قلم کی نوک کلاشنکوف کے خلاف مؤثر ہتھیار بن سکتی ہے قائم علی شاہ

شعرا اورادیب ملک کودہشتگردی سے نجات دلانے میں کرداراداکرسکتے ہیں،بلاخوف اظہارخیال کرنا چاہیے،قائم علی شاہ

آرٹس کونسل کیلیے ایک کروڑروپے گرانٹ کااعلان،اجلاس میںمعیاری تعلیم تک رسائی دینے کیلیے مؤثرقانونی طریقہ وضع کرنیکی ہدایت فوٹو : فائل

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہاہے کہ مذہب و زبان سے پیاری کوئی شے نہیں ہوتی ،صوفیوں اور تصوف ازم کے پیغام کوپھیلانے کی اشدضرورت ہے۔

ہمیں صرف خدا سے ڈرنا چاہیے اوربلاخوف و خطر اظہار خیال کرنا چاہیے،قلم کی نوک ٹینکوں اورکلاشنکوف کے خلاف زیادہ موثرہتھیار ثابت ہوسکتی ہے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں چھٹی عالمی اردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ملک کوامن و امان کا مسئلہ درپیش ہے،ایسے میں اس طرح کی محفلیں وادیب و شعرا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں،مایوسی کی فضاسے ادیب و دانش ور ہی ہمیں باہرنکال سکتے ہیں،حقیقت کوتسلیم کرناچاہیے ،دہشت گرد جو کرائم کرتے ہیں ان پرضرور لکھا جائے تواس سے دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

ہماری کوشش ہے کہ کراچی کو دہشت گردی سے نجات دلائیں،اس کے اثرات پورے ملک پر پڑیں گے۔انھوں نے کہاکہ نہ تو میں ادیب ہوںاورنہ شاعرالبتہ تین زبانیں اردو،سندھی اور انگریزی جانتا ہوں، اس لیے پڑھے لکھوں کی اس محفل میں آکرخوشی محسوس کررہا ہوں۔ انھوں نے اس موقع پرآرٹس کونسل کے لیے ایک کروڑروپے کی گرانٹ کااعلان کیا۔اس موقع پر آرٹس کونسل کے صدرمحمداحمدشاہ نے کہاکراچی کے نامساعد حالات میں ہم نے ثقافتی سرگرمیوںکوجاری رکھاہوا ہے۔




ہماری جنگ جہالت کے خلاف ہے اور ہماری یہ جنگ حق و باطل کی ہے،اردو کا کسی زبان سے کوئی جھگڑا نہیں، کانفرنس میں تمام زبانوں کے اکابرین کو مدعو کیا گیاہے۔دریں اثنا''یونیورسٹی بل ''میں مجوزہ ترامیم سے متعلق وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقد ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہاکہ ہر شہری کومعیاری تعلیم تک رسائی یقینی بنانے کے لیے ایک مؤثر قانونی طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین قانون و تعلیم کی ایک کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی ہے ، جو سرکاری جامعات کے اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے ، ٹیچنگ فیکلٹی کو بہتر بنانے اور معیار تعلیم کو بلندکرنے کیلیے یونیورسٹی بل میں ترامیم کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکومت سندھ تمام جامعات کومطلوبہ فنڈز فراہم کر رہی ہے،مگرمؤثر قانونی طریقہ کار نہ ہونے کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہورہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمیٹی کے ارکان کو جامعات کے تدریسی اورانتظامی شعبوں کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جامعات کے حوالے سے مجوزہ ترمیمی بل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیش کرنے سے قبل صوبائی کابینہ سے اس کی منظوری لی جائے گی۔

Recommended Stories

Load Next Story