ایل پی جی مافیامنافع خوری کیلیے سرگرمخودساختہ دام بڑھادیے
وفاقی حکومت نے مقامی پروڈیوسرزکو ایل پی جی کی قیمتیں برقراررکھنے کا عندیہ دیدیا
اوجی ڈی سی ایل،پارکوسمیت کسی پروڈیوسرنے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا، فصیح اقبال فوٹو: فائل
وفاقی حکومت نے عوامی مفادات پیش نظرمقامی پروڈیوسرز کورواں ماہ بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا عندیہ دیدیا ہے تاہم ایل پی جی مافیا نے 3 دسمبرسے قبل ہی کروڑوں روپے منافع کمانے کی غرض سے جمعہ کوخودساختہ طور پرایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا اعلان کردیا ہے۔
ایل پی جی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندے فصیح اقبال نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایل پی جی کی دسمبر2013 کے لیے سعودی آرامکوکنٹریکٹ پرائس میں33.5 ڈالرکا اضافہ ہوچکا ہے لیکن اس اضافے کی بنیاد پراوجی ڈی سی ایل، پارکوسمیت کسی بھی ایل پی جی پروڈیوسر نے مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے بلکہ پاکستان میں پیدا ہونے والی فی ٹن ایل پی جی کی قیمت بدستور1 لاکھ27 ہزار500 روپے پر مستحکم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کنٹریکٹ پرائس میں اضافے کی بنیاد پربلیک مارکیٹنگ میں ملوث منافع خورعناصرمقامی مارکیٹ میں سرگرم ہوگئے ہیں جنہوں نے وزارت پٹرولیم کوحاصل اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے ازخودایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نومبر کے بعد دسمبر2013 کے لیے بھی سعودی آرامکوکنٹریکٹ پرائس میں خطیر اضافہ ہوا ہے لیکن وزارت پٹرولیم مقامی پروڈیوسرز کو یہ سگنل پہلے سے دے چکی ہے کہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی عوام کو ریلیف دینے کے لیے 3 دسمبر2013 کو بھی کنٹریکٹ پرائس میں اضافے کے تناسب سے ایل پی جی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ فصیح اقبال نے بتایا کہ چندڈیلرز مقامی مارکیٹ میںایل پی جی کی پرائس مینوپلیشن میں ملوث ہیں جس پر وفاقی حکومت کوایف آئی اے سمیت دیگرتحقیقاتی اداروں کے توسط انویسٹی گیشن کرانے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال پر فصیح اقبال نے بتایا کہ ایل پی جی کی کھپت کا70 فیصد سے زائد مقامی طورپیدا ہوتا ہے جبکہ درآمدات کا حصہ بمشکل10 فیصد ہے۔
ایل پی جی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندے فصیح اقبال نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایل پی جی کی دسمبر2013 کے لیے سعودی آرامکوکنٹریکٹ پرائس میں33.5 ڈالرکا اضافہ ہوچکا ہے لیکن اس اضافے کی بنیاد پراوجی ڈی سی ایل، پارکوسمیت کسی بھی ایل پی جی پروڈیوسر نے مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے بلکہ پاکستان میں پیدا ہونے والی فی ٹن ایل پی جی کی قیمت بدستور1 لاکھ27 ہزار500 روپے پر مستحکم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کنٹریکٹ پرائس میں اضافے کی بنیاد پربلیک مارکیٹنگ میں ملوث منافع خورعناصرمقامی مارکیٹ میں سرگرم ہوگئے ہیں جنہوں نے وزارت پٹرولیم کوحاصل اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے ازخودایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نومبر کے بعد دسمبر2013 کے لیے بھی سعودی آرامکوکنٹریکٹ پرائس میں خطیر اضافہ ہوا ہے لیکن وزارت پٹرولیم مقامی پروڈیوسرز کو یہ سگنل پہلے سے دے چکی ہے کہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی عوام کو ریلیف دینے کے لیے 3 دسمبر2013 کو بھی کنٹریکٹ پرائس میں اضافے کے تناسب سے ایل پی جی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ فصیح اقبال نے بتایا کہ چندڈیلرز مقامی مارکیٹ میںایل پی جی کی پرائس مینوپلیشن میں ملوث ہیں جس پر وفاقی حکومت کوایف آئی اے سمیت دیگرتحقیقاتی اداروں کے توسط انویسٹی گیشن کرانے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال پر فصیح اقبال نے بتایا کہ ایل پی جی کی کھپت کا70 فیصد سے زائد مقامی طورپیدا ہوتا ہے جبکہ درآمدات کا حصہ بمشکل10 فیصد ہے۔