کورونا کا صبر آزما منظر نامہ

پاکستان نے فوری اقدامات کیے اور وبا سے نمٹنے کے لیے قومی رسپانس پروگرام ترتیب دیا جو کہ دنیا کا بہترین پروگرام ہے۔

پاکستان نے فوری اقدامات کیے اور وبا سے نمٹنے کے لیے قومی رسپانس پروگرام ترتیب دیا جو کہ دنیا کا بہترین پروگرام ہے۔ (فوٹو: فائل)

معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس معاشی مضمرات کے حوالے سے مستقبل کا ہولناک معمہ ہے جو ''سر آئینہ ترا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے'' کی عجیب کہانی دکھا سکتا ہے۔

ان کی دلیل یہ ہے کہ جو لوگ کورونا کو کمائی کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں وہ اقتصادی اور مالیاتی اسرارورموز سے نا آشنا اور کسی بڑی خوش فہمی کا شکار ہیں، جب کہ کورونا کے سنگین نتائج و عواقب پر سنجیدگی سے غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ فی الحال تو خبریں اسی نوعیت کی ہیں کہ پنجاب ، سندھ، خیبر پختونخوا، میں کورونا وائرس کے 131نئے کیسز کی تصدیق کے بعد ملک میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 184 ہوگئی ہے۔

پی ایس ایل (پانچ) فوری پر ملتوی کی گئی ہے۔ حکومت اور مشیر صحت کا وہ بیانیہ کہ شکر ہے ہمارے اندر سے وائرس کا سرچشمہ نہیں پھوٹا پیدا شدہ وسیع تر عدم اطمینان کے سامنے ایک دلچسپ سوالیہ نشان لایا ہے، مختلف حکومتی حلقے، اپوزیشن رہنما کورونا کٹس، فیس ماسک اور وینٹی لیٹرز سمیت دیگر ناگزیر سہولتوں، طبی آلات کی عدم فراہمی پر خاصے برہم ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اسکریننگ کے معیار سے غیر مطمئن نظر آتے ہیں، انھوں نے درد مندی کے ساتھ بین الصوبائی سرحدیں بند کرنے کی تجویز دی ہے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ سندھ کے مقابلے میں پنجاب میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد دو، تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔

پنجاب میں کورونا کے مریض سامنے نہ آنا اچھی بات ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہاں ٹیسٹ ہو بھی رہے ہیں یا نہیں؟ انھوں نے کہا تفتان سے مسافروں کو ہم نہیں لائے، وفاقی حکومت لائی ہے، تفتان میں کئی کئی لوگ ایک ساتھ بیٹھے تھے، یہ قرنطینہ نہیں تھا۔ ان کی تشویش پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ سندھ پر وائرس زدہ افراد کا ملبہ گرنے کا زیادہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، صورتحال کا سدباب کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

وزیر صحت کے پی کے تیمور خان جھگڑا نے بتایا کہ تفتان سے ڈیرہ اسماعیل خان آنے والے 19 زائرین میں سے15 میں کورونا کی تصدیق ہوگئی ہے، متاثرین کو ڈی آئی خان میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

تفتان سے سکھر آنیوالے اب تک 119 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 30 کیسز کراچی اور ایک کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ سندھ سے 150، خیبر پختونخوا میں 15، بلوچستان میں 10، اسلام آباد میں 4، گلگت بلتستان میں 3 اورپنجاب میں کورونا کے دو مریض ہیں۔ آزاد کشمیر میں ابھی تک کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ ادھر افغانستان سے طالبان کا بیان سامنے آیا ہے جس میں خطرہ ظاہر کیا گیا ہے کہ40 ہزار قیدی کورونا خطرے سے دوچار ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے صوبہ کی جیلوں میں قیدیوں کی اسکریننگ کا حکم دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ چیف سیکریٹری تمام قیدیوں کی اسکریننگ کراکر رپورٹ پیش کرے، جسٹس احمد علی نے کہا کہ تمام مطلوبہ ڈیوائسز فراہم کی جائیں۔


میڈیا کے فہمیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں کوروناکی شدت بہت خطرناک ہوسکتی ہے، حکومت اقدامات کررہی ہے مگر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، کیسز کا بڑھنا تشویش ناک ہے، سیاسی رہنماؤں کے مطابق حفاظتی کٹس مہیا نہیں کی جارہیں، عوام میں خوف وہراس پھیل رہا ہے، لاک ڈاؤن کی افواہوں کی گردش رکنی چاہیے، حکومتی کیڈر ، وزرا اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو ملک بھر میں عوام کے تالیف قلوب، اطمینان اور تسلی کے لیے عوام رابطہ مہم شروع کرنا چاہیے۔

یہ ڈس انفارمیشن اور فیک نیوز کا زمانہ ہے، مفاد پرستوں اور منافع خوروں کی ایسے موسم میں خوب چاندی ہوجاتی ہے، وہ آزمائش کی اس گھڑی میں بھی عوام کو لوٹنے، دھوکا دینے اور اپنی جیبیں بھرنے سے باز نہیں آتے۔ لہذا وفاق اور صوبوں کو قومی یکجہتی، سیاسی ہم آہنگی، اور کورونا کے پیش قدمی کو روکنے کے لیے عوام کے لیے مناسب پیکیج یا فنڈز جاری کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، کورونا سے متاثرہ خاندانوں کو راشن وغیرہ ضرورت کے مطابق جلد پہنچنا ضروری ہے۔

پہلی بار ہوا ہے کہ کورونا وائرس کے ''آؤٹ بریک '' کے سیاق وسباق میں مسلم دنیا کے اہم اور غیرمعمولی مذہبی اقدامات معاصرتاریخ اور میڈیا کے ذریعے اقوام عالم کی روحانی زندگی کا حصہ بن رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا سے قوم کو روزانہ آگاہ رکھا جائے، کسی بھی ممکنہ صورت حال میں عالمی بینک یا عالمی اداروں سے رابطہ کیاجائے، وائرس کے انسداد سے متعلق فیصلوں سے عوام میں خوف پیدا نہ ہو، پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل نے کورونا کے پیش نظر مذہبی اجتماعات سے متعلق رہنما اصول، سفارشات تیار کرلیں، کونسل نے قراردیا کہ حکومت جمعہ اجتماع پر پابندی لگائے تو عمل کرنا ضروری ہے، علمائے کرام طویل بیان کے بجائے مختصر خطبہ دیں، بچے اور بزرگ مساجد نہ جائیں،وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ علاج معالجہ سنت نبوی ؐ ہے۔کونسل کے سربراہ قبلہ ایاز نے کہا کہ حتمی فیصلہ حکومت کا ہوگا۔

دریں اثنا ملتان میں کورونا کے ایک مریض کی تصدیق ہوئی ہے، چوالیس سالہ امیر عباس کو تین روز قبل تفتان سے نشتر اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ شرقپور میں ایک مشتبہ مریض سامنے آ گیا۔ ایران سے آئے 777زائرین اس وقت قرنطینہ میں ہیں، معاون خصوصی صحت ظفر مرزا نے پریس بریفنگ میں کہا کہ کورونا کے تدارک کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں پر فوری اطلاق ہوچکا ہے،14لیبارٹریوں کو کٹس فراہم کی ہیں جہاں مفت ٹیسٹ ہوں گے۔

پنجاب حکومت نے داتا گنج بخش، بابا فرید، بلھے شاہ کے درباروں سمیت صوبے بھرمیں تمام 546 چھوٹے بڑے مزارات زائرین کے لیے بندکردیے ہیں تاہم مساجد نمازوں کے اوقات کے دوران کھلی رہیں گی، مندروں، گرجاگھروں اورگورودوارں میں مذہبی عبادت کے علاوہ دیگر تقریبات کے انعقاد پر پابندی لگادی گئی ہے۔ ہندو پنچایت نے ہندوبرادری سے مندروں میں آنے کے بجائے گھروں میں ہی عبادت کرنے کی اپیل کی ہے۔

لاہور کے شاہی قلعہ سمیت صوبے بھر کے ایک سو سے زائد تاریخی مقامات اور باغات کو سیاحوں کے لیے بند کردیا گیا ہے، دیگر اہم مقامات میں شالامارباغ، مقبرہ جہانگیر، کٹاس راج، ہرن مینار، ٹیکسلا، قلعہ سیالکوٹ، ہڑپہ اور دیگر شامل ہیں۔ اسلام آباد میں ہیرٹیج میوزیم، لوک ورثہ اورپاکستان مانومنٹ میوزیم شکرپڑیاں بھی تاحکم ثانی بند کردیا گیا۔ ایوبیہ چیئر لفٹ سروس بھی معطل کر دی گئی، مزار قائد اور باغ قائداعظم بھی عوام کے لیے بند کر دیے گئے۔

سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کو پروموٹ نہ کرتے ہوئے ان کے امتحانات یکم جون جب کہ نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات 15جون کو کرانے کا اعلان کیا ہے فیصلے کے تحت نئے تعلیمی سال کا آغاز جون سے ہوگا ، پندرہ جون کے بعد نئی کلاسزشروع ہوں گی۔

عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمایندے ڈاکٹر پالیتھا گونارتھنا ماہی پلا نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ چین میں کورونا پھیلنے کے بعد پاکستان نے فوری اقدامات کیے اور وبا سے نمٹنے کے لیے قومی رسپانس پروگرام ترتیب دیا جو کہ دنیا کا بہترین پروگرام ہے۔ ضرورت چوکنا رہنے کی ہے، پاکستان سمیت عالمی مارکیٹس کے کریش ہونے کے خطرات سر پر آپہنچے ہیں، حکومت آئی ایم ایف سے کورونا ریلیف لینے میں کامیاب ہوچکی ہے، اچھی نوید ہے مگر ملک معیشت،سیاسی رسہ کشی اور کورونا کے تکونی منجدھار میں پھنسا ہے اس سے نکلنے کی صائب تدبیر وقت کا تقاضہ ہے۔
Load Next Story