کورونا وائرس سے انسانی ہلاکت خیزی میں اضافہ

ہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے لاپروائی کا رویہ اپناتے ہوئے اسے قسمت کا لکھا قرار دے دیتے ہیں

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے انسانی جانوں کی ہلاکت خیزی اور اس کے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کی پیش قدمی بڑی سرعت سے جاری ہے۔ چین کے بعد کورونا وائرس نے اٹلی میں جو تباہی مچائی اس نے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اب امریکا بھی اس سے محفوظ نہیں رہا اور وہاں سے بھی روزانہ انسانی ہلاکتوں کی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔کورونا وائرس نے پاکستان کے اندر ڈیرے ڈالے تو یہاں بھی ارباب حکومت چوکنا ہو گئے اور قومی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے فوری طور پر ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند کر دی گئیں کیونکہ پاکستان میں کورونا وائرس کے حملے کا آغاز ایران سے آنے والے زائرین کی صورت میں ہوا تھا۔ حکومت کو بھی کورونا وائرس کے خطرے کا بھرپور ادراک ہے اور وہ عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔

چین سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک کورونا وائرس پر قابو پانے اور اس بیماری کا علاج دریافت کرنے میں سرگرم اور اپنے مقصد میں کامیابی کے لیے انھوں نے اربوں ڈالر مختص کر رکھے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایسا مستند علاج دریافت نہیں ہو سکا جس سے اس موذی مرض پر قابو پایا جا سکے۔ ادھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سارک ممالک کی اعلیٰ سطح پر ویڈیو کانفرنس بلانے کی تجویز دی ہے جس سے پاکستان نے اتفاق کیا ہے۔

سری لنکا اور بھوٹان نے بھی سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہونا تشویشناک امر ہے، تمام ایئرپورٹس پر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے اور بیرون ممالک سے آنے والے افراد کی اسکریننگ کی جا رہی ہے' ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند اور امتحانات ملتوی کر دیے گئے ' فائیو اسٹار ہوٹلوں اور شادی ہالوں میں تمام تقریبات پر عارضی پابندی لگا دی گئی ہے' لاہور عجائب گھر' چڑیا گھر اور وائلڈ لائف پارک کو بھی تا حکم ثانی شائقین کے لیے بند کر دیا گیا۔


دوسری جانب افسوسناک امر یہ ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک اور سینی ٹائزر کے ساتھ راشن کی بڑے پیمانے پر ہونے والی خریداری کے سبب منافع خور مافیا بھی سرگرم ہو گیا اور مارکیٹ سے ماسک اور سینی ٹائزر کا حصول مشکل بنا دیا ہے، دکانداروں نے اشیائے خورونوش کے نرخوں میں من مانا اضافہ کر دیا۔ حکومت کو کورونا وائرس کے بعد مارکیٹ پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے پیش بندی کرنا چاہیے تھی مگر ایسا نہیں ہو سکا جس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانداروں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا۔ہمارے ہاں جب بھی کوئی اہم دن آتا یا کوئی بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو تاجروں کا ایک مافیا ان حالات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے روز مرہ کی اشیا مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیتا ہے اور حکومت کی کارکردگی صرف دعوؤں تک محدود رہ جاتی ہے۔

دوسری جانب یہ الزامات بھی سامنے آ رہے کہ بعض بااثر افراد نے حفاظتی ماسک بیرون ملک اسمگل کیے ہیں، حکومت کو ان الزامات کا بھی جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے۔کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستان علما کونسل کے دارالافتاء نے اہم فتوی جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا کی وبا عام ہو رہی اور یہ وائرس پوری دنیا میں پھیل چکا ہے، اس کی روک تھام اور خود محفوظ رہنے اور دوسروں کو محفوظ کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا وقت اور حالات کا تقاضہ اور شریعت اسلامیہ اس کا حکم دیتی ہے،یہ تصور کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں اللہ پر توکل کرنے کی خلاف ورزی ہوتی، درست نہیں ہے۔

ہمارے یہاں عمومی رویہ یہ ہے کہ ہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے لاپروائی کا رویہ اپناتے ہوئے اسے قسمت کا لکھا قرار دے دیتے ہیں، ان مشکل حالات میں علمائے کرام نے لوگوں کی درست رہنمائی کرتے ہوئے انھیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دے کر اس وبا کے پھیلاؤ کے انسداد میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔

کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے جہاں حکومت حفاظتی اقدامات کر رہی وہاں عام شہریوں پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اپنائیں کیونکہ لاپروائی کا رویہ ان کے اپنے اور دوسروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی وبا کی صورت اختیار کر جانے والی اس بیماری پر قابو پانے کے لیے پوری دنیا کے ماہرین سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، ہماری دعا ہے کہ اس بیماری کا جلد از جلد علاج دریافت ہو تاکہ انسانی ہلاکتوں کا سلسلہ رکنے میں آئے اور جو خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو چکی ہے اس کا خاتمہ ہو۔
Load Next Story