مصر مظاہروں پر پابندی کے باوجود مرسی کے حامی سڑکوں پرنکل آئے3 ہلاک معروف بلاگرعبدالفتاح گرفتار

مختلف شہروں میں جھڑپیں، مظاہرین کا پولیس پر پتھرائو، اخوان المسلمون کے60 کارکن گرفتار۔

منیا شہر میں مسلم، عیسائی گروپوں میں جھڑپیں، ایک ہلاک، 6 زخمی، 2 گھروں کو آگ لگادی گئی، فوٹو: اے ایف پی

BANGKOK:
مصر میں مظاہروں پر پابندی کے باوجود معزول صدر محمد مرسی کے حامی سڑکوں پر آگئے، جھڑپوں میں 3 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

پولیس نے قاہرہ کے صدارتی محل کے سامنے مظاہرہ کرنیوالے سیکڑوں افراد کو منتشر کرنے کیلیے آنسو گیس کا استعمال کیا، اس موقع پر فائرنگ کی آوازیںبھی سنی گئیں۔ اس کے علاوہ قاہرہ کے ضلع موہان دیسن میں بھی مرسی کے حامیوں کو منتشر کرنے کیلیے آنسو گیس استعمال کی گئی، مظاہرین نے جواباً سیکیورٹی فورسز پر پتھرائو کیا اور جلتے ہوئے ٹائر ان کی طرف پھینکے، اسی طرح کے مظاہرے مصر کے دوسرے شہروں سکندریہ، سوئیز، محلہ اور قینا میں بھی ہوئے،پولیس نے جھڑپوں کے دوران اخوان المسلمون کے 60کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ نئے قانون کے مطابق کسی بھی قسم کا مظاہرہ کرنے سے 3 دن پہلے حکومت سے اجازت لینی ہوتی ہے۔ قاہرہ میں جھڑ پ کے دوران یونیورسٹی کا طالبعلم ہلاک ہو گیا۔ مصر کے وسطی شہر منیا میں مسلم اور عیسائی گروپوں میں جھڑپوں کے دوران ایک شخص ہلاک اور6 زخمی ہوگئے، جھڑپ کے دوران عیسائیوں کے 2 گھروں کو آگ لگادی گئی۔




ایک اور شخص ملک کے دوسرے حصے میں مارا گیا۔ مرسی حکومت کے خاتمے کے بعد مقامی عیسائیوں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔ ادھر امریکا نے مصرکی تازہ صورتحال پر تشویش کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں امن و امان کے قیام کو یقینی بنائے۔ علاوہ ازیں پولیس نے مظاہروں پر بندش کے نئے قانون کی خلاف ورزی پر اکسانے کے الزام میں معروف بلاگر عبد الفتاح کو گرفتار کر لیا، عبدالفتاح نے منگل کو مصری پارلیمان کے باہر احتجاجی ریلی میں شرکت کی تھی جس میں مظاہرین بغیر اجازت کے مظاہروں اور جلوسوں پر پابندی کے نئے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بلاگر عبدالفتاح نے2011 میں مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف بغاوت میں اہم کردار ادا کیا تھا، انھیں مبارک دور میں بھی گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اخوانِ المسلمون کی حکومت کے دوران بھی ان سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی، عبدالفتاح کا کہنا ہے کہ وہ اس الزام سے انکار نہیں کرتے۔ سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ نیا قانون تو بظاہر حسنی مبارک دور کے قوانین سے بھی زیادہ سخت ہے۔
Load Next Story