وزیراعظم آج افغانستان روانہ ہوں گےکرزئی سے ملاقات کرینگے
قیدیوں کی رہائی کامعاملہ بھی زیرغورآئیگا،ذرائع، ملاقات کاایجنڈاعلاقائی امن ہے،دفترخارجہ
قیدیوں کی رہائی کامعاملہ بھی زیرغورآئیگا،ذرائع، ملاقات کاایجنڈاعلاقائی امن ہے،دفترخارجہ. فوٹو:فائل
وزیراعظم نوازشریف افغانستان کے ایک روزہ سرکاری دورے پر آج(ہفتے کو) کابل روانہ ہوں گے۔دورے کے دوران وزیراعظم نوازشریف افغان صدرحامدکرزئی اورافغان اعلیٰ امن کونسل سے ملاقاتیں کریں گے۔
افغان صدرحامد کرزئی سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اورافغانستان سے نیٹو افواج کی واپسی کے بعدامن عمل کے حوالے سے باہمی تبادلہ خیال کیاجائیگا۔ بعدازاں وزیراعظم نوازشریف افغان اعلیٰ امن کونسل کے وفدسے بھی ملاقات کریں گے۔واضح رہے کہ وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالنے کے بعدنوازشریف کایہ افغانستان کاپہلادورہ ہوگا۔آئی این پی کے مطابق وزیر اعظم دورہ افغانستان کے دوران افغان صدرسے2014میں امریکی اورنیٹوافواج کی واپسی کے بعدپیداہونے والی صورتحال پربات چیت کرینگے۔
دورہ افغانستان میں پاک افغان سرحدکے دونوں جانب سیکیورٹی کی صورتحال اورروابط کوبہتربنانے سمیت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کوبڑھانے پربھی بات کی جائیگی۔ذرائع کاکہناہے کہ دورے میں پشاورسے کابل موٹر وے کی تعمیرپربھی تبادلہ خیال ہوگاجبکہ پاکستان میں قیدافغان طالبان رہنماؤں کی رہائی کامعاملہ بھی زیربحث لایاجائیگا۔ ادھردفترخارجہ کے ترجمان اعزازچوہدری نے بتایاکہ دورے کاایجنڈا دوطرفہ تعلقات،امن ومفاہمتی عمل اورعلاقائی تعاون پرمشتمل ہوگا،پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کوانتہائی اہمیت دیتاہے۔
افغان صدرحامد کرزئی سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اورافغانستان سے نیٹو افواج کی واپسی کے بعدامن عمل کے حوالے سے باہمی تبادلہ خیال کیاجائیگا۔ بعدازاں وزیراعظم نوازشریف افغان اعلیٰ امن کونسل کے وفدسے بھی ملاقات کریں گے۔واضح رہے کہ وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالنے کے بعدنوازشریف کایہ افغانستان کاپہلادورہ ہوگا۔آئی این پی کے مطابق وزیر اعظم دورہ افغانستان کے دوران افغان صدرسے2014میں امریکی اورنیٹوافواج کی واپسی کے بعدپیداہونے والی صورتحال پربات چیت کرینگے۔
دورہ افغانستان میں پاک افغان سرحدکے دونوں جانب سیکیورٹی کی صورتحال اورروابط کوبہتربنانے سمیت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کوبڑھانے پربھی بات کی جائیگی۔ذرائع کاکہناہے کہ دورے میں پشاورسے کابل موٹر وے کی تعمیرپربھی تبادلہ خیال ہوگاجبکہ پاکستان میں قیدافغان طالبان رہنماؤں کی رہائی کامعاملہ بھی زیربحث لایاجائیگا۔ ادھردفترخارجہ کے ترجمان اعزازچوہدری نے بتایاکہ دورے کاایجنڈا دوطرفہ تعلقات،امن ومفاہمتی عمل اورعلاقائی تعاون پرمشتمل ہوگا،پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کوانتہائی اہمیت دیتاہے۔