کورونا کے خلاف جنگ جاری رہے گی

وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام ادارے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی ذمے داریاں نبھا رہے ہیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام ادارے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی ذمے داریاں نبھا رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

کورونا ایک عالمی وبا کی صورت میں کم وبیش دنیا کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، افسوسناک خبر ہے کہ پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے دو مریض چل بسے ہیں۔

متاثرین کی تعداد بھی تین سو سے تجاوزکرچکی ہے، جس میں مزید اضافے کے آثار بھی نظر آرہے ہیں۔ یہ صورت حال انتہائی الارمنگ ہے، اس کا واضح مطلب ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف ایک جنگ کا آغاز ہوچکا ہے، بلاشبہ پوری پاکستانی قوم کورونا وائرس کو شکست دینے کے لیے پر عزم ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام ادارے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی ذمے داریاں نبھا رہے ہیں، یقینا عوام کے تحفظ اور سلامتی کے لیے اٹھائے گئے بر وقت اقدامات کو دنیا سراہا رہی ہے ۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے لیے یہ صورتحال کسی چیلنج سے کام نہیں ہے، ہم انسانی تاریخ کے ایک مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔

عالمی معیشت کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے جب کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ تین روزکے دوران انڈیکس 5642 پوائنٹس تک گرگیا ہے، آنے والے دن مزید کٹھن ہوسکتے ہیں۔ پاکستانی دنیا کی زندہ جاوید قوم ہیں۔اس وقت پوری قوم اور تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔

یہ درست ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نہیں چاہتے کہ ملک کو لاک ڈاؤن کرکے خوف کی فضاء قائم کی جائے اور لوگوں کا کاروبار اور معمولات زندگی متاثر ہو ں۔ بلاشبہ حکومت پہلے دن سے ہی کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے احسن اقدامات اٹھا رہی ہے اور وزیر اعظم خود سارے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے شاپنگ مالز ، ہوٹلز اور بڑی مارکیٹیں رات دس بجے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے ، میڈیکل اسٹور ، جنرل اسٹورز ، فیکٹریاں اور منڈیاں کھلی رہیں گی، مری سمیت سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا داخلہ بھی بند کردیا گیا ہے ۔کورونا سے نمٹنے کے لیے پانچ ارب کا فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے ، سرکاری دفاتر میں عوام کی آمد ورفت کو بھی محدود کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔ یہ فیصلے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی زیرصدارت اجلاس میں کیے گئے۔

وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 189 مشتبہ کیسز ہیں، 28 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ سندھ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر سندھ وبائی امراض ایکٹ کے تحت مزید پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ شورومز پر ہر طرح کی تجارتی وکاروباری سرگرمیاں 15 روزکے لیے معطل رہیں گی، انٹرسٹی ٹرانسپورٹ مکمل بند کر دی گئی ہے،گڈز ٹرانسپورٹ اور ادویات کی ترسیل پر مامورگاڑیوں پر اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا، جب کہ نجی اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ملازمین سے گھروں پر سے کام لینے کو ترجیح دیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات اپنی جگہ درست ، احسن اور قابل تعریف سہی، لیکن مقام افسوس ہے کہ اس مشکل صورتحال میںکچھ لوگ ذخیرہ اندوزی کے مرتکب ہورہے ہیں، ان کو قانون کے مطابق گرفتارکرکے سخت سزائیں دی جائیں تاکہ ملک میں مصنوعی غذائی قلت پیدا نہ ہو۔ تفتان میں کورونا قرنطینہ مرکز میں حالت زار سے متعلق ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔


ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تفتان میں بنائے گئے قرنطینہ مرکز میں صفائی اور سہولیات کے فقدان ہے۔ مرکز میں ٹوائلٹس کا بھی مناسب بندوبست نہیں جب کہ خواتین، بچوں سمیت تمام افراد ایک ہی جگہ مقیم ہیں،اگر یہ ویڈیو درست ہے تو یقینا حکومتی اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے،اس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ حکومت قرنطینہ سینٹر میں زائرین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کررہی ہے، وزیراعظم بذات خود تمام امورکی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔

سندھ حکومت نے احتیاطی تدابیرکے تحت صوبے میں 3اپریل تک سرکاری دفاتر بندکرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے، سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضی وہاب کاکہنا ہے کہ ٹرینوں میں ہزاروں مسافر روزانہ سفرکرتے ہیں جس کی وجہ سے کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ جس امرکی طرف صوبائی وزیر نے نشاندہی کی ہے وہ صائب ہے ہم توقع کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت اس پر غورکرنے کے بعد بہتر فیصلہ کرے گی۔

پاکستان کے تجارتی ومعاشی حب کراچی میں شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس، الیکٹرانکس، کپڑے، فرنیچرکی مارکیٹیں بند کر دی گئی ہیں۔ ادویات کے اسٹورز، پھلوں، سبزیوں، گوشت، دودھ اور اشیا خورونوش کی دکانیں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی جب کہ چائے ہوٹل، سی ویو، پارکس بند ہوں گے، نوٹیفکیشن کے مطابق سبزی، مچھلی مارکیٹ، سپر مارکیٹس، کھانے کے ہوٹل، فروٹ مارکیٹ، گوشت، مرغی کی دکانیں، میڈیکل اسٹورز، دودھ کی دکانیں 24گھنٹے کھلی رہیں گی، شہری ہوم ڈلیوری پر بھی سامان اورکھانا منگوا سکتے ہیں۔

سندھ حکومت کے اقدامات اپنی جگہ درست سہی لیکن عوام کی مشکلات کو بھی مدنظر رکھا جانا ضروری ہے، کیونکہ ابھی سے پولیس نے بلاجوازگرفتاریوںکا سلسلہ شروع کرکے اپنی کمائی کی نئی راہ ڈھونڈ لی ہے۔ خیبرپختون خوا میں جاں بحق ہونے والا متاثرہ مریض حال ہی میں دبئی سے آیا تھا، مریض میں کورونا وائرس کی لیبارٹری نے تصدیق کی تھی، محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں 19 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس میں اب دو مریض وفات پا چکے ہیں۔

ساری کاوشیں اپنی جگہ لیکن یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ابھی تک اس وائرس کا علاج دریافت نہیں کیاجاسکا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ویکسین دنیا میں بنائی جاسکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اس وائرس کے باعث تقریبا آٹھ ہزار افراد اب تک لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی ہے جہاں صورتحال انتہائی بدترین ہوگئی ہے۔ اس انتہائی خوفناک صورتحال میں ایک خوش آیند خبر بھی ہمارے نمایندے کے توسط سے سامنے آئی ہے۔

خبرکے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیزکے سربراہ ڈاکٹرطاہرشمسی نے دعویٰ کیا ہے کہ کوروناوائرس کا علاج موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میںکورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افرادکے جسم میں بننے والی اینٹی باڈیزسے وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوںکا علاج ممکن ہے، طبی زبان میں اس تیکنیک کوPassive immunisationکہاجاتا ہے۔

یہ انکشاف انھوں نے ''ایکسپریس ٹربیون''سے خصوصی گفتگومیںکیا ہے۔ ہم ان سطورکے ذریعے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں کے سدباب کے لیے بھی اقدامات اٹھائے کیونکہ بہت سی ایسی جھوٹی خبریں، ویڈیوز، آڈیوز زیر گردش ہیں جن کے باعث عوام میں خوف اور سراسمیگی پھیل رہی ہے۔

بعض عناصر اس صورتحال پرکچھ اس انداز سے تبصرے کررہے ہیں کہ ہمارا ایمان کمزور پڑجائے، لیکن ان عناصرکو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کوئی بھی مسلمان موت سے نہیں ڈرتا،کیونکہ زندگی وموت کا مالک رب کائنات ہے جو بھی آزمائش آتی ہے اس کا ہم بحیثیت مسلمان بلاخوف وخطر مقابلہ کرتے ہیں۔ کورونا وائرس کے خلاف ہم بحیثیت پاکستانی قوم حالات جنگ میں ہیں اور انشاء اللہ اس وائرس کے خلاف آخری فتح بھی ہماری ہوگی۔ بس ان سب احتیاطی تدابیر کو اختیارکرنا ہمارا فرض عین ہے، باقی شفاء منجانب اللہ ہے، یہ ہمارا پختہ ایمان ہے۔

 
Load Next Story