور پر مشکلات کا حل دیتے ہیں، گورنر نے کراچی میں امن و امان کے حوالے سے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کی کوششوں کو سراہا، تعلیمی پھیلاؤ کے لیے مالی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے میں یقین دلاتا ہوں کہ میں سفارش کروں گا کہ ایک خطیر رقم شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کے قیام کے لیے مختص کی جائے انھوں نے یونیورسٹی کے لیے مختص 100 ملین روپے جلد جاری کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کے لیے قانون کی تعلیم بنیادی ضرورت ہے مجھے امید ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا قانون کی تعلیم میں اپنا منفرد کردار ادا کرے گی۔