ڈائریکٹر ایف آئی اے کرپٹ تفتیشی افسران کے تبادلے میں ناکام

تفتیشی افسران سہیل شیخ اورصادق علی کوڈائریکٹرایف آئی اے نجف مرزا نے حیدرآباد وسکھر رپورٹ کرنیکی تحریری ہدایت کی تھی

وکلاکی ملی بھگت سے افسران بیدخل ملزمان سے لوٹ مارمیں مصروف تھے،دونوں افسر ریلیو کردیے گئے،جوائننگ نہیں دے رہے،ذرائع فوٹو: فائل

ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون نجف مرزا کی جانب سے وکیلوں کی ملی بھگت سے بیرون ملک سے بے دخل ہونے والے ملزمان سے لوٹ مار میں ملوث تفتیشی افسران کے تبادلے کے احکامات پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

تفتیشی افسران سہیل شیخ اور صادق علی کو چند روز قبل حیدرآباد اور سکھر رپورٹ کرنے کی تحریری ہدایت کی گئی تھی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کی عدالت میں دائر کی جانے والی درخواست میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کے چند افسران بیرون ملک سے بے دخل ہونے والے افسران کی مجبوری سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور انھیں غیرضروری طور پر بھاری فیس کے عوض اپنے تجویز کردہ وکیل کرنے پر مجبور کرتے ہیں، ذرائع کے مطابق مذکورہ تفتیشی افسران اور مخصوص وکیلوں کے مابین خفیہ معاہدے کے تحت سادہ لوح افراد سے وصول ہونے والی فیس میں سے آدھی رقم تفتیشی افسران کی جیب میں چلی جاتی ہے چونکہ یہ رشوت وکیل کی فیس کی مد میں لی جاتی ہے اس لیے کوئی شخص رشوت وصولی کی شکایت بھی نہیں کرسکتا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ تفتیشی افسران کے تجویز کردہ وکیل ان افراد کا مقدمہ عدالت میں لڑنے کے بجائے انھیں اپنا جرم قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور عدالت پہلی یا دوسری پیشی میں جرمانہ کرکے ملزمان کو رہا کردیتی ہے، قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملزم کو اسی وقت وکیل کی ضرورت ہوتی ہے۔




جب وہ اپنے خلاف لگائے جانے والے الزام کا دفاع کرتا ہے، جرم قبول کرنے کی صورت میں وکیل کی کسی صورت بھی ضرورت نہیں ہوتی اور ان افراد پر الزام اتنا معمولی نوعیت کا ہوتا ہے کہ عدالت انسانی ہمدردی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے صرف چند ہزار روپے جرمانے کی ادائیگی پر ان کو رہا کرنے کا حکم دے دیتی ہے جبکہ وکیل کو ادا کی جانے والی فیس جرمانے کی رقم سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔

اس سلسلے میں شکایات ملنے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نجف مرزا نے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کے 2 تفتیشی افسران سہیل شیخ اور صادق علی کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا دونوں تفتیشی افسران کی جانب سے درج کیے جانے والے مقدمات میں ملزمان کی وکالت 2 مخصوص وکیلوں نے کی تھی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ وکیل اکثر اوقات انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل میں ہی پائے جاتے ہیں، تفتیشی افسران اور وکیلوں کے درمیان دیرینہ مراسم ہیں، ڈائریکٹر ایف آئی اے نے الزام ثابت ہونے پر سب انسپکٹر سہیل شیخ کاتبادلہ حیدرآباد اور سب انسپکٹر صادق علی کا تبادلہ سکھر کرنے کے احکامات جاری کیے تھے دونوں افسران کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ فوری طور پر ان احکامات پر عملدرآمد کریں تاحال یہ افسران انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ ریکارڈ کے مطابق ان افراد کو ڈائریکٹر ایف آئی اے کی جانب سے موصول ہونے والے احکامات کے فورا بعد ریلیو کردیا گیا تھا تاہم تاحال وہ اپنی نئی پوسٹنگ پر جوائننگ دینے کے بجائے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل میں روزانہ ''حاضری'' دے رہے ہیں۔
Load Next Story