آئی پی ایل آئندہ برس پاکستانی کرکٹرز کی شمولیت کا امکان روشن
ایونٹ کی بھارت سے منتقلی کی صورت میں بی سی سی آئی کیلیے فیصلہ آسان ہو جائیگا۔
امریکا میں موسم گرما کے دوران سہ ملکی کرکٹ سیریز کی ابتدائی بات چیت جاری۔ فوٹو: فائل
آئندہ برس آئی پی ایل میں پاکستانی کرکٹرز کی شمولیت کا امکان روشن ہونے لگا۔
بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ ٹوئنٹی 20 چیمپئنز لیگ میں شرکت بارش کا پہلا قطرہ تھی، فیصل آباد وولفز کی شمولیت کے بعد مستقبل میں حالات مزید سازگار ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستانی کرکٹرز آئی پی ایل کے کسی ایڈیشن کیلیے زیر غور نہیں لائے گئے، البتہ فیصل آباد وولفز کی ٹوئنٹی 20چیمپئنز لیگ میں شرکت کے بعد کھلاڑیوں کو مزید مقابلوں کا حصہ بنائے جانے کے امکانات نظر آنے لگے ہیں، پی سی بی کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں مارچ میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی20کے بعد نئے سال میں 6ماہ تک پاکستان کی کوئی انٹرنیشنل مصروفیات نہیں ہیں، امید ہے کہ دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات میں مزید بہتری کے بعد ہمارے کھلاڑیوں کو اپریل اور مئی میں شیڈول انڈین پریمیئر لیگ کا حصہ بنایا جائیگا۔
انھوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ابھی تک کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی تاہم حالات سازگار ہوتے نظر آرہے ہیں، بھارت میں الیکشن کے پیش نظر آئی پی ایل کو کسی اور ملک میں منتقل کیے جانے پر غور کیا جارہا ہے، اگر ایسا ہوا تو بی سی سی آئی اور فرنچائزز کیلیے پاکستانی کرکٹرز کو موقع دینا آسان ہوجائیگا۔ انھوں نے کہا کہ موسم گرما میں امریکا میں سہ ملکی سیریز کے سلسلے میں بات چیت ابتدائی مراحل میں ہے، فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا، مجوزہ سپر لیگ کیلیے غیر ملکی کرکٹرز پاکستان آنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، ایونٹ کا یو اے ای میں انعقاد سخت گرمی کی وجہ سے مناسب نہیں ہوگا، اکتوبر تک کوئی انٹرنیشنل مصروفیات نہ ہونے کی وجہ سے پی سی بی کی خواہش ہے کہ کھلاڑیوں کو کم از کم آئی پی ایل میں شرکت کر کے صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ضرور مل جائے۔
بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ ٹوئنٹی 20 چیمپئنز لیگ میں شرکت بارش کا پہلا قطرہ تھی، فیصل آباد وولفز کی شمولیت کے بعد مستقبل میں حالات مزید سازگار ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستانی کرکٹرز آئی پی ایل کے کسی ایڈیشن کیلیے زیر غور نہیں لائے گئے، البتہ فیصل آباد وولفز کی ٹوئنٹی 20چیمپئنز لیگ میں شرکت کے بعد کھلاڑیوں کو مزید مقابلوں کا حصہ بنائے جانے کے امکانات نظر آنے لگے ہیں، پی سی بی کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں مارچ میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی20کے بعد نئے سال میں 6ماہ تک پاکستان کی کوئی انٹرنیشنل مصروفیات نہیں ہیں، امید ہے کہ دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات میں مزید بہتری کے بعد ہمارے کھلاڑیوں کو اپریل اور مئی میں شیڈول انڈین پریمیئر لیگ کا حصہ بنایا جائیگا۔
انھوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ابھی تک کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی تاہم حالات سازگار ہوتے نظر آرہے ہیں، بھارت میں الیکشن کے پیش نظر آئی پی ایل کو کسی اور ملک میں منتقل کیے جانے پر غور کیا جارہا ہے، اگر ایسا ہوا تو بی سی سی آئی اور فرنچائزز کیلیے پاکستانی کرکٹرز کو موقع دینا آسان ہوجائیگا۔ انھوں نے کہا کہ موسم گرما میں امریکا میں سہ ملکی سیریز کے سلسلے میں بات چیت ابتدائی مراحل میں ہے، فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا، مجوزہ سپر لیگ کیلیے غیر ملکی کرکٹرز پاکستان آنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، ایونٹ کا یو اے ای میں انعقاد سخت گرمی کی وجہ سے مناسب نہیں ہوگا، اکتوبر تک کوئی انٹرنیشنل مصروفیات نہ ہونے کی وجہ سے پی سی بی کی خواہش ہے کہ کھلاڑیوں کو کم از کم آئی پی ایل میں شرکت کر کے صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ضرور مل جائے۔