اردو زبان میں محاورے متروک ہورہے ہیں مستنصرحسین تارڑ
’’اعتراف کمال‘‘ کی تقریب سے رضا علی عابدی اور عبد اللہ حسین کا خطاب
صحافی اخلاق احمد اور بھارتی ادیب اے خیام کی کتابوں کی تقریب رونمائی فوٹو: فائل
محاورے کسی بھی زبان کی بیساکھیاں ہوتی ہیں جن کی نثرکمزورہوتی ہے وہ اپنی بات کی ابلاغ کے لیے محاوروں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں اردوزبان میں محاورے اب متروک ہوتے جارہے ہیں۔
یہ بات معروف ناول نگار مستنصرحسین تارڑ نے عالمی اردوکانفرنس کے دوسرے دن اپنے اعزاز میں منعقدہ ''اعتراف کمال'' کی تقریب سے خطاب میں کہی، مستنصرحسین تارڑ نے کہا کہ تخلیق کار میں موجود ''تخلیقی آگ'' کسی بدترین جگہ یاحالات میں بھی اپناکام دکھاسکتی ہے اور بدترین حالات میں بھی ادب تخلیق کیا جاسکتا ہے تخلیق کارمیں چھپی تخلیقی آگ کوکسی خاص ماحول کی ضرورت نہیں ہوتی ان کاکہنا تھاکہ مذہب بدلتا رہتا ہے تاہم ثقافت نہیں بدلتی کئی پشتوں قبل ان کے آباؤ اجداد سکھ سے مسلمان ہوئے تھے لیکن اب بھی ان میں پنجاب کی ثقافت اور رنگ موجود ہے جوتبدیل نہیں ہوا، اس موقع پر رضا علی عابدی نے تبصرے میں ان کے ناولوں میں موجود نسوانیت پر تبصرہ کیا کہ ہرمرد اورخصوصاً ادیب میں یہ پہلوموجود ہوتا ہے جوان کی تحریر میں بھی نظرآتا ہے۔
عبداللہ حسین نے اپنے تبصرے میں کہا کہ مستنصرحسین تارڑ کی سنجیدہ ناول نگاری کا دور ان کے ناول''بہاؤ''سے شروع ہوتا ہییہاں افسانہ نگاری کا رواج ہے ناول لکھنے میں بہت محنت کرتی پڑتی ہے اس لیے ناول کم لکھے جاتے ہیں جبکہ کم وقت اورکم محنت کے ساتھ افسانہ لکھا جاسکتاہے، عالمی اردوکانفرنس کے دوسرے روز صحافی اخلاق احمد کی کتاب ''ابھی کچھ دیرباقی ہے'' اوربھارتی ادیب اے خیام کی کتاب ''سراب منزل'' کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی صحافی اخلاق احمد کی کتاب پر صحافی وسعت اللہ خان جبکہ اے خیام کی کتاب پر شاعر صبا اکرام نے گفتگوکی اس موقع پر مجلس صدارت کے فرائض مستنصرحسین تارڑنے انجام دیے۔
یہ بات معروف ناول نگار مستنصرحسین تارڑ نے عالمی اردوکانفرنس کے دوسرے دن اپنے اعزاز میں منعقدہ ''اعتراف کمال'' کی تقریب سے خطاب میں کہی، مستنصرحسین تارڑ نے کہا کہ تخلیق کار میں موجود ''تخلیقی آگ'' کسی بدترین جگہ یاحالات میں بھی اپناکام دکھاسکتی ہے اور بدترین حالات میں بھی ادب تخلیق کیا جاسکتا ہے تخلیق کارمیں چھپی تخلیقی آگ کوکسی خاص ماحول کی ضرورت نہیں ہوتی ان کاکہنا تھاکہ مذہب بدلتا رہتا ہے تاہم ثقافت نہیں بدلتی کئی پشتوں قبل ان کے آباؤ اجداد سکھ سے مسلمان ہوئے تھے لیکن اب بھی ان میں پنجاب کی ثقافت اور رنگ موجود ہے جوتبدیل نہیں ہوا، اس موقع پر رضا علی عابدی نے تبصرے میں ان کے ناولوں میں موجود نسوانیت پر تبصرہ کیا کہ ہرمرد اورخصوصاً ادیب میں یہ پہلوموجود ہوتا ہے جوان کی تحریر میں بھی نظرآتا ہے۔
عبداللہ حسین نے اپنے تبصرے میں کہا کہ مستنصرحسین تارڑ کی سنجیدہ ناول نگاری کا دور ان کے ناول''بہاؤ''سے شروع ہوتا ہییہاں افسانہ نگاری کا رواج ہے ناول لکھنے میں بہت محنت کرتی پڑتی ہے اس لیے ناول کم لکھے جاتے ہیں جبکہ کم وقت اورکم محنت کے ساتھ افسانہ لکھا جاسکتاہے، عالمی اردوکانفرنس کے دوسرے روز صحافی اخلاق احمد کی کتاب ''ابھی کچھ دیرباقی ہے'' اوربھارتی ادیب اے خیام کی کتاب ''سراب منزل'' کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی صحافی اخلاق احمد کی کتاب پر صحافی وسعت اللہ خان جبکہ اے خیام کی کتاب پر شاعر صبا اکرام نے گفتگوکی اس موقع پر مجلس صدارت کے فرائض مستنصرحسین تارڑنے انجام دیے۔