پاکستان میں عورتوں پر ظلم کیخلاف سنجیدہ شاعری کی گئی ستیہ آنند
معاصر شاعری رجحانات میں خورشید رضوی،ضیا الحسن، پروفیسر سحر انصاری،فاطمہ حسن اور پروفیسر شاہدہ حسن کی گفتگو
اُردو کانفرنس کے سیشن سے ضیاء محی الدین خطاب کررہے ہیں،ظفر اقبال، پروفیسر سحر انصاری ودیگر موجود ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس
عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روزکا آغاز ''معاصر شاعری'' رجحانات کے عنوان سے منعقدہ سیشن سے ہوا اس موقع پر بھارتی ادیب ڈاکٹر ستیہ پال آنند نے کہا کہ یہ میری بدقسمتی ہے کہ میں آپ کے بیچ زیادہ نہیں رہا اور خوش قسمتی اس طرح کہ میں پاکستان آنے کی محبتوں کی بدولت آپ پر نظر رکھ سکتا ہوں۔
نسائی شاعری کراچی کی پیداوار تھی جسے بھارت میں ہاتھو ں ہاتھ لیا گیا کشور ناہید اس کی پہلی صف میں شامل تھیں پاکستان میں عورتوں پر ظلم کے خلاف بہت سنجیدگی سے شاعری کی گئی یہ سلسلہ ہندوستان پہنچا لیکن وہاں رجحان قائم نہیں کرسکا، ادیب خورشید رضوی نے کہا کہ نثری نظم کی مباحث میں غیر ضروری یا فالتو نظموں کی ملاوٹ نہیں ہوتی اس میں بہت سے لوگ اس بات کو شامل نہیں کرتے ہر کسی کو نثر ی نظم نہیں لکھنا چاہیے، ڈاکٹر ضیا الحسن نے کہا کہ اس دور میں لوگ اپنے بارے میں لکھوانا پسند کرتے ہیں جبکہ سرسید اور دیگر تجزیہ نگار کلام میں اپنا حال شامل تحریر نہیں کرتے تھے سرسید احمد خان کی صلاحتیں بہت زیادہ تھیں اکثر لوگ ان سے یہ کہا کرتے تھے کہ اپنا وقت برباد کررہے ہیں انھوں نے کہاکہ یہ میرا عشق ہے،پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ رجحان عہد کی پیداوار ہوتا ہے آزادی کے بعد جو حالات رہے وہ کئی تجربوں سے گزرے اسی لیے ہجرت کے رجحان پر بہت سے لوگوں نے لکھا میڈیا کے اثرات آج کل زیادہ ہیں،کوئی خیال یا تحریک ایک دم ادب کا حصہ نہیں بن سکتی اسے وقت لگتا ہے شاعری وہ ہے ۔
جو محسوس کی جاتی ہے غزل امیر خسرو سے شروع ہوئی اور آج تک جار ی ہے،ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ نظم کے رجحانات ہر دور کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں نظم نثری بھی ہوتی ہے ایک چیز جو نظم کے رجحانات میں واضح ہوتی ہے وہ اسکے وزن کا خیال ہوتا ہے،پروفیسر شاہدہ حسن نے کہا کہ موسم کروٹ بدلتے ہیں تو شاخوں پر پھول کھلنے لگتے ہیں کسی نئے معاشرے میں ایسی ہی شاعری کی ضرورت ہوتی ہے ادب آفاقی صداقتوں کا حامل ہے۔
آج کی تہذیب ماضی کے تمام عناصر سے ترقی پذیر ہے علم فن وادب کی قید میں رہتے ہوئے بھی آزاد ہیں ،کانفرنس کا دوسرا سیشن بعنوان بیادرفتگان سے ہوا جس میں ممتاز کمپیئر ضیا محی الدین نے داؤد رہبر کے حوالے سے مضمون میں کہا کہ داؤد رہبر کالج کے زمانے میں راگ الاپتے تھے اور میں طبلے پر سنگت دیا کرتا تھا داؤد رہبر نے چھوٹی عمر میں شاعر ی شروع کی تھی انھوں نے ہیجان خیز موضوعات پر بھی شاعری کی،داؤد رہبر کو ماں کی ممتا نہ مل سکی انھوں نے ڈھیر ساری شاعری کی مگر اس کو کسی پر مسلط نہ کیا۔
شاعر جاذ ب قریشی نے شفیع عقیل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شفیع عقیل مختلف جہتوں میں رہنے اور لکھنے والے شخص تھے،رضاعلی عابدی نے کہا کہ یاد رفتگاں مجھے پسند ہے جون ایلیا کو فکر کھاتی تھی کہ ہم سب مر جائیں گے اللہ کرے سب زند ہ رہیں تاکہ یاد رفتگان میں کم لوگوں کا ذکر ہو آج کی شام ان تمام افراد کی روحیں خوش ہوں گی جھنیں یاد کیا گیا، ڈاکٹر ایوب شیخ نے کہا کہ سراج الحق کے زمانے میں عورتوں کو پڑھایا نہیں جاتا تھا لیکن ان کی بہن ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی سراج الحق نے صبح ہوئی ہے کہ نام سے ناول لکھا بعد میں انھوں نے اپنے والد کے کہنے پر تخلص ہٹاد یا،صبا اکرام نے محمود واجد پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہر دوست جانتا تھا کہ وہ بے چین طبعیت کے مالک اور رومانوی تھے،ڈاکٹر جعفر احمد نے محمد علی صدیقی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیامیں جہاں جہاں اردو کی بستیاں آداب ہوتی ہیں وہاں محمود علی صدیقی جانے پہنچانے جاتے تھے وہ اپنی وضع کے آپ انسان تھے۔
نسائی شاعری کراچی کی پیداوار تھی جسے بھارت میں ہاتھو ں ہاتھ لیا گیا کشور ناہید اس کی پہلی صف میں شامل تھیں پاکستان میں عورتوں پر ظلم کے خلاف بہت سنجیدگی سے شاعری کی گئی یہ سلسلہ ہندوستان پہنچا لیکن وہاں رجحان قائم نہیں کرسکا، ادیب خورشید رضوی نے کہا کہ نثری نظم کی مباحث میں غیر ضروری یا فالتو نظموں کی ملاوٹ نہیں ہوتی اس میں بہت سے لوگ اس بات کو شامل نہیں کرتے ہر کسی کو نثر ی نظم نہیں لکھنا چاہیے، ڈاکٹر ضیا الحسن نے کہا کہ اس دور میں لوگ اپنے بارے میں لکھوانا پسند کرتے ہیں جبکہ سرسید اور دیگر تجزیہ نگار کلام میں اپنا حال شامل تحریر نہیں کرتے تھے سرسید احمد خان کی صلاحتیں بہت زیادہ تھیں اکثر لوگ ان سے یہ کہا کرتے تھے کہ اپنا وقت برباد کررہے ہیں انھوں نے کہاکہ یہ میرا عشق ہے،پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ رجحان عہد کی پیداوار ہوتا ہے آزادی کے بعد جو حالات رہے وہ کئی تجربوں سے گزرے اسی لیے ہجرت کے رجحان پر بہت سے لوگوں نے لکھا میڈیا کے اثرات آج کل زیادہ ہیں،کوئی خیال یا تحریک ایک دم ادب کا حصہ نہیں بن سکتی اسے وقت لگتا ہے شاعری وہ ہے ۔
جو محسوس کی جاتی ہے غزل امیر خسرو سے شروع ہوئی اور آج تک جار ی ہے،ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ نظم کے رجحانات ہر دور کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں نظم نثری بھی ہوتی ہے ایک چیز جو نظم کے رجحانات میں واضح ہوتی ہے وہ اسکے وزن کا خیال ہوتا ہے،پروفیسر شاہدہ حسن نے کہا کہ موسم کروٹ بدلتے ہیں تو شاخوں پر پھول کھلنے لگتے ہیں کسی نئے معاشرے میں ایسی ہی شاعری کی ضرورت ہوتی ہے ادب آفاقی صداقتوں کا حامل ہے۔
آج کی تہذیب ماضی کے تمام عناصر سے ترقی پذیر ہے علم فن وادب کی قید میں رہتے ہوئے بھی آزاد ہیں ،کانفرنس کا دوسرا سیشن بعنوان بیادرفتگان سے ہوا جس میں ممتاز کمپیئر ضیا محی الدین نے داؤد رہبر کے حوالے سے مضمون میں کہا کہ داؤد رہبر کالج کے زمانے میں راگ الاپتے تھے اور میں طبلے پر سنگت دیا کرتا تھا داؤد رہبر نے چھوٹی عمر میں شاعر ی شروع کی تھی انھوں نے ہیجان خیز موضوعات پر بھی شاعری کی،داؤد رہبر کو ماں کی ممتا نہ مل سکی انھوں نے ڈھیر ساری شاعری کی مگر اس کو کسی پر مسلط نہ کیا۔
شاعر جاذ ب قریشی نے شفیع عقیل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شفیع عقیل مختلف جہتوں میں رہنے اور لکھنے والے شخص تھے،رضاعلی عابدی نے کہا کہ یاد رفتگاں مجھے پسند ہے جون ایلیا کو فکر کھاتی تھی کہ ہم سب مر جائیں گے اللہ کرے سب زند ہ رہیں تاکہ یاد رفتگان میں کم لوگوں کا ذکر ہو آج کی شام ان تمام افراد کی روحیں خوش ہوں گی جھنیں یاد کیا گیا، ڈاکٹر ایوب شیخ نے کہا کہ سراج الحق کے زمانے میں عورتوں کو پڑھایا نہیں جاتا تھا لیکن ان کی بہن ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی سراج الحق نے صبح ہوئی ہے کہ نام سے ناول لکھا بعد میں انھوں نے اپنے والد کے کہنے پر تخلص ہٹاد یا،صبا اکرام نے محمود واجد پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہر دوست جانتا تھا کہ وہ بے چین طبعیت کے مالک اور رومانوی تھے،ڈاکٹر جعفر احمد نے محمد علی صدیقی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیامیں جہاں جہاں اردو کی بستیاں آداب ہوتی ہیں وہاں محمود علی صدیقی جانے پہنچانے جاتے تھے وہ اپنی وضع کے آپ انسان تھے۔