پاسبان نے کوٹا سسٹم کوہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

کوٹا سسٹم کافائدہ وڈیروں، خانوں اور سرداروں نے اٹھالیا،عام دیہی نوجوان پیچھے رہ گیا

2013 میں کوٹا سسٹم عملاً ختم ہو گیا، اب تک چلاناغیرآئینی و غیر قانونی ہے،الطاف شکور (فوٹو: فائل)

HANOI:
پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور کی جانب سے کوٹا سسٹم کے خلاف ایک آئینی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔


پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کومعاشی طور پر بدترین حال میں پہنچانے کاذمے دار یہی کوٹا سسٹم ہے،کوٹا سسٹم کی بدولت وڈیروں، خانوں اورسرداروں کے بیٹے بڑی بڑی ملازمتوں پر قابض ہوگئے لیکن سندھ کے دیہات اور ملک کے دیگردیہی نوجوان پیچھے رہ گئے، یہ کوٹا سسٹم دراصل 2013 میں عملا ختم ہو گیا تھا لیکن اسے 2020 میں بھی چلایا جا رہا ہے جو غیر آئینی و غیر قانونی ہے۔

کوٹا سسٹم نے پاکستان کوتباہی کے دہانے پر پہنچا دیاہے، کوٹا سسٹم کی بدولت صلاحیت اوراہلیت نہ رکھنے والے افراد نے محکموں کا بیڑہ غرق کردیا،عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ پورے ملک سے کوٹا سسٹم کا خاتمہ کر کے میرٹ کا نفاذ یقینی بنایا جائے، نوجوانوں میں مسابقت کی دوڑ میں حصہ لینے کا جذبہ پیدااورکوٹا سسٹم کو غیر آئین وغیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے۔
Load Next Story