چند لوگوں نے فیڈریشن پر جعلسازی سے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے سینیٹر عبدالحسیب کا الیکشن رکوانے کا اعلان
ٹریڈباڈیزکی چھان بین کی جائے،ایف پی سی سی آئی کے الیکشن رکوانے کیلیے پیرکوحکومت کودرخواست دونگا،انتخابی عمل نہ...
کراچی چیمبر اورفیڈریشن میں عہدے خوشامدیوںتک محدود ہیں، ملک گیر صنعتی ایوان بنانے کیلیے ٹریڈآرگنائزیشن آرڈیننس میں ترمیم کابل پیش کردیا، پریس کانفرنس ۔ فوٹو : عرفان علی / ایکسپریس
ملک گیر سطح پرانڈسٹریل چیمبر کے قیام کیلیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت میں ٹریڈ آرگنائزیشن آرڈیننس میںدوشقوں کے اضافے کا بل پیش کردیا گیا ہے۔
یہ بات کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سابق چیئرمین سینیٹرعبدالحسیب خان نے جمعہ کو مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ایوانوں میں مجوزہ ترامیم سادہ اکثریت سے منظورہوسکتی ہے اورانڈسٹریل چیمبر کے قیام سے پاکستان میں صنعتی شعبے کی بقا وترقی ممکن ہوسکے گی، فی الوقت قائم چیمبرآف کامرس اور فیڈریشن صنعتی شعبے کی نمائندگی کے دعویدار تو ہیں لیکن حقیقت میں وہ صرف امپورٹ اور ٹریڈرز کے مفادات کا تحفظ کررہی ہیں جس کی وجہ سے کراچی سمیت ملک کے دیگرحصوں کے صنعتکاروں نے انڈسٹریل چیمبر کے قیام کی مکمل حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نام نہاد معیشت کے ٹھیکیدارہی جاری معاشی بحران کے اصل ذمے دارہیں کیونکہ کراچی چیمبر اورایف پی سی سی آئی میں عہدوں کی تقسیم صرف خوشامدی افراد تک محدود ہے، چند لوگوں نے فیڈریشن پر اپنا تسلط قائم رکھنے کیلیے جعلی ٹریڈ باڈیزکا سہارا لیا ہوا ہے لیکن سینیٹ میں صنعتکاروں کا نمائندہ ہونے کے ناطے وہ ایف پی سی سی آئی کی موجودہ ٹریڈ باڈیزکے بل بوتے پر ہونیوالے انتخابات کے خلاف پیر کووفاقی حکومت کو باقاعدہ درخواست داخل کرائیں گے جس میں فیڈریشن کے انتخابات کومنسلک تمام ٹریڈ باڈیزکی چھان بین مکمل ہونے سے مشروط کرانے کا مطالبہ کیا جائیگااور اگر پھر بھی انتخابی عمل کونہ روکاگیا توعدالت سے رجوع کیا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ انڈسٹریل چیمبر کے قیام سے حقیقی صنعت کاروں کو انکی نمائندگی کرنیوالا پلیٹ فارم مل جائیگا، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے 27 نومبر کو منعقدہ اجلاس میں سینیٹرحاجی غلام علی، اسلام الدین شیخ، کریم خواجہ، چوہدری محمد جعفراقبال، سیکریٹری تجارت، ڈی جی ٹی اونے بھی شرکت تھی اور اس اجلاس میں ٹریڈآرڈنینس میں 2 شقیںبڑھانے پر اتفاق کیا گیا کیونکہ اس اقدام سے صنعتی چیمبرز کے قیام کیلیے نیاقانون بنانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
سینیٹرعبدالحسیب خان نے کہا کہ صنعتی چیمبرز کے قیام سے بعض لوگ خوف زدہ ہیں جس کی بڑی وجہ حقیقی قیادت سامنے آنے سے بہت سارے نام نہاد صنعت کاروں کی دکانیں بند ہوجائیں گی، گزشتہ برسوں میں ایف پی سی سی آئی میں صدر کون بناہے، کیا وہ سب حقیقی صنعتکارتھے، نہیں بلکہ وہ ٹریڈر تھے جن کا صنعتوں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت تجارت کو فیڈریشن میں حق رائے دہی رکھنے والی4 جعلی ٹریڈباڈیز کی نشاندہی بھی کردی گئی ہے جن کے دفاترگھروں میں بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود صرف ایک درآمدی ملک کے طور پر ابھررہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہے 7 سال گزرنے کے باوجود رواں سال بھی تجارتی خسارے کی مالیت 20 ارب ڈالرپر برقرار ہے، مالی سال2013 میں برآمدات کی مالیت24 ارب روپے جبکہ درآمدات کی مالیت 44 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی چیمبرز کے قیام کے بعد صنعتکار وزیراعظم پاکستان، وزارت تجارت، وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اپنے مسائل کو حل کرتے ہوئے صنعت کاری کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ چیلنجو ں اور تقاضوں کے تحت پاکستانی معیشت کی بقا کیلیے تمام کراچی کے صنعتی علاقوں کورنگی، سائٹ، فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی، لانڈھی، سائٹ سپرہائی کے نمائندگان نے متفقہ طورپر چیمبر آف انڈسٹری کے قیام کی منظوری دی ہے جو ملک میں صنعت کاری اور سرمایہ کاری کیلیے مثبت اقدام ثابت ہوگا۔
یہ بات کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سابق چیئرمین سینیٹرعبدالحسیب خان نے جمعہ کو مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ایوانوں میں مجوزہ ترامیم سادہ اکثریت سے منظورہوسکتی ہے اورانڈسٹریل چیمبر کے قیام سے پاکستان میں صنعتی شعبے کی بقا وترقی ممکن ہوسکے گی، فی الوقت قائم چیمبرآف کامرس اور فیڈریشن صنعتی شعبے کی نمائندگی کے دعویدار تو ہیں لیکن حقیقت میں وہ صرف امپورٹ اور ٹریڈرز کے مفادات کا تحفظ کررہی ہیں جس کی وجہ سے کراچی سمیت ملک کے دیگرحصوں کے صنعتکاروں نے انڈسٹریل چیمبر کے قیام کی مکمل حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نام نہاد معیشت کے ٹھیکیدارہی جاری معاشی بحران کے اصل ذمے دارہیں کیونکہ کراچی چیمبر اورایف پی سی سی آئی میں عہدوں کی تقسیم صرف خوشامدی افراد تک محدود ہے، چند لوگوں نے فیڈریشن پر اپنا تسلط قائم رکھنے کیلیے جعلی ٹریڈ باڈیزکا سہارا لیا ہوا ہے لیکن سینیٹ میں صنعتکاروں کا نمائندہ ہونے کے ناطے وہ ایف پی سی سی آئی کی موجودہ ٹریڈ باڈیزکے بل بوتے پر ہونیوالے انتخابات کے خلاف پیر کووفاقی حکومت کو باقاعدہ درخواست داخل کرائیں گے جس میں فیڈریشن کے انتخابات کومنسلک تمام ٹریڈ باڈیزکی چھان بین مکمل ہونے سے مشروط کرانے کا مطالبہ کیا جائیگااور اگر پھر بھی انتخابی عمل کونہ روکاگیا توعدالت سے رجوع کیا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ انڈسٹریل چیمبر کے قیام سے حقیقی صنعت کاروں کو انکی نمائندگی کرنیوالا پلیٹ فارم مل جائیگا، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے 27 نومبر کو منعقدہ اجلاس میں سینیٹرحاجی غلام علی، اسلام الدین شیخ، کریم خواجہ، چوہدری محمد جعفراقبال، سیکریٹری تجارت، ڈی جی ٹی اونے بھی شرکت تھی اور اس اجلاس میں ٹریڈآرڈنینس میں 2 شقیںبڑھانے پر اتفاق کیا گیا کیونکہ اس اقدام سے صنعتی چیمبرز کے قیام کیلیے نیاقانون بنانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
سینیٹرعبدالحسیب خان نے کہا کہ صنعتی چیمبرز کے قیام سے بعض لوگ خوف زدہ ہیں جس کی بڑی وجہ حقیقی قیادت سامنے آنے سے بہت سارے نام نہاد صنعت کاروں کی دکانیں بند ہوجائیں گی، گزشتہ برسوں میں ایف پی سی سی آئی میں صدر کون بناہے، کیا وہ سب حقیقی صنعتکارتھے، نہیں بلکہ وہ ٹریڈر تھے جن کا صنعتوں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت تجارت کو فیڈریشن میں حق رائے دہی رکھنے والی4 جعلی ٹریڈباڈیز کی نشاندہی بھی کردی گئی ہے جن کے دفاترگھروں میں بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود صرف ایک درآمدی ملک کے طور پر ابھررہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہے 7 سال گزرنے کے باوجود رواں سال بھی تجارتی خسارے کی مالیت 20 ارب ڈالرپر برقرار ہے، مالی سال2013 میں برآمدات کی مالیت24 ارب روپے جبکہ درآمدات کی مالیت 44 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی چیمبرز کے قیام کے بعد صنعتکار وزیراعظم پاکستان، وزارت تجارت، وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اپنے مسائل کو حل کرتے ہوئے صنعت کاری کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ چیلنجو ں اور تقاضوں کے تحت پاکستانی معیشت کی بقا کیلیے تمام کراچی کے صنعتی علاقوں کورنگی، سائٹ، فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی، لانڈھی، سائٹ سپرہائی کے نمائندگان نے متفقہ طورپر چیمبر آف انڈسٹری کے قیام کی منظوری دی ہے جو ملک میں صنعت کاری اور سرمایہ کاری کیلیے مثبت اقدام ثابت ہوگا۔