بھارت کوایم ایف این قراردینے سے قبل صنعتوں کوتحفظ کامطالبہ

نان ٹیرف رکاوٹیں بھی ہٹانے کاپابند کیاجائے ورنہ بھارت مارکیٹ رسائی نہیں دیگا

پاکستان محتاط رویہ اختیارکرے، زیادہ لچک کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے، بزنس کمیونٹی ۔ فوٹو : فائل

ملکی صنعتی حلقوں نے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے سے قبل نان ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے اور مقامی صنعتوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

کاروباری حلقوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو پسندیدہ ترین قوم (ایم ایف این) کا درجہ نان ٹیرف بندشیں دور کرنے بعد دیا جائے،نیز بھارت کو پابند کیا جائے کہ وہ ایم ایف این پر بات چیت کی شروعات سے قبل ان رکاوٹوں کو دور کرے۔کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ نان ٹیرف بندشیں ختم کیے بغیر بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دیے جانے سے پاکستانی مصنوعات کا بھارت میں داخلہ ممنوع ہوجائے گا اور مارکیٹ تک رسائی نہیں ہوگی اور ایم ایف این کا فائدہ ملنے کے بجائے اس کے برعکس تجارتی توازن مزید بھارت کے حق میں چلا جائے گا۔ تجارتی حلقوں نے اس حوالے سے حکومت پر زور دینا شروع کردیا ہے کہ پاکستان کو بھارت کیلیے اس معاملے میں زیادہ لچک کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بھارت نے اب تک نان ٹیرف بندشیں دور نہیں کی ہیں۔

جس کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات بھارتی مارکیٹوں میں رسائی سے محروم ہیں، پاکستان کے اہم شعبے جیسے ٹیکسٹائل ، سیمنٹ، آئی ٹی، آٹو، مالیاتی سروسز، زرعی مصنوعات، گاڑیوں کے فاضل پرزہ جات، گھریلو الیکٹرک و الیکٹرونک اور انجینئرنگ سامان کے ذریعے بھارتی مارکیٹوں کی طلب پوری کی جاسکتی ہے تاہم بھارتی حکومت کی طرف سے اس ضمن میں کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا ہے، سیمنٹ انڈسٹری اس کی ایک مثال ہے۔




پاکستانی سیمنٹ کی بھارت میں بہت طلب ہے اس کے باوجود گزشتہ7 برسوں میں بھارت کو سیمنٹ کی برآمدات میں 7 گنا کمی ہوئی ہے اور بھارت کو سیمنٹ برآمدات 786,672 میٹرک ٹن سے کم ہوکر 104,920 میٹرک ٹن رہ گئی ہیں، یہ کمی اس حقیقت کے باوجود ہوئی ہے کہ بھارت میں تعمیراتی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور وہاں سیمنٹ کی بڑی طلب موجود ہے۔

ماہرین کی رائے ہے کہ لائسنس کے علاوہ، انفرااسٹرکچر، برآمدی لائسنس، بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈ سے کوالٹی سرٹیفکیٹ کا حصول اور مارکیٹنگ شرائط دیگر نان ٹیرف بندشوں کے علاوہ ہیں، دیگر بندشوں میں مختلف کسٹم نگرانی سے گزرنا، 10 پہیوں والے چھوٹے ٹرک کی شرط جن کی لوڈنگ گنجائش 40 ٹن سے زائد نہ ہو، بھارتی ٹرک ایسوسی ایشن کی جانب سے 25 روپے فی سیمنٹ کے تھیلے کی فیس جس کے ادا کرنے کے بعد سیمنٹ اٹاری سے امرتسر ٹرانسپورٹ کی جاتی ہے اور اس قسم کے دیگر مسائل ایسی بندشیں ہیں جس کی وجہ سے سیمنٹ کی برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ ایس ایم انجینئرنگ کے سی ای او، ایس ایم اشتیاق نے کہا ہے کہ حکومت کو بھارت کے ساتھ تجارتی پالیسی کی تشکیل دیتے ہوئے محتاط رہنا ہوگا اور پاکستان کے ترقی پزیر اور مستحکم شعبوں کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا کیونکہ یہ شعبے انتہائی مسابقتی ماحول میں پاکستانی معیشت میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حساس اور منفی فہرست کی تشکیل اسٹیک ہولڈروں کی مشاورت سے تیار کی جانی چاہیے تاکہ بھارت کے ساتھ تجارت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے، دوسری صورت میں پاکستانی حکومت کو بھارت کے ساتھ تجارتی بندشیں ختم کرنے پر زور دینا ہوگا تاکہ محدود برآمدات کو بڑھایا جاسکے۔
Load Next Story